بھارت کو آزادی ملے 70سال ہو گئے لیکن فلم انڈسٹری اب بھی قیدوپابندی کاشکار ہے

بھارت کو آزادی ملے 70سال ہو گئے لیکن فلم انڈسٹری اب بھی قیدوپابندی کاشکار ہے

ممبئی (شوبز ڈیسک)بولی وڈ لائف کے مطابق بھارت کو انگریزوں سے آزادی حاصل کیے ہوئے تو 70 سال ہوگئے، لیکن فلم انڈسٹری اب بھی بہت سارے معاملات میں قید و پابندی کا شکار ہے، جسے اب ختم ہونا چاہیے۔رپورٹ کے مطابق فلم سازوں نے اپنی موویز کی کامیابی کے لیے فلموں میں آئٹم سانگز کو شامل تو کرلیا، مگر ان میں پرفارمنس کرنے والی اداکاراؤں کی دیگر گانوں میں جوہر دکھانے والی ہیروئنز کی طرح نہیں دیکھا جاتا۔بولی وڈ میں اس ٹرینڈ کو ختم ہونا چاہیے، آئٹم سانگ کرنے والی اداکاراؤں کو بھی تسلیم کرکے خواتین کی خودمختاری کی جانب قدم بڑھایا جائے۔ویسے تو بولی وڈ میں ایکشن اور کامیڈی فلموں کے سیکوئل ایک کے بعد ایک بن رہے ہیں، جن میں دھوم، دبنگ، گول مال، منا بھائی، ریس، مستی اور کرش جیسی فلمیں سرفہرست ہیں۔مگر حساس موضوعات پر بنی فلموں کے نہ تو سیکوئل بنائے جاتے ہیں، اور نہ ہی انہیں اس طرح دیکھا جاتا ہے، جس طرح دیگر فلموں کو دیکھا جاتا ہے۔بولی وڈ میں لپ اسٹک انڈر مائی برقعہ، فائر، گینگسٹر، فیشن، گیتا اور سیتا، پیج تھری اور ایسی ہی دیگر فلمیں بھی ہیں۔

، جن کے نہ تو سیکوئل بنائے جاتے ہیں، اور نہ ہی انہیں مرد اداکاروں کی فلموں جیسا رتبہ دیا جاتا ہے۔یہ دیکھا گیا ہے کہ بولی وڈ میں مرد اداکاروں کے بجائے خواتین اداکاراؤں کو ان کے فیشن اور لباس کی وجہ سے نہ صرف تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، بلکہ انہیں انٹرنیٹ پر ٹرول بھی کیا جاتا ہے۔کسی فیشن میگزین یا برانڈ کے اشتہار کے لیے فوٹو شوٹ کرانے والی اداکاراؤں کو بھی انہیں ان کی بولڈ اور مختصر لباس والی تصاویر پر تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔بھارتی فلم انڈسٹری میں اپنے ہی بچوں، بھائی، بہنوں اور رشتہ داروں کو متعارف کرانا سالوں پرانی بات ہے، لیکن حالیہ سالوں میں اس روش پر بحث ہونے لگی ہے۔حال ہی میں اقربا پروری کے موضوع پر بات کرنے والی اداکارہ کنگنا رناوٹ کو مرد اداکاروں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا، جب کہ اس حساس موضوع پر کنگنا کے علاوہ کوئی کھل کر بات کرنے کو بھی تیار نہیں۔بولی وڈ اداکاروں کے مطابق اقربا پروری ہر انڈسٹری میں موجود ہے، اس لیے اسے فلم انڈسٹری سے بھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔

مزید : کلچر