ضیاء الحق کا 11سالہ دور حکومت

ضیاء الحق کا 11سالہ دور حکومت

1971ئ

سے1977ء کا زمانہ پاکستان کی تاریخ کا انتہائی پرآشوب دور تھا۔ پورے ملک میں افراتفری پھیل چکی تھی۔حالات حد سے گزرے، لاء اینڈ آرڈر مشکل ہو گیاتو فوج نے مارشل لاء نافذ کر دیا اور ملک میں امن و امان بحال کیا اسی دوران ایک روز فیصل آباد کے دھوبی گھاٹ کا وسیع پنڈال جو جلسہ جلوس کے لئے بڑی مخصوص جگہ تھی۔ دھوبی گھاٹ کی حیثیت فیصل آباد میں وہی ہے جو تحریک پاکستان کے زمانے میں لاہور کے موچی گیٹ کو حاصل تھی۔ایک روز اعلان ہوا کہ اس میدان میں ایک شخص کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔ مقررہ تاریخ سے ایک روز قبل دھوبی گھاٹ کے میدان میں پھانسی گھاٹ بنایا گیا۔ پھانسی کے لئے لوہے کی ٹکٹکی آویزاں کر دی گئی۔پھانسی کے لئے سہ پہر کا وقت مقرر تھا۔ لوگوں کے غول در غول دھوبی گھاٹ میں جمع ہو گئے۔

عین وقت مقررہ پر ڈسٹرکٹ جیل کی نیلے رنگ کی وین آئی اور دھوبی گھاٹ کے آہنی دروازے پر آ کر رکی۔ ایک ملزم کو پولیس کے پہرے میں وین کے دروازے سے نیچے اتارا گیا اور پھانسی کے چبوترے پر لایا گیا۔ منظر دیکھ کر تمام حاضرین پر سناٹا طاری ہو گیا۔ عین وقت مقررہ پر پھانسی پانے والے شخص کو تختوں پر کھڑا کیا گیااور حکم ملتے ہی جلاد نے لبلبہ دبا دیا۔ تختے نیچے سے کھل گئے اور لاش پھانسی کے پھندے پر جھول گئی۔ چند منٹ بعد ڈاکٹر نے معائنہ کیا اور موت کی تصدیق کر دی۔

لوگوں میں تجسس تھا۔ اس انسان کا کیا قصور تھا؟ پتہ چلا کہ اس نے ایک نوخیز بچے کو اغواء کیا، پھر بداخلاقی کے بعد اس کو قتل کردیا تھا۔ بھلا ایسے سفاک کو یہ سزا نہ دی جاتی تو کیا اس کے گلے میں پھولوں کے ہار پہنائے جاتے یا اس کی خدمت میں گجرے پیش کیے جاتے۔ ایسے ہی واقعات اور بڑے شہروں میں دہرائے گئے۔

پورا ملک جو بھیڑیوں کی آماجگاہ بن چکاتھا پر سکون ہو گیا۔ یہ وہ دور تھا کہ شرفاء کی عزت داؤ پر لگ چکی تھی۔ بہو بیٹیوں کی عزت و ناموس کو تار تار کرنے والے درندہ صفت بھیڑ یئے تازہ لہو کی تلاش میں گلیوں میں تانک جھانک میں پھرتے تھے۔اشرار کو کھلی چھٹی اور اخیار پر جکڑ بندیاں تھیں۔ کون سا ظلم ہے کہ جو شرفاء پر آزمایا نہ گیا ہو۔ اس کی تفصیل جاننے کے لئے ستر کی دہائی کے اخبارات کی گواہی کافی مددگار ثابت ہو گی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ حکومت مفلوج ہو چکی تھی البتہ یہ درست ہے کہ حکومت نے شرفاء کے ہاتھ باندھ دئیے تھے اور اشرار کو من مانیاں کرنے کی اجازت دے رکھی تھی۔

شہید اسلام ضیاء الحق فوج کے سپہ سالار تھے جنہوں نے پانچ جولائی 1977ء کی رات کو ملک میں مارشل لاء نافذ کر کے عنان حکومت سنبھال لی تھی۔ عام لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ 1971ء سے لے کر1977ء تک بہت سے انتہائی دل سوز واقعات ملک میں رو نما ہوئے، ملک میں ہیجان پیدا ہوا۔ ان کے خلاف عوام اٹھ کھڑے ہوئے جس کے نتیجہ میں کارخانے بند ہو گئے، سکول و کالج یونیورسٹیوں میں تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔ عورتیں تک سڑکوں پر آ گئیں۔ میلوں لمبے جلوس نکلے، قانون نام کی کوئی چیز باقی نہ رہی۔لوگوں نے کھلے عام فوج سے مداخلت کا مطالبہ کرنا شروع کیا۔ ایسے عالم میں وقت کی انتہائی ضرورت کے تحت فوج کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق نے عنان حکومت سنبھالی۔ اس فیصلے پر ساری فوج کی قیادت متفق تھی۔ اس اقدام پر پورے پاکستان کے عوام نے سکھ کا سانس لیا، مہینوں لوگوں نے خوشیاں منائیں اور چوراہوں چوکوں پر مٹھائیاں تقسیم ہوئیں، حلوے کی دیگیں بانٹی گئیں، ملک میں امن قائم ہوا۔

ضیاء الحقؒ نے تقریباً گیارہ برس عنان حکومت سنبھالے رکھی۔ ۱۷ اگست کو وہ ایک سازش کا شکار ہوئے اور طیارہ کے حادثے میں بہاول پور کے قریب شہادت کے اعلیٰ منصب پر فائز ہو گئے۔ قائداعظم اور لیاقت علی کے بعد وہ پہلے حکمران تھے جن پر بدعنوانی یا مالی بے قاعدگی کا الزام نہ لگا۔ بعد میں آنے والی حکومت نے بڑی کوشش کی، لیکن ایک پیسے کی مالی بدعنوانی نہ پکڑ سکی۔یقیناًضیاء الحق انتہائی، نیک، دیانت داراور خدا ترس حکمران تھے۔ ان کی شہادت کے بعدضیاء الحق ؒ کی بیوہ نے اپنے شوہر کی شہادت پر ملنے والی رقم بھی غرباء میں تقسیم کر دی۔ضیاء الحق نے اپنے دور اقتدار میں کسی کو انتقام کا نشانہ نہ بنایا۔ ایک انقلابی شاعر نے ان کے خلاف نظم لکھی جس کی سی آئی ڈی کے لوگوں نے ضیاء الحقؒ کو خبر کی۔ مرحوم نے اس مذکورہ شاعر کو طلب کیا، وہ گھبرایا پولیس کے ہرکارے اسے پکڑ لائے تھے۔ ضیاء الحقؒ کے سامنے پیش کیا۔ مرحوم صدر نے اس شاعر سے کہا وہی نظم میرے سامنے پڑھو۔ شاعر تھر تھر کانپنے لگا، مرد مومن نے اس کو حوصلہ دیا اور کہا کہ وہ نظم میرے سامنے پڑھو۔ صدر کا حکم شاعر کیسے نہ مانتا۔ مرحوم صدر نے ساری نظم غور سے سنی اور کہا میں نے تمہاری ساری نظم سنی ہے تم نے مجھے برا بھلا کہا ہے۔ میں نے تمہیں معاف کیا، کیونکہ ایک مسلمان ذاتی انتقام نہیں لیا کرتا۔ میں رسولﷺ کے داماد حضرت علیؓ کا ادنیٰ خادم ہوں۔ انہوں نے اپنے دشمن کو قابو کر لیا تھا اور سینے پر بیٹھ گئے تھے۔ چاہتے تو قتل کر سکتے تھے، لیکن اس نے چہرہ مبارک پر تھوک اچھال دیا۔ حضرت علیؓ سینے سے اتر کر ایک طرف ہو گئے تھے فرمایا: تو دشمن دین تھا میں اسی لئے تجھے قتل کرنا چاہتا تھا،لیکن تو نے میری طرف تھوک پھینکا مجھے غصہ آ گیا، میں ذاتی غصہ کی وجہ سے تجھے قتل نہ کروں گا۔ ضیاء الحق نے بھی اپنے دشمن کو باوجود پوری طاقت رکھنے کے اس شاعر کو معاف کر دیا۔

ضیاء الحق نے پاکستان کو اسلامی خطوط پر استوار کرنے کی شعوری کوشش کی، اس سلسلے میں پروازوں میں شراب پیش کرنے پر پابندی لگائی۔ نظام صلوٰۃ قائم کیا، نظام زکوٰۃ کو شرعی اصولوں کے مطابق منظم کیا۔ اس حوالے سے ان کا سب سے بڑا کارنامہ قرار داد مقاصد کو آئین کا حصہ بنانا بھی ہے۔تشکیل پاکستان کے ابتدائی ایام میں قرار داد مقاصد جناب لیاقت علی نے مارچ 1949ء میں مجلس دستور ساز پاکستان کے اجلاس میں پیش کی تھی جو متفقہ طور پر کامیاب ہوئی۔ ضیاء الحق نے اس قرار داد کو باقاعدہ آئین کا حصہ بنایا۔ یہ مرحوم کا بہت بڑا کارنامہ تھا۔ قرار داد مقاصد کے الفاظ حسب ذیل ہیں:

’’چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کابلا شرکت غیرے حاکم مطلق ہے۔ اور اسی نے جمہور کی وساطت سے مملکت پاکستان کو اختیارِ حکمرانی اپنی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کے لئے نیابتاً عطا فرمایا ہے اور چونکہ یہ اختیارِ حکمرانی ایک مقدس امانت ہے لہٰذا۔۔جمہور پاکستان کی نمائندہ یہ مجلس دستور ساز فیصلہ کرتی ہے کہ آزاد اور خود مختار مملکت پاکستان کے لئے ایک دستور مرتب کیا جائے جس کی رو سے مملکت تمام حقوق و اختیاراتِ حکمرانی، عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے۔جس میں اصول جمہوریت و حریت، مساوات و رواداری اور سماجی عدل کو، جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے پورے طور پر ملحوظ رکھا جائے جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق جو قرآن مجید اور سنت رسول میں متعین ہیں، ترتیب دے سکیں جس کی رو سے اس امر کا قرار واقعی انتظام کیا جائے، کہ اقلیتیںآزادی کے ساتھ اپنے مذہبوں پر عقیدہ رکھ سکیں اور ان پر عمل کر سکیں اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دے سکیں جس کی رو سے وہ علاقے جو اب پاکستان میں داخل ہیں یا شامل ہو گئے ہیں اور ایسے دیگر علاقے جو آئندہ پاکستان میں داخل یا شامل ہو جائیں ایک وفاق بنائیں جس کے ارکان مقرر کردہ حدود اربعہ و متعینہ اختیارات کے ماتحت خود مختار ہوں، جس کی رو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے اور ان حقوق میں قانون و اخلاق عامہ کے ماتحت مساوات، حیثیت و مواقع، قانون کی نظر میں برابری، سماجی، اقتصادی اور سیاسی عدل، اظہار خیال، عقیدہ، دین، عبادت اور ارتباط(میل جول اور باہمی تعلق)کی آزادی شامل ہوجس کی رو سے اقلیتوں اور پس ماندہ و پست طبقوں کے جائز حقوق کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا جائے، جس کی رو سے عدلیہ کی آزادی مکمل طور پر محفوظ ہو، جس کی روسے وفاق کے علاقوں کی حفاظت، اس کی آزادی اور اس کے جملہ حقوق کا جن میں اس کے بروبحر اور فضا پر سیادت کے حقوق شامل ہیں، تحفظ کیا جائے، تاکہ اہل پاکستان فلاح اور خوش حالی کی زندگی بسر کر سکیں اور اقوام عالم کی صف میں اپنا جائز اور ممتاز مقام حاصل کر سکیں اور امن عالم کے قیام اور بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود میں کماحقہ اضافہ کر سکیں۔

اسی لئے مرحوم یہ کہا کرتے تھے کہ میں ایسے اقدامات کر جاؤں گا جن سے پیچھے ہٹنا بعد کے آنے والوں کے لئے آسان کام نہ ہو گا۔قانون کی شق 62/63 ضیاء الحقؒ کا کارنامہ ہے۔ یعنی امین و صادق ہونا جس پر پورا اترنا ہر اسمبلی ممبر کے لئے لازمی ہے۔ پانامہ کیس کا معاملہ اسی نکتہ پر بنیاد رکھتا ہے۔ اگر اس شق پر پورا عمل کیا جائے تو ملک کی بیشتر خرابیاں از خود دور ہو سکتی ہیں۔

شہید صدر ضیاء الحقؒ کا انتہائی اہم کارنامہ یہ ہے وہ عقیدہ ختم نبوت پر پختہ ایمان رکھتے تھے اور وہ پورے وثوق سے یہ سمجھتے تھے کہ قادیانی حضرات سلطنت برطانیہ کا خود کاشتہ پودا ہیں جن کو حکومت برطانیہ نے مسلمانوں میں کاشت کرنے کی سعی کی ہے، تاکہ مسلمانوں میں عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں تشکیک پیدا ہو اور اس کے ذریعے وہ مسلمانوں میں ختم نبوت کے عقیدہ کو ختم کر سکیں اور اس طرح اسلام کی بیخ کنی میں باغیانہ سرگرمیوں کو فروغ دیں۔ چنانچہ ضیاء الحق مرحوم نے 11مئی1984ء کو دو ٹوک الفاظ میں ارشاد فرمایا:

1.Official Report, Constituent Assembly of Pakistan debates, ص: 1-2،جلد پنجم

’’قادیانیوں کے سامنے دو ہی راستے ہیں، اسلام قبول کر کے مسلمان ہو جائیں یا بطور اقلیت پاکستان میں رہیں۔‘‘( تحریک ختم نبوت کا آخری پیغام، ص: 4)

شہید صدر محمد ضیاء الحق 11 برس تک پاکستان کے مطلق العنان سربراہ رہے۔ انہوں نے اپنے اقتدار کے دوران اپنی اولاد کے لئے سیاست کے دروازوں کو بند رکھا اور اپنی صدارت کو وراثت نہ بننے دیا۔

حادثہ بہاول پور میں وہ شہید ہو گئے۔ بوقت شہادت وہ باوضو تھے اور نماز عصر ادا کر کے اپنے طیارے میں سوار ہوئے تھے۔ جب ان کاجنازہ اٹھا تو تقریباً پانچ لاکھ افراد ان کے جنازہ میں شریک ہوئے۔ پورے پاکستان سے لوگ ان کے جنازے میں شریک ہونے کی غرض سے پاکستان کے کونے کونے سے مشقت برداشت کر کے اسلام آباد پہنچے۔ شرکت کرنے والوں میں ایک لمبے قد کا نوجوان بھی تھا جو بہت زاروقطار رو رہا تھا۔ لوگ اسے دلاسے دے رہے تھے۔ شرکائے جنازہ میں تجسس پیدا ہوا یہ نوجوان کون ہے؟اس روز لوگوں کو علم ہوا کہ یہ نوجوان صدر جنرل محمد ضیاء الحق شہید کا بیٹا اعجاز الحق ہے جسے پہلے کبھی کسی نے نہ دیکھا تھا۔ وہ چاہتے تو اپنے دور اقتدار میں اس کی شناخت بطور سیاسی لیڈر ضرور کرا سکتے تھے، لیکن انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا، تاکہ تخت پاکستان وراثت نہ بن جائے۔

مزید : ایڈیشن 1