بھارتی حکمرانوں کو مقبوضہ کشمیر کی ہڑتال کا تازہ پیغام

بھارتی حکمرانوں کو مقبوضہ کشمیر کی ہڑتال کا تازہ پیغام

بھارت کے یوم آزادی(-15اگست) پر دُنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے یومِ سیاہ منایا،پاکستان مقبوضہ اور آزاد کشمیر سمیت دُنیا بھر میں کشمیریوں نے احتجاجی ریلیاں نکالیں،جن میں بھارتی پرچم اور وزیراعظم نریندر مودی کے پتلے نذرِ آتش کئے گئے، فضائیں پاکستان اور کشمیریوں کے حق میں فلک شگاف نعروں سے گونجتی رہیں،بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی اور کاروبارِ زندگی مفلوج رہا،حریت قیادت کی اپیل پر دکانیں،کاروباری مراکز، بازار اور ٹرانسپورٹ بند رہی۔مقبوضہ کشمیر میں لوگوں نے اپنے گھروں اور دفاتر پر سیاہ پرچم لہرا کر بھارتی حکمرانوں سے اپنی نفرت کا اظہار کیا،جنہوں نے کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے، مظاہرے اور ریلیاں روکنے کے لئے پوری وادی کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا تھا،انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز معطل رہیں، جگہ جگہ سخت ناکہ بندی رہی،بعض مقامات پر باقاعدہ کرفیو لگایا گیا اور دوسری جگہوں پرکرفیو کی کیفیت رہی، آزاد کشمیر میں بھی کشمیریوں نے یوم سیاہ منایا اور مقبوضہ کشمیر میں اپنے بھائیوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔مظفر آباد، میر پور، کوٹلی،ہٹیاں بالا،بھمبر سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبات میں ریلیاں نکالی گئیں،غالباً کشمیر کی یہ صورتِ حال اور کشمیریوں کا جذبہ دیکھ کر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے ایک اور چال چلی ہے اور دہلی میں لال قلعے کی مرکزی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کشمیر کے معاملے پر مل کر کام کرنا ہو گا، گالی اور گولی سے مسئلہ حل نہیں ہو گا،ہمیں کشمیریوں کو گلے لگانا ہو گا۔

کشمیری ہر سال بھارت کے یومِ آزادی کو یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں یہ سلسلہ کئی برس سے جاری ہے اور اب تک اس میں کوئی کمی نہیں آئی، اِس موقع پر پاکستانی پرچم لہرائے جاتے ہیں جس سے کشمیریوں کی پاکستان سے محبت کا اظہار بھی واشگاف الفاظ میں ہو جاتا ہے ہر سال بھارت کے یومِ آزاد ی کے موقع پر یہ ’’ریفرنڈم‘‘ ہوتا ہے،جس سے بھارتی حکمران کوئی سبق سیکھنے کے لئے بظاہر تیار نہیں ہوتے اور پینترے بدلتے رہتے ہیں۔نریندر مودی نے اپنی تقریر میں بھی بہت سی دھمکیوں کے بعد تان اس پر توڑی کہ گالی اور گولی سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکتا،لیکن عملاً کشمیر میں گولی ہی کا راج ہے اور بھارتی مسلح افواج کی فائرنگ سے روزانہ کشمیری شہید ہو رہے ہیں،نوجوان کشمیری شہدا کے جنازوں کو روزانہ کندھا دیتے ہیں،لیکن اُن کا عزم متزلزل نہیں ہوتا۔ بھارت جن لوگوں کو ’’باہر سے آئے ہوئے دہشت گرد‘‘ کہتا ہے وہ نسلوں سے کشمیر میں رہ رہے ہیں اُن کے نام سب کو معلوم ہیں، اُُن کے خاندانوں کے بارے میں پورے کشمیر کا چپہّ چپہّ باخبر ہے،برہان وانی کون تھا، اُس کا باپ کون ہے، جو آج بھی کشمیر میں موجود ہے اِسی طرح دوسرے کشمیری شہدا بھی گمنام یا نامعلوم نہیں ہیں وہ آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں اُن کے پاس پتھر کے سوا کوئی ہتھیار نہیں اور یہ بات خود بھارتی فوجی افسر بھی تسلیم کر چکے ہیں۔

کشمیریوں نے اپنی بے بہا قربانیوں کے ذریعے اپنی جدوجہدِ آزادی کو جس مقام پر پہنچا دیا ہے اس کا اعتراف اب کشمیر کے وہ رہنما بھی کرنے لگے ہیں، جو اپنی حکومت کے دوران اپنی سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے اس جدوجہد سے لاتعلق ہو گئے تھے وہ بھی اب تسلیم کرنے لگے ہیں کہ جدوجہد آزادی کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا،مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو بھی یہ کہنا پڑا ہے کہ بھارتی حکمرانوں کو کشمیر کی مثالی ہڑتال سے سبق سیکھنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے حکمران دھوکہ دہی اور فریب کاری کے ذریعے آئین کی دفعہ-35اے کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ آئین میں خصوصی درجہ صرف مقبوضہ کشمیر کو ہی حاصل نہیں اور بھی کئی ریاستوں کو خصوصی درجہ دیا گیا ہے،گجرات سمیت کئی ریاستوں میں باہر کے لوگ زمین نہیں خرید سکتے،لیکن صرف کشمیر کو ہی نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے۔اُن کا کہنا تھا کشمیر ایک مسلم اکثریتی ریاست ہے اور یہی بات بی جے پی،آر ایس ایس اور دیگر انتہا پسند جماعتوں کو کھٹک رہی ہے۔

بھارت کے حکمرانوں کو اب مُلک کے اندر بھی ایسے مشورے مل رہے ہیں کہ وہ وقت ضائع کئے بغیر مسئلہ کشمیر کو حل کرے اور اس کا حل مذاکرات ہی ہیں،لیکن بھارت اس کی طرف نہیں آتا، اب اس کا یہ خیال ہے کہ کشمیر میں اُس نے ریاستی تشدد کی جو پالیسی اپنائی ہے اور ظلم و ستم کی جو سیاہ رات اِن اقدامات کی وجہ سے چھائی ہوئی ہے دُنیا کشمیریوں کی جدوجہد کو دہشت گردی سمجھ کر نظر انداز کر رہی ہے، حالانکہ آزادی کی جدوجہد اور دہشت گردی میں واضح لکیر کھینچی جا چکی ہے۔ کسی عالمی قانون کے تحت دونوں کو گڈ مڈ نہیں کیا جا سکتا اِسی اصول کے تحت بہت سے مُلک آزادی حاصل کر چکے ہیں،لیکن کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر قدیم ترین مسئلہ ہونے کے باوجود اب تک حل نہیں ہو سکا،بھارت نے دُنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی جو کوششیں شروع کر رکھی تھیں وہ اب بے نقاب ہو چکی ہیں۔ہر سال کشمیری دُنیا کے مختلف ممالک اور اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نیو یارک کے باہر جو مظاہرے کرتے ہیں اُن سے عالمی رائے عامہ مسئلہ کشمیر کی جزیات سے باخبر ہو چکی ہے اور بھارت اب زیادہ عرصے تک اس معاملے کو دبا نہیں سکتا۔

بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر ہونے والی ہڑتال سے یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ بی جے پی نے اگر کشمیر کی خصوصی حیثیت والی آئینی دفعات کو آئین سے خارج کرنے کی کوشش کی تو اس سے ایک نیا بحران شروع ہو جائے گا۔بی جے پی غالباً یہ سمجھتی ہے کہ اب تک وہ ہر حربہ اختیار کرنے کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو نہیں دبا سکی تو اب اس ’’آئینی راستے‘‘ کو اختیار کیا گیا ہے،کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعات53ء سے آئین میں شامل کی گئی تھیں اور آج تک کسی بھارتی حکومت کو یہ خیال نہیں آیا۔اگر کسی وقت یہ سوچ سامنے آئی تو بھی اسے رد کر دیا گیا، لیکن اب مودی کو اگر یہ راستہ سوجھا ہے تو جلد ہی اُنہیں معلوم ہو جائے گا کہ اُن کی سوچ غلط ہے، کیونکہ اب تک جو سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی وجہ سے اس کے ساتھ کام کرنے پر تیار تھیں اس معاملے پر وہ بھی اس کے خلاف ہو جائیں گی اور بی جے پی اس معاملے میں تنہا رہ جائے گی،اِس لئے اس دفعہ میں ترمیم کا خیال مودی کو اپنے ذہن سے جھٹک دینا چاہئے اور چال بازیوں کا راستہ چھوڑ کر سیدھے سبھاؤ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہئے،کیونکہ اب اِس مسئلے کے حل کا کوئی دوسرا آپشن باقی نہیں رہ گیا۔

مزید : اداریہ