عالمی یوم نوجوانان اور پاکستان میں نوجوانوں کا کردار۔

عالمی یوم نوجوانان اور پاکستان میں نوجوانوں کا کردار۔

انٹر نیشنل یوتھ ڈے کے حوالے سے خصو صی تحریر۔

تحریر : عامر اسما عیل ۔

انسی ٹیوٹ آف کمیو نیکیشن سٹڈیز جامعہ پنجاب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اقوام متحدہ کی قرار دادں کیمطابق ہر سال 12اگست کو دنیا بھر میں نو جوانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ جسکا مقصد دنیا بھر کے اربوں نوجوانوں کی معاشرے میں اہمیت اور افا دیت کو اجاگر کرنا اور تسلیم کرنا ہے ۔کسی بھی ترقی یافتہ او ر ترقی پذیر معاشرے میں نوجوانو ں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے ۔ نوجوان کی سمت کی بدولت ہی کوئی بھی ملک ترقی اور زوال کی منازل طے کرتا ہے اگر نوجوانو ں کاکردار معاشرے میں مثبت ہوگا تو یقیناًمعاشرہ ترقی کی طرف سفر کرے گا لیکن اگر یہی نوجوان منفی رجحانات کی طرف راغب ہونگے تو معاشرے کی زوال کی طرف سفر کرے گا ۔ بین الاقوامی سطح پر اس سال انٹر نیشنل یوتھ ڈے کا عنوان ’ ’ نوجوان امن قائم کریں ‘‘ہے ۔ پاکستان اس لحاظ سے مالا مال ملک ہے کہ اس کی 60فیصد سے زائد آبادی (یوتھ) نو جوانوں پر مشتمل ہے ۔اس امر میں کوئی شک نہیں کہ قیام پاکستان سے لیکر ستر سال گزر جانے کے باوجود ہر دور میں نوجوانوں کا کردرا اہمیت کا حامل رہاہے ۔ قیام پاکستان کے وقت بانی پاکستان کے دست و بازو وہ مسلم سٹوڈنٹس فیڈ ریشن کے نوجوان ہی تھے جنہیں قائداعظم ؒ اپنا فخر اور اپنا اثاثہ سمجھا کرتے تھے ۔ آپ نہ صرف خود طلبہ اجتماعات میں بخوشی شریک ہوتے بلکہ ولولہ انگیز گفتگو کے ذریعے ان میں حب الوطنی کا جذبہ اورآزادی کی تڑپ پیدا کرتے ۔یہ سلسلہ پاکستان کے قیام کے کچھ عرصہ گزرنے کے بعد تک جاری رہا جسمیں نوجوان کی ہر شعبہ زندگی میں اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں پلیٹ فارم مہیا کیا جاتا رہا ۔پاکستان میں نوجوانوں کی قربانیوں ، جدوجہد او ر کامیابیوں کی طویل داستان جامعات میں طلبہ یونینز ہیں ۔ اگر ہم پاکستان میں سیاسی تاریخ کا جائزہ لیں تو 1947سے 1958ء کے دور میں ایک خاص سوچ کے ذریعے نوجوانوں اور بالخصوص طلبہ کو سیاسی عمل سے باہر نکال دیا گیا۔آبادی کے بڑے حصے نے سیاست میں دلچسپی لینا بند کردی ۔انکا خیال تھا کہ سیاست کرنا انکا حق نہیں اور نہ ہی ان امور پر توجہ دی جائے کہ ریاست کا نظم ونسق کیسے چلا یا جاتا ہے ۔اس امر کا بھر پور فائدہ بالا دست طبقہ نے اٹھایا جنہوں نے نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ بات باور کرائی کہ اصل ترقی ذات کی ترقی ہے اور سماج کچھ نہیں لہذا طلبہ اپنی تعلیم پر توجہ دیں اور باقی معاملات چھوڑ دیں ۔وہ تعلیم کو ایک سماجی اور انفرادی مسئلہ سمجھتے تھے حالانکہ تعلیم کا عمل بھی خالصتا سیاسی عمل ہے کیونکہ تعلیم کی حقیقی بنیاد سماج میں ایک بڑی تبدیلی لے عمل سے جڑ ی ہوتی ہے ۔طالبعلم ایک ایسی ریاست ، ملک اور حکومت کا تصور سامنے لاتے ہیں جہاں نوجوانوں سمیت عام آدمی کے بنیادی حقوق اور شفافیت پر مبنی حکمرانی کا نظام ہوتا ہے ۔پاکستان میں موجود دانشور اور تعلیم یافتہ افراد کا اایک طبقہ طلبا کو سیاست سے دور رہنے کا بھی قائل ہے جبکہ بیشتر افراد طلباء کی سیاست میں براہ راست شرکت کی حمایت کرتے ہیں انکا کہنا ہے کہ طلبہ کا سیا ست کرنا اور سیاست میں حصہ لینا انکا بنیادی حق ہے جس سے انہیں کسی صورت محروم نہیں کیا جاسکتا لیکن اس نظام کی مزید بہتری کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے ۔معروف تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی نے اپنی کتاب ’’ تاریخ کے نئے زاویے ‘ ‘ میں کسی مقام پر یہ قلمبند کیا تھا کہ برصغیر میں جب نوجوانوں میں نظریاتی سیاست کا آغاز ہوا تو ابتدائی دور نیشنل ازم تھا جس سے طلباء دائیں باز و اور بائیں بازو میں تقسیم ہوگئے اس نظریاتی تصادم کا نتیجہ یہ ہوا کہ طلباء میں اپنے نظریات کے دفاع کیلئے مطالعہ کا شوق پیدا ہوا کہ نظریہ کی بنیاد پر سماج اور اسکی ساخت کا تجزیہ کیا جائے۔اس عمل نے نوجوانوں کو ذہنی طور پر پختہ بنایا اور جب وہ تعلیم حاصل کرکے عمل زندگی میں آئے تو انہوں نے سیاست اور سیاسی جماعتوں کی رہنمائی کی ۔انہوں نے سیاسی عمل کے اس تسلسل کو جاری رکھا ۔ جمہوری اقوام طالبعلموں کے اس حق کو تسلیم کرتی ہیں کہ انہیں سیاست میں حصہ لینا چاہیئے ۔لیکن آمرانہ اور جابرانہ سوچ کے حامل طبقہ کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ نوجوانوں کو اس عمل سے دوررکھا جائے۔اصولی طور پر اگر پاکستان کی مجمو عی صورت حال کا تجزیہ کیا جائے تو ہر تحریک یا جدوجہد کے پیچھے نوجوان اور بالخصوص طلباء ہی کار فرما نظر آئیں گے ۔ زندگی کے ہر شعبہ میں متحرک باصلاحیت اور ذہین افراد کہیں نہ کہیں طلبہ سیاست کا ہی شاخسانہ ہونگے ۔ سیاست کے علاوہ اہم بیورو کریسی ، میڈیا ، ادیب ، دانشور ، اساتذہ ، تاجر اور مذہبی راہنما سب نوجوانوں کی مثبت تعمیری سرگرمیوں کا نتیجہ ہیں ۔ ایک دلیل پیش کی جاتی ہے کہ طلباء کی سیاسی عمل میں شمولیت کی وجہ سے تعلیمی امن تباہ ہوا تو اگر اس منطق کو مان بھی لیا جائے تو 1984سے تاحال اس عمل پر پابندی کے بعد ہم کونسا معیار تعلیم اور صلاحیتوں کو اجاگر کرنا کا پلیٹ فارم سامنے لاسکے ۔اگر طلباء یونینز پر پابندی ہی مسئلہ کا حل ہے تو اسکے متبادل نظام بھی لایا جانا چاہیئے جس سے طلبہ میں مثبت تعمیری سوچ کو اجاگر کیا جائے طلبہ کو تشدد سے پاک اور پر امن جامعات فراہم کی جائیں ۔علم وامن کے مراکزمیں مباحثے اور گفتگو کے کلچر کو جاری رکھا جانا چاہیئے ۔ حالیہ سالوں سے جامعات کی صورت کے ذمہ داری جامعات کے منتظمین خود ہیں ۔جامعات کو نشہ کی آماجگاہیں بنانے کی بجائے کوئی سمت متعین کرکے تحقیق کے مراکز میں تبدیل کیا جائے ۔طلباء کو موجودہ دور سے ہم آہنگ نصاب فراہم کیا جانا چاہئے بد قسمتی سے ملک کے 76فیصد طلبہ جامعات میں نصاب سے مطمئن نہیں ہیں اسکی بنیادی وجہ نصاب کا جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونا ہے ۔ہماری بقا اور بہتری اسی میں ہے کہ آبادی کے اس نصف سے زائد طبقہ کو کوئی گائیڈ لائن کوئی راہنمائی اور کوئی سمت متعین کرکے دی جائے جس سے نہ صرف انکی خدمات سے استفادہ حاصل کیا جائے بلکہ انہیں معاشرے کا کار آمد شہری بھی بنایا جائے ۔مایوسی اور ناامیدی قطعی ہمارا مقدر نہیں امید کا دیا جلتا رہنا ہی زندگی کی علامت ہے آج کے اس گھٹن زدہ ماحول میں بھی ہم ارفع کریم اور علی معین نوازش جیسے نوجوان معاشرے کو سونپ رہے ہیں تو یقیناًابھی راکھ کے ڈھیر میں کچھ چنگاریاں خوابیدہ ہیں لیکن اگر انہیں بروقت بروئے کار لایا جائے تو ملک ترقی کی منازل بھی طے کرے گا اور پاکستان ایک بار پھر پر امن ریاست کے طور پر اقوام عالم کے صف میں کھڑا ہوگا۔بین الاقوامی سطح پر اس سال بین الاقوامی یوم نوجوان امن کے سلوگن کے ساتھ منا یا جارہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ مکالمے اور برادشت کے کلچر کے فروغ کیلئے ہنگامی اقدامات کئے جائیں اس سلسلے میں ریاست کو یک قدم آگے آکر نوجوانوں کو ہی اپنی اصل طاقت مان کر سوچ بچار کرنا ہوگی یقیناًکوئی راہ کوئی حل تو بہتری اور پرامن پاکستان کی طرف جا تاہو گا۔

***

مزید : ایڈیشن 2