اسلام آباد ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ۔۔۔ناموس رسالتﷺ

اسلام آباد ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ۔۔۔ناموس رسالتﷺ

تفصیلی فیصلہ(نا مْوسِ رسالتﷺ )

اسلام آ باد ہائی کورٹ، اسلام آباد

رِٹ پٹیشن 739سال 2017ء

سلمان شاہد( درخواست گزار)

بنام

وفاق پاکستان بذریعہ وزارت داخلہ و6 دیگر(مسؤل علیہم)

منجا نب درخواست گزار:

جناب محمد طارق اسد، حافظ منوّر اقبال، سید اقبال ہاشمی ، محمد آ صف گجر، چوہدری حفیظ اللہ یعقوب ،عمرا ن شفیق، خضر حیات خان، حافظ فرمان اللہ، محمد اصغر اعوان، حسن جاوید، شیخ محمد خضر الرشید،مس کلثوم اختر، انعام الرحیم، محمد وقاص ملک، ملک مظہر جاوید، حافظ آ صف علی تنبولی ،افتخاراحمد بشیر، محمدعزت خان،شیر حمیدخان، محمد ارباب عالم عباسی،ریاض حسین اعظم بوپارا، نیازاللہ خان نیازی، راجہ محمد شکیل عباسی،نعمان منیر پراچہ، شیخ احمد خان، چوہدری اصغر علی، بیرسٹر جہانگیر خان جدون، مس معراج ترین، ماجد رشید خان ، راجہ ظہورحسین،فرخ شہزاد، حافظ محمد اصغر، مرزا نبیل طاہر، محمد شاہد کمال خان ڈاکٹر محمد اسلم خاکی ، رضا خرم اورصائم الحق ستّی ایڈووکیٹس۔

منجانب وفاق پاکستان :

جناب اشتر اوصاف علی ، اٹارنی جنرل پاکستان۔

چوہدری عبدالخالق تھند، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل۔

جناب ارشد محمود کیانی، ڈپٹی اٹارنی جنرل۔

میاں عبدالروف، ایڈووکیٹ جنرل ، اسلام آ باد۔

چوہدری محمد رفاقت علی کھوکھر اور محمد ساجد حسین،اسٹیٹ کونسل۔

منجا نب وزارتِ داخلہ:

جناب عارف احمد خان، سیکرٹری اور

رضوان نیک، ایڈیشنل سیکرٹری

منجانب وزارتِ اطلاعات و نشریات:

جناب شاہد محمود کھوکھر ایڈووکیٹ،

شعیب احمد صدیقی سیکرٹری۔

سردار نواز احمد سکھیرا، سیکرٹری اورجناب ناصر جمال، ڈائریکٹر جنرل ، آ ئی اینڈ پی۔

منجانب پیمرا ( PEMRA):

جناب علی شاہ گیلانی ایڈووکیٹ۔

منجانب پی ٹی اے:

بیرسٹر مْنور اقبال دوگل ایڈووکیٹ،

سید اسماعیل شاہ چیئرمین۔

علی اصغر ڈائریکٹر جنرل لا ء ، نعیم شرف اورمحمد خرم صدیق، ڈائریکٹر لاء

منجانب وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی:

رضوان بشیر خان سیکرٹری ، ناصر ایاز، ڈائیریکٹر لیگل، محمد ایوب ڈپٹی منیجر اور مسز امینہ سہیل ممبر لیگل۔

منجانب اسلام آ باد پولیس:

جناب طارق مسعود یاسین آ ئی جی ،ساجد کیانی ایس ایس پی اور اظہر حسین شاہ، ڈی ایس پی ، لیگل۔

منجانب ایف آ ئی اے:

جناب محمد املیش ڈائر یکٹر جنرل ، ڈاکٹر شفیق الرحمان پروجیکٹ ڈائریکٹر ، جناب مظہر اللہ کاکا خیل ڈائریکٹر ، یاسین فاروق ایڈیشنل ڈائریکٹر، شوہاب عظیم ڈپٹی ڈائریکٹرسائبر کرائم سیل اور قیصر مسعودایڈیشنل ڈائریکٹر لاء4 / قانونی مشیر، ایف آ ئی اے ہیڈ کوارٹر۔

منجا نب آ ئی ایس آ ئی:

کرنل ریٹائرڈ فیاض حسین چوہدری آ ئی ایس آ ئی۔

تاریخ ہائے سماعت:

07-03-2017 08-03-2017

09-03-2017 13-03-2017

17-03-2017 22-03-2017

27-03-2017 31-03-2017

تاریخ فیصلہ:

31-03-2017

جسٹس شوکت عزیز صدیقی :واقعات مقدمہ اس طرح ہیں کہ سائل سلمان شاہد نے اس آئینی درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ سلمان حیدر ، احمد وقاص گورایہ، عاصم سعید ، احمد رضانصیر اور ثمر عباس نامی اشخاص اور اْن کے دیگر ساتھی فیس بک پر بھینسا، موچی اور روشنی کے نام سے پیجز چلا رہے ہیں جن میں نبی کریم ﷺ ، اہل بیت، صحابہ کرام ، امہات المومنین ( رضوان اللہ علیھم اجمعین) ، قرآن مجید اور حتیٰ کہ اللہ رب العزت کی شان میں انتہائی گستاخانہ مواد بصورت خاکے ، تصاویر، تحریر، اور ویڈیوز نشر کیا جا رہا ہے۔ سائل نے اپنی آئینی درخواست میں ویڈیوزمیں نشر کیے جانے والے گستاخانہ مواد کا اقتباس بطور حوالہ نقل کیا ہے، علاوہ ازیں آئینی درخواست کے ساتھ بھی گستاخانہ مواد منسلک کیا ہے۔سائل نے اپنی ایک درخواست مورخہ 2017۔01۔21کا حوالہ دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اْس نے مسؤل علیہ نمبر 3 ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اسلام آباد کو مرتکبین گستاخی رسالت ، توہین دین ، توہین اصحاب رسول ، توہین امہات المومنین (رضوان اللہ علیھم اجمعین) اور توہین شعائر اسلام کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ،C/295 تعزیراتِ پاکستان اور دیگر دفعات کے تحت فوری مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی ہے۔ سائلان نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے شروع میں معاملے میں کچھ مستعدی دکھائی لیکن پھر اچانک اس معاملے پر عمل درآمد روک دیا گیا۔ سائل نے اس امرپر تشویش کا اظہار کیا کہ سوشل میڈیا پر ان پیجز کو بلاک نہیں کیا گیا اور اس طرح ریاستی ادارے بالخصوص انتظامیہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہیں لہذا عدالت سے استدعاکی گئی کہ ۔:

"i۔ مسؤل علیہ نمبر 2 تا 4 (وزارت اطلاعات ، ایف آئی اے اور پی ٹی اے )کو ہدایت کی جائے کہ وہ سوشل میڈیا پر بھینسا، مچھر ، موچی اور اسی طرح کے دیگر صفحات اور آئی ڈیز جو کہ گستاخانہ الفاظ ، خاکے اور ویڈیوز کے ذریعے توہین رسالتﷺ ، توہین صحابہ ، توہین امہات المؤمنین(رضوان اللہ علیہم اجمعین) ، توہین کتاب اللہ قرآ ن پاک اور حتیٰ کہ اللہ کی ذات کی توہین کے مرتکب ہیں، کو فی الفور بند کریں۔

ii۔ مسؤل علیہ نمبر 1 (حکومت پاکستان) کو ہدایت کی جائے کہ وہ مسؤل علیہ نمبر 3 (یعنی ایف آئی اے ) پر اس معاملے کی تفتیش اور تحقیق اور اصلی مجرموں تک رسائی اور اْن کے خلاف فوجداری کارروائی کے معا ملہ میں بے جا دخل اندازی اوراس معاملے میں غیر قانونی اثر و رسوخ ڈالنے سے بازو ممنوع رہے۔

iii۔ دیگر جو داد رسی بمطابق قانون ممکن ہو، وہ بھی کی جائے۔"

2۔حقیقت یہ ہے کہ عدالت ہذا کے روبرو ایک ایسا مقدمہ پیش کیا گیا ہے کہ جس کی تفصیلات نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیئے۔ آنکھوں کی اشک باری تو ایک فطری تقاضا تھا ، میری روح بھی تڑپ کر رہ گئی۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران اپنے دل و دماغ پر گزرنے والی کیفیت الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہو ں۔ قانون کے طلباء کی نظر میں ایک جج کی ایسی کیفیت کچھ نرالی تصور کی جاتی ہے اور یہ خدشہ رہتا ہے کہ جذبات میں شاید انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے لیکن یہ مقدمہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ذرا مختلف ہے کیونکہ اس مقدمہ میں عدالت کو کسی فریق کے ذاتی جھگڑے یا حق کا تصفیہ نہیں کرنا بلکہ اپنے نظرثانی کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ریاستِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بقاء ، سلامتی اور تحفظ کے ضمن میں اپنی آئینی و قانونی ذمہ داری کو پوراکرنا ہے۔اس مقدمے کی سماعت کے دوران یہ احساس بھی دامن گیر رہا کہ خود آقائے دو جہاں رسول پاک ﷺ کی ذاتِ گرامی مجھ سمیت ہر کلمہ گو سے یہ سوال کر رہی ہے کہ جب اللہ رحیم و کریم ، میرے اور میرے اہل بیت، برگزیدہ صحابہ کرام اور امہات المومنین رضوان اللہ علیھم اجمعین کے متعلق غلیظ ترین الفاظ ،بے ہودہ ترین ویڈیوز،واہیات ترین خاکے اور بد ترین پوسٹس انتہائی ڈھٹائی، دیدہ دلیری اور تواتر کے ساتھ سوشل میڈیا کے توسط سے پھیلائی جا رہی ہیں تو تمہیں نیند کیسے آرہی ہے؟ تمہاری سانسوں کی آمدورفت کا تسلسل کیسے برقرار ہے ؟ تمہاری زندگی میں روانی، تمہارے شب و روز میں چین وسکون اور تمہارے معاملات میں توازن کیسے قائم ہے ؟ اس مقدمے کی سماعت کے دوران یہ خوف بھی رہا کہ کیا سوشل میڈیا پر ایسے گھٹیا ، شرم وحیاسے عاری اورتما م اخلاقی حدود سے ماوراء پھیلا ئے گئے تحریری ، تصویری اور بصری مواد کی موجودگی میں ہم شافع محشر ﷺ ،ساقی کوثرﷺ ، سرور انسانیت ﷺ کو قیامت کے روز کوئی عذر پیش کرنے کے قابل ہوں گے؟ جو مواد عدالت کے سامنے پیش کیا گیا اْس کو دیکھ کر غلیظ ، بے ہودہ اور بے شرم جیسے الفاظ بہت ہی حقیرمحسوس ہو تے ہیں،بالعموم جج صاحباں عدالتی فیصلے تحریر کرتے وقت ایسے الفاظ سے گریز کرتے ہیں لیکن اس فیصلے کے حالات و واقعات کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ میں اپنے آپ کو صورت حال کی وضاحت کے لیے بادل ناخواستہ ایسے نامطلوب الفاظ کے استعمال پر مجبور پاتا ہوں۔میرا ضمیر اورقلم اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ میں وہ مواد اس فیصلے میں نقل کروں چونکہ ایساکرنے سے گستاخانہ مواد کو تحفظ ملنے کا خدشہ اور تاریخ کا حصہ بن جانے کا احتمال ہے۔ لہذااس مقدمے میں بطور استشہادیا بطور حوالہ اْس مواد کو نقل کرنے سے اجتناب میں ہی حکمت پنہاں ہے۔

3۔بد قسمتی سے سوشل میڈیا پر اس مواد کو ایک شرم ناک مہم کے ذریعے تواتر کے ساتھ پھیلایا گیا ہے اورسوشل میڈیا سے منسلک افراد جو کہ بلاشبہ کروڑوں کی تعداد میں ہیں ، اس مکروہ فعل سے آگاہ ہیں۔اس گستاخانہ مواد نے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں میں بجا طورپر اضطراب اورغم وغصہ کی آ گ سلگا دی ہے اور ان کی قوت برداشت اورصبر کا پیمانہ چھلکنے کو ہے، اْن کے ایمان وعشق کے جذبات پر ایسی کاری ضرب لگائی گئی ہے کہ ان کا جگرچھلنی اور روح گھائل ہے۔ اْن کے احساسات کو اس بری طرح سے مجروح کیا گیا ہے کہ وہ خود کو بے بسی کے عالم میں ایک مجرم سمجھنے لگے ہیں۔ ایسے نازک حالات میں یہ عدالت ایک خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔یہ عدالت اپنی نوجوان نسل کو جو لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں سوشل میڈیا سے وابستہ ہے ، بے بسی ، مایوسی، پریشانی ، اضطراب اور احساس ندامت کی ایسی بھیانک دلدل میں نہیں دھکیل سکتی جہاں وہ خود کوایسے نامراد اور بدبخت گستاخان کے خلاف کوئی قانونی اقدام اور کارروائی کرنے سے مایوس پاتے ہوں۔ عدالت خلاء میں سفر کرنے والے کسی سیارے کا نام نہیں ، بلکہ ایک ایسے حکیم کی مانند ہے جو معاشرے کی نبض شناس ہو۔یہ عدالت پاکستانی عوام کی توقعات اور عزم جو دستور پاکستان میں ایک عمرانی معاہدہ کی حیثیت سے عیاں ہے ، سے پوری طرح واقف ہے۔دوران سماعت مقدمہ ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالت عالیہ کا ایک جج ہونے کی حیثیت سے یہ فکر بھی میرے دامن گیر رہی کہ اس مقدمے کی سماعت میں کسی قسم کی کوتاہی میرے اْس حلف کو بھی داغ دار نہ کر دے جو میں نے دستورِ پاکستان کے تحت اللہ اور اس کے رسول کو گواہ بنا کے لیا ہے۔ لہذا اس مقدمے میں پوری کوشش کی گئی ہے کہ حتی المقدور اْن تمام عوامل کا تدارک اور سد باب کیا جا سکے اور ایسے تما م راستے مسدودکیے جا سکیں جن کے ذریعے چند عاقبت نا اندیش ،نبیﷺ مہربان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات اقدس پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ سیرت النبی ﷺ پرشہرہ آ فاق کتاب محسن انسانیتﷺ کے مصنف مولانا نعیم صدیقی مرحوم نے ایسے ہی حالات کی بابت اپنی قلبی کیفیت کااظہار اس انداز میں کیاتھا۔

پرانے ہو گئے بْو جہل و بْولہب کے طریق

نئے نئے ہیں یہاں فتنہ گر ، بس ایک نظر

عدو ہیں چار طرف، لڑ رہا ہوں میں تنہا

بسوئے معرکہء خیر و شر، بس ایک نظر

بس اک اشارۂ ابروکہ ہو جنوں انگیز

جہان عقل ہو زیر و زبر، بس ایک نظر

جو سوز و ساز ملا، اس میں تازہ لہر اُٹھے

ترے نثار، فقط اک نظر، بس ایک نظر

(جاری ہے)

مزید : اداریہ