سوشل میڈیا ایپس ۔۔۔ تعلیم میں مددگار

سوشل میڈیا ایپس ۔۔۔ تعلیم میں مددگار

کون سا پلیٹ فارم طلبہ اور اساتذہ کے کس طرح کام آسکتا ہے؟

زلیخا اویس

سوشل میڈیا سے مراد انٹرنیٹ بلوگز، سماجی روابط کی ویب سائٹس، موبائل ایس ایم ایس اور دیگر ہیں جن کے ذریعے خبریں اور معلوماتی مواد کو فروغ دیا جاتا ہے۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی اہمیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ روایتی میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی اور دیگر کاروباری افراد معلومات کو عوام تک پہنچنے کے لیے بڑی تعداد میں سوشل میڈیا سائٹس جیسے فیس بک اور ٹوئٹر، مائی اسپیس، گوگل پلس ، ڈگ اور دیگر سے جڑے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا سے بھی زیادہ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ عوام کا سوشل میڈسے منسلک ہونا ہے۔ اس الگ میڈیا میں خبروں اور معلومات کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ معلومات کا ذخیرہ آپ تک خود بخود بذریعہ ای میل اور انٹرنیٹ بلوگ پوسٹس پہنچ جاتا ہے، آپ کو صرف کسی بھی بلوگ یا سائٹ میں اندراج کی ضرورت ہے۔ ایک چھوٹی سے چھوٹی خبر کو مقبول کرنے کے لئے کسی بھی سوشل سائٹ میں صرف ایک پوسٹ شیئر کرنے کی ضرورت ہے پھر یہ خود بخود ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے فرد تک پہنچ جائے گی۔ انفورمیشن ٹیکنولوجی نے انسان کو اتنا ترقی یافتہ بنا دیا ہے کہ انسان اپنا وقت ضائع کئے بغیر کہیں بھی بیٹھے بیٹھے پوری دنیا سے سوشل میڈیا کے ذریعے میل جول رکھ سکتا ہے۔

اس دور میں سوشل میڈیا کے بغیر زندگی اور دنیا کا تصور کرنا بھی ممکن نہیں رہا ہے۔ سماجی ویب سائٹس کا ہماری زندگی میں عمل دخل اور استعمال روزبہ روز بڑھتا جارہا ہے اور باہمی تعلقات سے معلومات کے حصول اور خریداری تک ہم سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز کے مختلف طریقوں سے استعمال کر رہے ہیں۔

تاہم سوشل ویب سائٹس کو بہت سے لوگ نوجوان نسل اور تعلیم کے لیے تباہ کْن سمجھتے ہیں۔ ایسے افراد میں والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے اکثر منتظمین بھی شامل ہیں، جن کی نظر میں ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹاگرام جیسی سماجی سائٹس کی وجہ سے نوجوانوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے اور ان کی تعلیم کا نقصان ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی چیز کا غلط اور بے جا استعمال ہمارے لیے ضرررساں ثابت ہوتا ہے، لیکن اس کا صحیح طور پربرتنا ہمیں فوائد اور کام یابیوں سے ہم کنار کرتا ہے۔

ہمارے اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز درس وتدریس کے ٹولز بن سکتے ہیں اور بن رہے ہیں۔ فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اور دیگر سماجی ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کی جاسکتی ہیں، تاہم اس کے لیے اساتذہ کو ان کے استعمال کی مہارت ہونی چاہیے۔ ان سائٹس کو کس طرح درس وتدریس کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور کون سا سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم کس طرح تعلیمی مقاصد میں معاون ومددگار ثابت ہوسکتا ہے؟ آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں:

Snapchat

تصاویر اور وڈیوز میسیجنگ کی مقبول ایپلی کیشن اسنیپ چیٹ کے ذریعے طلبہ وطالبات کو بروقت نصاب اور تعلیمی مواد پڑھنے، سمجھنے اور یاد کرنے کے عمل میں مشغول کرایا جاسکتا ہے۔ یہ تجربہ دنیا کئی جامعات میں کام یابی سے جاری ہے۔ اس حوالے سے برطانیہ کی یونی ورسٹی آف کنگسٹن کی خاتون لیکچرر Beryl Jones کی مثال بہت مناسب ہوگی۔ Beryl Jones تعلیمی سال کے آغاز پر اسنیپ چیٹ کا استعمال کرتے ہوئے طالب علموں کے سوالات کے جواب دینے کا سلسلہ شروع کیا۔

Beryl Jonesاپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ایسا کرنے کا مقصد یہ تھا کہ طلبہ کو مزید سرگرمی کے ساتھ مشغول کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے میں جب میں اپنے شاگردوں کے سامنے نہیں تھی اور لیکچر ہال میں اپنی تیار کردہ سلائڈز کے اسنیپ شاٹس کے ذریعے انھیں سمجھاتی۔ وہ اسنیپ چیٹ کو چیزوں کے سمجھنے کے لیے استعمال کرتے جنھیں سمجھنے میں انھیں مشکل پیش آتی۔ اسی طرح اس ذریعے سے انھیں اپنے سوالوں کے جواب بھی حاصل ہوتے۔

Trello

پروجیکٹس بنانے کے سلسلے میں مدد دینے والی اس ایپلی کیشن کی مدد سے طلبہ تصاویر، وڈیوز اور دستاویزات تھریڈز کی صورت میں گروپ میں شیئر کرسکتے ہیں۔ یہ ٹول مختلف بورڈز، جیسے Pinterest پر تبادلہ خیال یہ بحث ومباحثے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔ چناں چہ طلبہ اس کے ذریعے متعلقہ معلومات پِن اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Vine

اس سوشل نیٹ ورکنگ ٹول کے ذریعے چھے سیکنڈ کے دورانیے پر محیط وڈیوز بنانے اور شیئر کرنے کی سہولت سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس طرح یہ سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم دیگر مقاصد کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی تدریس میں بھی معاون ومددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اس ٹول کو یونی ورسٹی کیمپس دکھانے اور جامعہ میں ہونے والے مختلف ایونٹس کی تشہیر کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مگر اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ یہ طلبہ کو تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کا ایک بہت اچھا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔

اگر یونیو ورسٹی میں کسی اہم اور طلبہ کے لیے دلچسپی کی حامل شخصیت کو بہ طور مقرر مدعو کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں وائن کی مدد سے اس کی تقریر کے اہم جملوں کو متعلقہ طلبہ برادری میں بہ آسانی شیئر کیا جاسکتا ہے۔

یہی نہیں، بل کہ اس سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے جامعات کی سرگرمیوں، لیکچرز اور تعلیمی مواد کو وائرل کیا جاسکتا اور مختلف تعلیمی اداروں کے درمیان شیئر کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کراچی یا لاہور میں موجود طلبہ لندن یا نیویارک کی کسی جامعہ میں ہونے والی تدریسی سرگرمیوں سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

*Pocket

یہ ’’بْک مارکنگ‘‘ سروس اپنے یوزرز کو مختلف آرٹیکلز کے لنکس ڈاؤن لوڈ کرنے اور انھیں اپنے آن لائن میگزین میں شامل کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم کے استعمال کنندگان اس سروس کے دیگر یوزرز کی فیڈز کو بھی فالو کرسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ طلبہ ان اساتذہ سے فیض یاب ہوسکتے ہیں جو ان کی تعلیم سے متعلق مضامین اور مواد کے لنکس اس سروس کے ذریعے شیئر کرتے ہیں۔

GoogleDocs

علمی مواد اور دستاویزات کا تبادلہ کوئی نئی بات نہیں، اس کے ساتھ فیڈ بیک دینے کا رجحان بھی نیا نہیں۔ گوگل ڈوکس کی سروس اپنے یوزرز کو یہ دونوں سہولتیں فراہم کرتی ہے۔ اس ٹول کی مدد سے طلبہ ایک دوسرے کو ان کی شیئر کی جانے والی دستاویزات پر فیڈ بیک دے سکتے ہیں، جو حوصلہ افزائی اور معلومات کی فراہمی کا سبب بنتا ہے۔ اس کے علاوہ گوگل ڈوکس کی سروس اپنے استعمال کنندگان کو ایڈیٹنگ اور کمنٹس کی سہولت بھی فراہم کرتی ہے۔

ان اہم سہولیات کے باعث طلبہ اس سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم پر اپنے گروپ بناکر اپنے میسر آنے والے اور پسندیدہ وقت کے مطابق کام کرسکتے ہیں اور وہ سب فوائد حاصل کرسکے ہیں جو جامعہ میں ہونے والے کسی سیمینار میں شریک ہوکر انھیں ملیں گے۔

برطانیہ میں علم پھیلاتیsheffield

hallam university کے شعبے اکیڈمک پریکٹس اینڈ لرننگ انوویشن کے سربراہ Andrew Middletonباہمی تعاون کے ذریعے حصول تعلیم اور فروغ علم کے حوالے سے گوگل ڈوکس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے مْنظم طریقے سے اشتراکِ کار کے ذریعے تحقیقی سرگرمیوں کی انجام دہی کے لیے گوگل ڈرائیو کو امکانات کی حامل اور اہم قرار دیتے ہیں۔

*Italki

اگرچہ ابتدائی طور پر یہ سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم ریکارڈنگ ٹول کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے ایک ایسے پلیٹ فارم کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے جہاں جامعات میں دیے جانے والے لیکچر ریکارڈ کرکے طلبہ کے استفادے کے لیے اپ لوڈ اور ای میل کے ذریعے شیئر کیے جاسکتے ہیں۔ اس سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم پر ریکارڈ کیے جانے والے مواد کے ساؤنڈ کی کوالٹی بہ آسانی تبدیلکردینے کی سہولت بھی موجود ہے۔

Wunderlist

ضرور پڑھیں: خدا کا جواب

تعلیمی مقاصد کے لیے یہ سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم بہت سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر ان طلبہ کے لیے جو اپنی تعلیمی سرگرمیاں منظم انداز میں جاری نہیں رکھ پاتے۔

اس ایپلی کیشن پر طلبہ اور اساتذہ الگ الگ فولڈرز بنا کر module، نوٹس، مختلف تعلیمی سرگرمیوں کے لیے مقررہ تاریخوں کا شیڈول، کنٹیکٹکس لسٹس وغیرہ کو محفوظ کرسکتے ہیں۔

Instagram

اگرچہ یہ سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم عمومی طور پر تفریح طبع اور سیلفیز کے لیے استعمال ہوتا ہے مگر یہ صرف سیلفیز کے لیے نہیں ہے۔ یہ امیج شیئرنگ ٹول کورس ورک کے لیے ڈیٹا جمع کرنے لیے بہت اچھا ذریعہ ہے۔ اس طرح طلبہ کو دوسروں سے ڈیٹا لیے کے بہ جائے اس ٹول کی مدد سے اپنا مطلوبہ ڈیٹا خود منتخب اور جمع کرنے کی سرگرمی میں مشغول کیا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ انسٹاگرام پر طلبہ اپنا تعلیم سے متعلق مواد اپ لوڈ، ٹیگ اور ایک دوسرے کی فیڈز پر کمنٹ بھی کرسکتے ہیں، جس سے کسی موضوع پر باہمی مکالمے کا صحت مند رجحان فروغ پاتا ہے۔

سماجی رابطے کے ویب سایٹس اور اپلیکیشنز کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا تاہم ان کے بے جااستعمال کا نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ فیس بک، واٹس ایپ، ٹویٹر، انسٹاگرام، پنٹرسٹ، ٹمبلر، لنکڈان، گوگل پلس، اسکائپ، موبائل گیمیں، بلاگز، گیموں کی ویب سایٹس اور سینکڑوں نت نئے اپلیکیشنزسے لوگ جتنے محظوظ ہوتے ہیں اورجتنے مثبت طریقے سے ان کا استعمال کر پاتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ان اپلیکیشنزکی وجہ سے مشکلات کا شکار بھی رہتے ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سایٹس یا عام طور پر انٹرنیٹ کے استعمال سے متعلق صحیح فیصلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس حوالے سے تحقیق کرے، پڑھے اور اس کے بعد ہی کسی ویب سایٹ یا اپلیکیشن کو استعمال کرنا شروع کریں۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ نسل نو پہ سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے یہ حکومت کے لیے ممکن ہی نہیں، نہ ماں باپ کے بس کی بات ہے ۔یہ نہ صرف وقت کی ضرورت بن چکی ہیں بلکہ ان کی لا انتہا افادیت بھی ہے۔سوشل میڈیا کی سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ پڑھنے والے اور پڑھانے والے اس کے ذریعے ہر لمحہ رابطے میں رہ سکتے ہیں اور اس طرح سوشل میڈیا تعلیم کی ترسیل میں بہترین معاون ثابت ہورہی ہے۔اس کے علاوہ طلبہ کو انٹرنیٹ پر موجود مفت لائیبریری اور دیگر موادتک آسان رسائی حاصل ہے جو پڑھائی میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ریسرچ سے یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت استعمال سے طلبہ کے نتائج بہتر آتے ہیں اور ان کی غیر حاضریاں کم ہوتی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق 60 فیصد طلبہ پڑھائی سے متعلق بات چیت کے لیے سماجی رابطے کے ذرائع استعمال کرتے ہیں۔میں نے ذاتی طورپر ایک ویب سایٹ کا استعمال کیا ہے جس میں پوری کلاس شامل ہوسکتی ہے۔یہاں اسائممٹس دی جاتی ہیں، سب اپنے مسائل ڈسکس کر سکتے ہیں اور کلاس کا کوئی بھی ممبر یا ٹیچر اس مسئلے کو حل کرسکتا ہے۔ نیز ہر طالب علم کا رزلٹ اور پروگریس وقت کے ساتھ ساتھ اس ویب سائیڈ پر اپڈیٹ ہوتا رہتا ہے۔آج کل بہت سارے قومی اور بین الاقوامی اسکالرشپس بھی انٹرنیٹ کی بدولت نوجوانوں کی پہنچ میں ہیں۔

***

مزید : ایڈیشن 2