دشمن ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا

دشمن ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا
 دشمن ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا

  

شہباز شریف نے شاہی قلعہ لاہور میں پاکستان کے70ویں یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی تقریب میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن اس بات کا بھی متقاضی ہے کہ اسے احتسابی عمل کا حصہ بنایا جائے۔ 70سال کی بیلنس شیٹ کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ ہم نے کیا کھویا اورکیا پایا ہے؟ دشمن وطن عزیز کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ ملک کے ایٹمی قوت بننے کا سہرا پوری قوم کے سر ہے۔

وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہا کہ آج پوری قوم 70واں یوم آزادی جوش و خروش سے منا رہی ہے اور ہمیں قومی دن کے موقع پر سیاست سے بالا تر ہو کر اتحاد، یگانگت، محبت اور باہمی احترام کے جذبات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس بات کا بھی جائزہ لینا ہے کہ پاکستان ایٹمی قوت اور ہمارے ملک کومیلی آنکھ سے دیکھنے والے دشمن کو کچل دینے کی طاقت رکھنے کے باوجود یہ ملک سیاسی اور معاشی طور پر محکوم کیوں ہے؟ یہ ہمارے لئے لمحۂ فکریہ ہے اگر ہم نے یہ موقع بھی ضائع کردیا اور تقاریر اور اشعار کا سہارا لے کر گہری نیند سوتے رہے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ہم آج بھی من حیث القوم پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا فیصلہ کر لیں اور شبانہ روز دیوانہ وار محنت کریں تو خدا کی قسم پاکستان چند سال میں بھارت سمیت سب ملکوں کو پیچھے چھوڑ دے گا، مگر یہ صرف نعروں، تقریروں اور باتوں سے نہیں، بلکہ محنت، امانت، دیانت، ایثار و قربانی اور شفاف احتساب پر عمل پیرا ہونے سے ہی ہوگا۔

ہمیں آج اس بات کا بھی جائزہ لینا ہے کہ جرمنی کے شہر برلن میں ہونے والی جی20 کی میٹنگ میں بھارت کے وزیراعظم مودی اور دیگر رہنما تو نظر آئے، لیکن پاکستان یہاں کیوں موجود نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اسلامی تعلیمات، قائد ؒ اور اقبالؒ کے افکار و فرمودات پر عمل نہیں کیا۔ ہمیں آج قائد اعظم کی 11اگست 1947ء کو کی گئی اس تقریر کو بھی یاد رکھنا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ رشوت اور کرپشن زہر قاتل ہے۔ 70سال گزرنے کے باوجود اگر کوئی ماں یا بیٹی دوائی اور علاج نہ ملنے کے باعث مر جائے، قوم کے ذہین بچے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے زیور تعلیم سے محروم رہیں، ایک طرف دولت کے ڈھیر ہوں تو دوسری طرف غربت اور ظلم و زیادتی ہو تو اس کی وجہ کرپشن ہے۔

اس ملک کی اشرافیہ کی چوکھٹ پر زندگی کی ہر نعمت موجود رہتی ہے، لیکن پنجاب کے میدانوں، بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں، مہران کی وادیوں اور خیبر پختونخوا کے برف پوش پہاڑوں میں بسنے والوں کی بڑی تعداد بنیادی سہولتوں سے محروم ہو اور یہاں کی بیٹیوں کو یہ خوف لاحق رہے کہ کوئی درندہ ان کی عزت لوٹ لے گا تو اس کی وجہ بھی کرپشن ہے۔ ملک کو کنگال اور بد حال کرنے کی ذمہ دار اس ملک کی اشرافیہ ہے۔ یہاں سیاسی بنیادوں پر اربوں روپے کے قرضے معاف کرانے والے موجود ہیں۔ یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جن کی کرپشن کے سکینڈلز کے چرچے ہیں۔ قومی دولت کو لوٹنے والوں نے پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ قومی وسائل لوٹنے والوں کے یورپ، کینیڈا اور دبئی میں محلات ہیں جبکہ پاکستان میں غریب دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔ اگر ملک کوصدمے برادشت کرنا پڑے ہیں تو اس کی وجہ کرپشن اور اشرافیہ کی لوٹ مار ہے اور آج اشرافیہ مجھ سمیت کٹہرے میں کھڑی ہے اور آج ہمیں جواب دینا ہے، کیونکہ اشرافیہ اپنی تقدیر تو بدلتی رہی، لیکن اس قوم کی تقدیر کو خراب کرتی رہی۔ مساوی حقوق سب کو ملنا ہی پاکستان کے حصول کی بنیاد تھی ،لیکن افسوس یہ بنیادی اور اہم کام نہ ہوسکا۔

شہباز شریف نے شاہی قلعہ کے تاریخی عالمگیری گیٹ پر پرچم کشائی کی۔ پرچم کشائی کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا اور خصوصی دعا بھی کی گئی۔ وزیراعلی نے سکاؤٹس اور سکولوں کے طلبا و طالبات کے ساتھ مل کر ملی نغمہ گایا اور وہاں موجود بچوں اور بچیوں سے خصوصی شفقت کا اظہار کیا۔وزیراعلی نے تحریک پاکستان کے ہیروز کو خراج عقیدت پیش کیا اورمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آئیے آج اللہ تعالی کے حضور سربسجود ہوں اور ملک کی سلامتی اور ترقی وخوشحالی کے لئے دل کی گہرائیوں دعا کریں۔

مزید : کالم