سارتر، نوبل پرائز اور پاکستان

سارتر، نوبل پرائز اور پاکستان
 سارتر، نوبل پرائز اور پاکستان

  

دُنیا بھر میں کسی بھی غیرمعمولی کارنامے پر جو بڑے سے بڑا ایوارڈ دیا جا سکتا ہے اسے نوبل پرائز کہتے ہیں۔ نوبل پرائزکسی فردکے لئے ہی نہیں اس کے مُلک اور قوم کے لئے بھی غیرمعمولی اعزاز کی بات ہوتی ہے۔پاکستان میں یہ ایوارڈ ڈاکٹر عبدالسلام اور ملالہ یوسفزئی کو ملا ہے۔ دنیا میں جن شخصیات کو یہ ایوارڈ ملتا ہے وہ تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں، مگر فرانس کے ژاں پال سارتر نے 1964ء میں یہ عظیم انعام لینے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ادیب کو ان اعزازات کی ضرورت نہیں ہوتی۔آج ژاں پال سارتر اس وقت یاد آئے جب ہمارے دوست، ادیب اور عظیم پبلشر فرخ سہیل گوئندی کی فیس بُک پر ایک پوسٹ دیکھنے کا اتفاق ہوا،جس میں وہ پیرس کے کیفے ڈی فلور میں اس میز پر بیٹھے ہوئے تھے،جہاں عظیم مارکسٹ فلاسفر ژاں پال سارتر بیٹھا کرتے تھے۔ اس کیفے اور اس میز کو دنیا بھر میں ایک غیر معمولی مقام حاصل ہے۔ مجھے امریکہ اور انگلینڈ جانے کا موقعہ مل چکا ہے۔ اگر کبھی فرانس جانے کی خواہش پوری ہوئی تو اس کیفے میں ایک کافی کا کپ ہی فرانس یاترا کا مقصد پوراکرنے کے لئے کافی ہو گا۔ سارتر نے نوبل پرائز لینے سے ہی انکار نہیں کیا تھا، بلکہ انہوں نے فرانس کا قومی ایوارڈ لیجن آف آنر بھی قبول نہیں کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اگر لینن پرائز دیا جائے گا تو وہ اسے بھی وصول کرنے سے معذرت کر لیں گے۔ ژاں پال سارتر 15اپریل 1980ء کو جب فوت ہوئے تو ان کے اس آخری سفر میں ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔ اُن کا شمار ان ادیبوں اور فلسفیوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے عالمی سطح پر انسانی سوچ کو متاثر کیا۔ ادب، فلسفے اور دیگر علوم میں انہوں نے شاندار اضافے کئے۔ ان کے تحریر کردہ ڈراموں نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔ تاہم وہ کسی ادارے سے وابستہ نہیں ہوئے۔ سارترمشرق کے ان صوفیوں کی یاد دلاتے ہیں،جو کہتے ہیں کہ حقیقی صوفی خطرے کے وقت سب سے آگے ہوتا ہے، جبکہ انعام کے وقت سب سے پیچھے ہوتا ہے۔ برصغیر میں چشتی بزرگوں نے اسلام کی تبلیغ میں شاندار کردار ادا کیا تھا۔ یہ بزرگ بادشاہ کے دربار کا حصہ نہیں بنتے تھے۔ بادشاہ ان کے ہاں حاضری دیتے تھے، مگر وہ بادشاہ کے ہاں نہیں جاتے تھے۔

پاکستان کے ادب اور صحافت کے متعلق بہت کچھ لکھا جاتا ہے۔ مغرب میں اچھا ادیب یا صحافی اسے سمجھا جاتا ہے، جس کی تحریر میں ’’حیرت‘‘ کا عنصر کسی نہ کسی صورت میں موجود ہوتا ہے۔ آپ امریکہ یا یورپ کے ممتاز کالم نویسوں کے کالم پڑھ لیں۔ ان کی تحریر کے متعلق یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ کیا لکھیں گے؟ کس کے حق میں لکھیں گے؟ کس کے خلاف لکھیں گے؟ اکثر کالم نویس شخصیات ہی نہیں نظریات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے بھی پائے جاتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں کسی کالم نویس کا نام لیں۔ موضوع بتائیں اور اکثر لوگ آپ کو بتا دیں گے کہ موصوف نے کیا لکھا ہو گا۔ ایسے احباب پر یہ الزام لگایا جا سکتا ہے کہ یہ صحافت نہیں پراپیگنڈا کرتے ہیں۔ ان میں سے متعدد احباب نے غیر معمولی شہرت بھی حاصل کی ہے۔ ان کی تحریریں پسندکی جاتی ہیں۔ ان کی جانبداری اور بدتمیزی کی خوب ڈیمانڈ ہوتی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ سیاسی پارٹی کے کارکنوں کو جن دلائل کی ضرورت ہوتی ہے وہ انہیں اپنے پسندیدہ ادیبوں یا کالم نگاروں کی تحریروں سے مل جاتے ہیں، یعنی جانبداری بھی صحافت میں خوب بکتی ہے۔ اس صورتِ حال پر حیرت اور دکھ کا اظہار کیا جا سکتا ہے ۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں تضادات زندگی کا معمول ہیں۔ ہم اللہ سے اچھے تعلقات رکھناچاہتے ہیں، مگر شیطان کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کا رسک نہیں لیتے۔ ینگ ڈاکٹر ہڑتال کرتے ہیں تو سینئر ڈاکٹر انہیں اس مقدس پیشے کا یہ بنیادی اصول یاد دلانے کا رسک نہیں لیتے کہ انسان کی جان بے حد قیمتی ہے اور طب کا شعبہ اِس لئے مقدس ہے کہ ڈاکٹر جان بچانے کا عظیم کام کرتے ہیں۔ پاکستان میں وکلا کے ججوں کے ساتھ ’’حسنِ سلوک‘‘ کی جو خبریں اخبارات میں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ آپ کو دُنیا بھر میں اس کی ’’نظیر‘‘ نہیں ملتی۔ ہمارے ہاں بہت قابل، لائق اور انتہائی محترم قانون دان موجود ہیں۔اکثر اخبارات میں ان کے ایسے بیانات کی تلاش رہتی ہے، جس میں انہوں نے عدالتوں کے احترام کی بات کی ہو اور ججوں کے ساتھ ناشائستہ رویئے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہو۔

ایبٹ آباد میں جب اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کیا گیا تو اس کے بعد یہ حقیقت منظر عام پر آئی کہ اس کامیابی کو حاصل کرنے کے لئے ڈاکٹر آفریدی کے نیٹ ورک کو استعمال کیا گیا تھا۔ اس پر پاکستان میں تو کوئی توجہ نہیں دی گئی تاہم امریکہ کے تقریباً تمام بڑے ڈاکٹروں نے متفقہ طور پر صدر اوبامہ سے سخت احتجاج کیا اور انہیں یاد دلایا کہ اقوام متحدہ کے اصولوں اور امریکہ کے قوانین کے مطابق صحت اور دیگر فلاحی کام کرنے والے کارکنوں کو انٹیلی جنس ادارے استعمال نہیں کر سکتے ہیں اور اس معاملے میں بڑی واضح قانون شکنی ہوئی ہے۔ پاکستان میں اب ایسے لوگوں سے کم کم ملاقات ہوتی ہے جو اپنے اصولوں کی خاطر عہدوں یا دولت کو ٹھوکر مار دیتے ہیں۔ ایک برطانوی دانشور نے لکھا تھا کہ انگلینڈ میں جمہوریت اور شخصی آزادیوں کا کریڈٹ یہاں کے جمہوری اداروں کو دیا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات کسی حد تک درست ہے لیکن یہ مکمل سچائی نہیں ہے۔ درحقیقت اس کا کریڈٹ برطانوی عوام کے اس جمہوری رویئے کو جاتا ہے،جو جمہوریت اور آزادی اظہار کے خلاف کچھ برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں اگر ان اداروں کو توڑ بھی دیا جائے تو اس جمہوری روح کی بدولت یہ ادارے دوبارہ جنم لے لیں گے۔ آگے چل کر اس دانشور نے ایک بڑی فکر انگیز بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آپ لوگوں کو زبردستی غلام تو بنا سکتے ہیں، مگر انہیں آزاد ہونے پر مجبور نہیں کر سکتے۔قومی معاملات میں ہمارے رویئے اس امر کا ثبوت ہیں کہ ہم آزاد تو ہو گئے ہیں، مگر آزاد انسانوں جیسے رویئے اپنانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

پاکستان اپنی آزادی کے 70 سال پورے کر چکا ہے۔ ہم کرپشن کی ہوشربا داستانیں سنتے ہیں، اقتدار و اختیار کے غلط استعمال کے رونگٹے کھڑے کرنے والے تذکرے سنتے ہیں، مگر ایسے وزیروں کی کوئی خبر نہیں ہوتی جو اس لئے استعفیٰ دے دیتے ہیں کہ ان کے محکمے میں کوئی حادثہ ہو گیا تھا۔ اقتدار و اختیار کے لئے کسی بھی حد تک گرنے والوں کی کہانیاں منظر عام پر آتی رہتی ہیں جن کو سن کر اکثروہ لطیفہ یاد آتا ہے کہ ایک بھانڈ کو صدرِ مملکت کے عہدے کی پیش کش کی گئی۔ بھانڈ نے اس کو قبول کرنے کے لئے ایک دن کی مہلت طلب کی۔ دوسرے دن اس نے صدرِمملکت کے عہدے کو اس شرط پر قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی کہ وہ صدارت کے ساتھ ساتھ اپنا بھانڈ کا ’’عہدہ ‘‘بھی نہیں چھوڑے گا۔ گزشتہ ایک صدی میں فرانس میں بے شمار سربراہانِ مملکت اقتدار میں آئے اور رخصت ہو گئے۔ دُنیا کے اکثر ممالک میں ان کا نام بھی کسی کو یاد نہیں ہے، مگر ژاں پال سارتر سے ہر وہ شخص واقف ہے، جس کا عالمی ادب اور فلسفے سے تھوڑا سا بھی تعلق ہے۔ سارتر کے نوبل پرائز لینے سے انکار کرنے سے ہم یہ سبق سیکھ سکتے ہیں کہ عہدے اور ایوارڈ نہیں،بلکہ کریکٹر انسانی شخصیت کا سب سے بڑا کمال ہوتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں کریکٹر مسلسل زوال کا شکار نظر آ رہا ہے۔

مزید : کالم