نوجوانوں کے لئے زیادہ وسائل اور توجہ کی ضرورت

نوجوانوں کے لئے زیادہ وسائل اور توجہ کی ضرورت

پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو جدید علوم سے آراستہ کرکے ملک اور قوم کی ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندۂ تعبیر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 60فیصد ملکی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، انہیں اپنی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کرنے کے لئے مواقع دیئے جائیں گے اس کے لئے انہیں وسائل مہیا کرتے ہوئے با اختیار بنایا جائیگا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ان خیالات کا اظہار نوجوانوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کیاہے۔ جہاں تک نوجوانوں کی صلاحیتوں اور ان کے کردار کی بات ہے، ہمارے نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی سے لیکر فنونِ لطیفہ اور سپورٹس تک ، ہر شعبے میں نوجوانوں نے ایسے کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں کہ ملک و قوم کا نام روشن کرنے پر فخر کیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے یہ بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ ہمارے ہاں نوجوانوں نے وسائل اور مواقع کی کمی کے باوجود مختلف شعبوں میں اہم اور شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر ہمارے نوجوانوں کو بھرپور مواقع اور مطلوبہ وسائل میسر ہوں تو ان کے ناقابلِ فراموش اور شاندارکارناموں میں بہت زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ نوجوانوں کے لئے خوبصورت الفاظ کے ساتھ وقتی طور پر تو حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، مگر عملی طور پر انہیں مطلوبہ وسائل اور مواقع مہیا نہیں کئے جاتے۔ چاروں صوبوں میں نوجوانوں کی سرپرستی اور صلاحیتوں کے تناسب کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کی طرف سے انہیں ملک اور قوم کی ترقی اور روشن مستقبل کے لئے اپنا کردار ادا کرنے پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد سرپرستی نہ ہونے اور معاشی استحکام سے دوری کی وجہ سے مایوس رہتی ہے۔ ان کی صلاحیتوں کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ تکلیف دہ ہے۔ سب سے زیادہ پنجاب اور اس کے بعد سندھ ہی میں نوجوانوں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ کے پی کے اور بلوچستان کی حکومتیں اس معاملے میں بہت پیچھے ہیں حالانکہ نوجوانوں کو وسائل مہیا کرکے بااختیار بنانے کی کوششیں اس لحاظ سے سود مند ثابت ہوتی ہیں کہ ایسی پالیسی بہترین سرمایہ کاری قرار دی جاتی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نوجوانوں سے جو توقعات وابستہ کی جاتی ہیں، وہ ان پر پورا اترتے ہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ سرکاری اور نجی شعبوں میں انہیں وسائل مہیا کئے جائیں اور آگے بڑھنے کے لئے ان کی صحیح معنوں میں حوصلہ افزائی کرتے ہوئے سرپرستی کی جائے۔ یہ بات یاد رکھی جائے کہ جب نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو وہ نشے کی لعنت کاشکار ہو جاتے ہیں اور سٹریٹ کرائم سے لیکر سنگین جرائم تک میں ملوث ہو کر معاشرے اور حکومت کے لئے پریشانی کا باعث بنتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ خود کشی کارجحان بھی بڑھ جاتا ہے۔امید رکھنی چاہئے کہ نوجوانوں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جاتا رہیگا۔

مزید : اداریہ