زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں:میاں زاہد حسین

زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں:میاں زاہد حسین

کراچی(کامرس ڈیسک)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سیکریٹری جنرل اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بڑھتی درآمدات اور گھٹتی ہوئی برآمدات و ترسیلات کی وجہ زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں جس سے روپے پر دباؤ بڑھے گا جبکہ پاکستان کی ساکھ بھی متاثر ہو گی۔ کئی بین الاقوامی ادارے کسی بھی ملک سے صرف اس صورت میں معاملات کرتے ہیں جب اس کے زرمبادلہ کے ذخائرکم از کم تین ماہ کی درآمدات کی ادائیگی کے برابر ہوں۔میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ چار اگست کو زرمبادلہ کے ذخائر 14.3 ارب ڈالر رہ گئے تھے جس میں سے مرکزی بینک کے پاس تقریباً 10.4 ارب ڈالر موجود ہیں جبکہ باقی کمرشل بینکوں وغیرہ کے پاس ہیں جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر ماہ رواں کے آخر یا ستمبر کے پہلے ہفتے میں تین ماہ کے درآمدی بل سے کم ہو سکتے ہیں۔پاکستان کی اوسط ماہانہ درآمدات پانچ ارب ڈالر سے کچھ کم ہیں جنھیں پالیسی اقدامات سے مزید کم کیا جانا ضروری ہو گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کو ختم ہوئے ایک سال بھی نہیں گزرا ہے مگر زرمبادلہ کے ذخائر میں 4.2 ارب کی کمی واقع ہو چکی ہے۔ سال رواں کے پہلے مہینے میں برآمدات میں دس فیصد سے زیادہ جبکہ ترسیلات میں سولہ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے جو ناکافی ہے جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں بڑھی جسکی ملک کو اشد ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ فنانس بل میں غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے مگر اس سلسلے میں مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ غیر ضروری درآمدات کاسلسلہ بالکل ختم کیا جا سکے۔ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے روپے کی قدر کم نہ کی جائے، دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کو اپنا سرمایہ پاکستان لانے کیلئے ترغیبات دی جائیں جبکہ سوئس بینکوں اور دیگر مقامات پر موجود اربوں ڈالرکاکالا دھن پاکستان واپس لانے کیلئے بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔

مزید : کامرس