وکلاء بمقابل ہائی کورٹ: چنگاری شعلہ بن رہی ہے

وکلاء بمقابل ہائی کورٹ: چنگاری شعلہ بن رہی ہے
 وکلاء بمقابل ہائی کورٹ: چنگاری شعلہ بن رہی ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ایک چنگاری جسے بروقت نہیں بجھایا گیا، اب ایک آتش فشاں بنتی نظر آرہی ہے، انا کا تیل اس چنگاری کو شعلہ بنارہا ہے۔میں نے یہ باتیں اس لئے ذرا افسانوی انداز میں کی ہیں کہ معاملہ بہت نازک ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے15اگست کو ملتان ہائی کورٹ بارکے عہدیداروں کو ان کی درخواست پر ملاقات کے لئے اسلام آباد بلایا تھا، لیکن ذرائع کے مطابق انہوں نے وکلاء کا موقف تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور توہین عدالت کیس میں ہائی کورٹ بار ملتان کے صدر شیرزمان اور ایک وکیل قیصر عباس کو لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہونے کا مشورہ دے دیا۔ یاد رہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے اس کیس کی تاریخ 21اگست 2017ء مقرر کررکھی ہے۔ پہلے دو اگست کو اس کیس کی سماعت تھی، اس دن سینکڑوں وکلاء نے لاہور ہائی کورٹ میں ہنگامہ کیا تھا اور اس دوران جو واقعات پیش آئے، ان کی وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پروائرل کی گئی اور اس معاملے کو مزید ہنگامہ پرور بنادیا گیا۔

یہ قصہ 24جولائی 2017ء کا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ ملتان بنج میں جسٹس محمد قاسم خان کی عدالت میں میٹروبس منصوبے کی زد میں آنے والی ایک مسجد کی دوبارہ تعمیر کے لئے درخواست زیر سماعت تھی۔ مسجد انتظامیہ کی طرف سے تقریباً 30وکلاء اس درخواست کی پیروی کے لئے پیش ہوئے۔اعلیٰ عدلیہ میں روایت یہ رہی ہے کہ ایسے کیسوں میں صرف ایک سینئر وکیل دلائل دیتا ہے اور باقی کی صرف حاضری لگائی جاتی ہے۔ اسی روایت کی پیروی کرتے ہوئے جسٹس محمد قاسم خان نے ایک سینئر وکیل کو بحث کے لئے کہا اور باقیوں کو بیٹھ جانے کی ہدایت کی۔ اس پر باقی وکلاء نے حاضری لگانے کا مطالبہ کیا۔ اس وقت عدالت میں ہائی کورٹ بار کے صدر شیر زمان بھی موجود تھے۔ وکلاء اور جج صاحب کے درمیان اس معمولی نکتے پر تلخ کلامی اس قدر بڑھی کہ وہ عدالت سے اُٹھ کر اپنے چیمبر میں چلے گئے۔ ان کے جاتے ہی وکلاء نے نعرے بازی شروع کردی ایک جونیئر وکیل نے جوش جذبات میں ان کی نیم پلیٹ اکھاڑ پھینکی۔ ہائی کورٹ بار کے صدر وکلاء کا موڈ دیکھ کر ان کے ساتھ ہوگئے، حالانکہ یہ وقت جلتی پر تیل نہیں پانی ڈالنے کا تھا۔ وکلاء نے جسٹس محمد قاسم خان کے تبادلے اور دیگر عدالتوں کے بائیکاٹ کی مہم بھی شروع کردی۔ یہ معاملہ روٹین کا تھا اور اسے سینئر وکلا درمیان میں پڑکر مذاکرات کے ذریعے حل کراسکتے تھے، مگر آناً فاناً کچھ ایسے اقدامات اٹھائے گئے کہ صورت حال قابو سے باہر ہوتی چلی گئی۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے اس واقعہ کا سخت نوٹس لیا۔ دو ججوں پر مشتمل ایک کمیٹی بناکر ایک روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا، دوسری طرف ملتان بنچ سے تمام جج واپس بلانے اور ملتان بنچ کے تمام دفاتر تاحکم ثانی بند کرنے کے احکامات بھی جاری کردیئے۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب چنگاری کو شعلہ بننے کا موقع ملا،کیونکہ ملتان کے وکلاء پہلے ہی الگ صوبے اور ہائی کورٹ کے لئے تحریک چلائے ہوئے ہیں، ان کے لئے ہائی کورٹ ملتان بنچ کی بندش ایک بہت بڑی انتقامی کارروائی کے مترادف تھی، جبکہ وہ ملتان بنچ سے لودھراں اور ساہیوال کی علیحدگی پر پہلے ہی احتجاج کررہے تھے۔ وکلاء نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے اس اقدام کے خلاف سپریم کورٹ میں آئین کی شق184(3) کے تحت درخواست دائر کردی۔ اس پینشن کی اگرچہ ابھی سماعت شروع نہیں ہوئی، تاہم اس کے دائر ہوتے ہی چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے دفاتر بھی کھول دیئے،جج بھی تعینات کردیئے، مگر ساتھ ہی لاہور ہائی کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل ایک بنچ بناکر ملتان بار کے صدر شیرزمان اور وکیل قیصر عباس کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا اور اصالتاً پیش ہونے کا حکم دیا۔ اس نوٹس کو ملتان کے وکلاء نے اناکامسئلہ بنالیا اور اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کیا کہ صدر بار کسی صورت میں توہین عدالت کیس میں پیش نہیں ہوں گے۔ ملتان کے چند وکلاء اگلے روز توہین عدالت بنچ میں پیش ہوئے اور استدعا کی کہ معاملے کومذاکرات اور مصالحت سے نمٹایا جائے لیکن ان کی بات نہ مانی گئی اور صورت حال ایسی بنی جو ہائی کورٹ کی ڈیڑھ سوسالہ تاریخ میں نہیں دیکھی گئی۔

اب حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ نہ تو وکلاء بات ماننے کو تیار ہیں اور نہ ہی چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ قانون سے ہٹ کر توہین عدالت کے اس معاملے کو نمٹانا چاہتے ہیں۔ اس معاملے میں اب تک وکلاء کے تین گروپ بن چکے ہیں۔ ایک گروپ پروفیشنلز اور غیر سیاسی وکلاء پر مشتمل ہے، جو وکلاء کے احتجاج کی مذمت بھی کرتا ہے اور ملتان بنچ کو بند کرنے کے فیصلے کی بھی، البتہ وہ عدالت کے احترام پر زور دیتا ہے۔ دوسرا گروپ ان وکلاء کا ہے جو ہر صورت میں وکلاء کو فاتح دیکھناچاہتے ہیں اور صدر بار شیرزمان کو کسی صورت میں توہین عدالت بنچ کے سامنے پیش نہیں کرنا چاہتے اور تیسرا گروپ ان وکلاء کا ہے جو عدالت عالیہ کی حمایت کررہے ہیں اور انہیں دوسرے وکلاء غدار کہتے ہیں۔ صورت حال اس لئے بھی بگڑی ہے کہ بار کے نمائندے کا کام وکلاء کے مسائل بنچ سے ڈسکس کرتا بھی ہوتا ہے، مگر اس کیس میں بار کے صدر خود فریق بنے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف جب کسی جج کے خلاف وکلاء کو کوئی شکایت ہو تو وہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے نوٹس میں لائی جاتی ہے، مگر اس کیس میں چیف جسٹس خود توہین عدالت کیس کے بنچ کا حصہ ہیں، سوایک شدید قسم کا ڈیڈ لاک پیدا ہو چکا ہے، جو دونوں طرف کی ساکھ کے لئے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ان حالات میں ایسی شخصیات کا فقدان نظر آتا ہے جو وکلاء کی جائز باتیں عدلیہ تک پہنچاسکیں اور وکلاء کو بھی یہ باور کراسکیں کہ عدالتوں کے احترام کو وکلاء بھی یقینی بنائیں، کیونکہ اس سے ان کی بھی عزت بڑھے گی۔

اس وقت ملک کی جو صورت حال ہے اس میں بار اور بنچ کا تنازعہ ایک بڑے فتنے کی شکل اختیار کررہا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور چند وزراء کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرکے 25اگست کو جواب طلب کیا ہے، جبکہ 21اگست کو صدر بار ملتان کے خلاف توہین عدالت کیس میں ہائی کورٹ نے ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم جاری کررکھا ہے۔ اگر عدالت میں وکلاء کا عہدیدار پیش نہیں ہوتا تو یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ عدالتوں کا احترم کیا صرف سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے، باقی سب ماورا ہیں؟ اس حوالے سے میری سپریم کورٹ کے ایک وکیل وسیم شہاب سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا دونوں کیسوں میں کوئی مماثلت نہیں۔ سابق وزیر اعظم کو ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں نااہل قرار دیا گیا اور انہوں نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناکے توہین عدالت کی، جبکہ ہائی کورٹ بار ملتان کے صدر شیر زمان کے خلاف ابھی کوئی فیصلہ نہیں آیا۔ اس معاملے پر سرکاری عقابوں کی گہری نظر ہے اور وہ اس میں سے اپنے فائدے کی راہ نکالنے کے لئے بے قرار ہیں۔ ملتان کے وکلاء پچھلے سترہ دنوں سے ہڑتال پر ہیں اور صورت حال اس قدر جذباتی ہے کہ ہائی کورٹ بار کے صدر شیر زمان اگر توہین عدالت کیس میں پیش بھی ہونا چاہیں تو نہیں ہوسکتے، کیونکہ اس کے بعد وہ وکلاء کے غیظ و غضب کا شکار ہو جائیں گے۔ دوسری طرف چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ ہائی کورٹ کے جج کی صریحاً توہین کرنے والوں کو اس طرح معاف کردیں کہ وہ عدالت کے سامنے پیش ہونا بھی گوارانہ کریں۔ اب دیکھتے ہیں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور انا کی یہ جنگ کس طرح اپنے انجام کو پہنچتی ہے؟

 

مزید : کالم