بچوں کے پھیپھڑوں میں وائرس کی اموات میں پاکستان سرِفہرست

بچوں کے پھیپھڑوں میں وائرس کی اموات میں پاکستان سرِفہرست

ہیلتھ رپورٹس

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں آر ایس وی سے مرنے والے بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہرین کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں پھیپھڑوں کے وائرس سے ہلاک ہونے والے ممالک میں پاکستان سرِفہرست ہے۔

ماہرین نے رسپائٹری سنسیشیئل وائرس (آر ایس وی) سے بچاؤ کی مؤثر ویکسین تیار کرنے پر زور دیا ہے تاکہ ہرسال ہونے والی قریباً 115,000 اموات کو ٹالا جا سکتا ہے۔

آر ایس وی عموماً چھ ماہ تک کے بچوں کو زیادہ شکار بناتا ہے اور ان میں سے 99 فیصد بچوں کا تعلق ترقی پزیر ممالک سے ہے۔ پاکستان کے علاوہ باقی ملکوں میں بھارت، چین، نائجیریا اور انڈونیشیا شامل ہیں اور پوری دنیا کے نصف سے زائد آرایس وی کے کیس ہوتے ہیں۔ تاہم باضابطہ اعدادوشمار کی عدم موجودگی کی وجہ سے انفیکشن کے واقعات اور اموات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

ایڈنبرا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے 329 مطالعات پر غور کیا ہے جن میں پوری دنیا میں ا?ر ایس وی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اندازہ ہے کہ ہرسال 33 لاکھ بچے پھیپھڑوں کے اس وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ہر سال 30 لاکھ سے زائد چھوٹے بچوں کو اسی وائرس کی وجہ سے اسپتالوں میں داخل کیا جاتا ہے جو سانس میں تنگی اور سینے میں جکڑن کے شکار ہوتے ہیں۔ پوری دنیا میں آر ایس وی کے مرض کی درست اور احتیاطی تدابیر اس سروے کا اہم مقصد ہے۔ اس لحاظ سے یہ رپورٹ اب تک کی سب سے جامع رپورٹ بھی ہے۔

واضح رہے کہ آر ایس وی کا وائرس بہت تیزی سے پھیلتا ہے اور شروع میں نومولود بچوں میں سردی لگنے کے آثار نمایاں ہوتے ہیں جبکہ بعد میں پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں اور بچہ سانس لینے میں دقت محسوس کرتا ہے۔ اس کے بعد نمونیا بھی لاحق ہو جاتا ہے جس سے بچے کی موت واقع ہو سکتی ہے۔

***

حفاظتی ٹیکے نہ لگوانے سے قابلِ علاج بیماریاں وباء بن سکتی ہیں، ماہرینِ اطفال

پاکستان میں حفاظتی ٹیکے نہ لگوانے سے 5 سال سے کم عمر بچے بیماریوں اور موت کاشکار ہوجاتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں صرف نمونیا کی وجہ سے سالانہ12لاکھ بچے لقمہ اجل بن رہے ہیں جو ایڈز، ملیریا اور تپ دق سے ہونے والی اموات کے برابر ہیں روٹا وائرس پیٹ کے امراض سے سالانہ 5 لاکھ سے زائد بچوں کی اموات ہوتی ہیں جبکہ ہیپاٹائٹس بی سے20 لاکھ افراد متاثر اور 7 لاکھ 80 ہزار موت کا شکار ہوجاتے ہیں ان تمام اموات کو حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے روکا جاسکتا ہے۔ دنیا بھر میں سالانہ 5 سال سے کم عمرکے 17فیصد بچوں کی اموات ایسی بیماریوں سے ہوتی ہیں جنھیں ویکسین کے ذریعے روکا جاسکتا ہے اگر ویکسی نیشن اور حفاظتی ٹیکہ جات نہ لگوائے جائیں تو کئی قابل علاج بیماریاں وبا کی صورت اختیار کرسکتی ہیں جن سے بیماری، معذوری اور اموات تک ہوسکتی ہیں۔

ماہرین اطفال کا کہنا ہے کہ حفاظتی ٹیکوں کے باعث دنیا بھر میں خسرہ سے اموات میں 75فیصدکمی، انفلوئنزا سے ہونے والی بیماریوں اور پیچیدگیوں میں 60فیصد اور اس سے ہونے والی اموات میں 80 فیصد کمی ،پولیو کے کیس میں 99 فیصد کمی آگئی ،چیچک کا 10سال میں دنیا بھر سے خاتمہ کردیا گیا ہے۔

پاکستان میں 1978 میں حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام شروع کیا گیاجو آج تک جاری ہے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں حفاظتی ٹیکے لگوائیں حفاظتی ٹیکوں سے دنیا بھر میں سالانہ 30لاکھ اموات کو روکا جاتا ہے لیکن پاکستان میں5 سال سے کم عمرکے 27فیصد بچوں کی اموات ان بیماریوں سے ہوتی ہے جنھیں حفاظتی ٹیکہ جات اور ویکسی نیشن کے ذریعے روکا جاسکتا ہے۔

***

فائدہ مند غذائیں۔۔۔جو پیٹ کی چربی کم کریں

غذائیت اور طاقت سے بھرپور غذائیں جو آپ کے جسم کو صحت مند اور فٹ رکھنے میں موثر کردارادا کرسکتی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج کل ہر دوسرا شخص بڑھے ہوئے ڈول جسم بالحضوص بڑھے ہوئے پیٹ کی وجہ سے بہت فکر مند نظر آتا ہے اور واقعی دن بدن بڑھتا ہوا وزن خواتین کو پریشانی میں مبتلا کردیتا ہے۔

بڑھا ہوا پیٹ موٹے وگربہہ افراد کی پریشانی نہیں بلکہ اس کا شکار دبلے افراد بھی ہوتے ہیں مثلاََ سارا دن آفس میں کمپیوٹر کے آگے بیٹھ کر کام کرنے والے مردوخواتین یا ایسے کام کی نوعیت میں مشغول افراد جس سے انکاپورا وقت بیٹھ کر گزرتا ہو اور جسمانی حرکت ناہونے کے برابر ہو۔ان تمام مردوخواتین کو چاہئے کہ اپنی روٹین میں تبدیلی لائیں اور اپنے بڑھتے ہوئے جسمانی وزن کو کنٹرول کریں اورسارا دن جتنی بار بھی ممکن ہو گہرے سانس لے کر پیٹ کو اندر کی طرف کھنچیں۔ یہ معمولی سی ورزش آپ کاپیٹ کم کرنے میں کارگرثابت ہوگی۔اس کے علاوہ کچھ قدرتی غذائیں بھی ایسی ہوتی ہیں جو جسم کی زائد چربی کوجلانے کی خصوصیت رکھتی ہیں۔

ان غذاؤں میں دافع سوزش کی خصوصیات بھی موجود ہوتی ہیں۔جو جسم کی سوزش کوکم کرنے میں مدد کرتی ہیں۔مندرجہ ذیل سطور میں آپ کو حیرت انگیز فائدہ مندغذاؤں کے بارے میں معلومات فراہم کی جارہی ہیں جو آپ کے جسم کو صحت مندوتندرست رکھنے کے ساتھ ان غذاؤں کے استعمال سے آپ سلم واسمارٹ اور پتلی کم کی مالک بن سکتی ہیں۔

تازہ پھل اور سبزیاں

تازہ پھل اور سبزیوں میں کثیر مقدار میں غذائیت بخش اجزاء فائبر موجود ہوتا ہے۔جو دافع سوزش کی خوبی کاحامل ہوتا ہے۔یہ لوکیلوریزہونے کی وجہ سے آپ کے وزن میں بھی اضافہ نہیں کرتے اور آپکو صحت مند اور توانا رکھنے میں معاون کاکردار ادا کرتے ہیں۔لہٰذا اپنے روزمرہ کی روٹین میں پھل اور سبزیوں کوضرور شامل کریں۔جو آپ کو سارا دن چاک وچوبند بھی رکھ سکیں۔

گرین ٹی

سبز چائے یہ منفرد خصوصیات کی حامل چائے آپ کی کمرکو کم کرنے میں مددکرتی ہے۔یہ چائے فلاؤنائٹس کی خوبی پرمشتمل ہوتی ہے جو قدرتی دافع سوزش کی خصوصیات کی بھی مالک ہوتی ہے۔ سبز چائے میں موجودEGCGکمپاؤنڈ آپ کے جسم سے اضافی چربی کوجلانے میں مددگار ثابت ہوتاہے۔

اومیگا3فیٹی ایسڈ

جدید تحقیق اور مطالعے سے یہ بات معلوم ہوئی ہے وہ افراد جو اپنی غذا میں اومیگا فیٹی ایسڈ 3 کی خوبیوں سے بھر پور غذاؤں کا استعمال کرتے ہیں۔وہ وزن بڑھنے کی پریشانی اور بلڈپریشر جیسی خطر ناک بیماری سے محفوظ رہتے ہیں اومیگا 3فیٹی ایسڈ اخروٹ ،السی کے بیجوں اور مچھلی میں وفرمقدار میں موجود ہوتا ہے۔لہٰذا اگر آپ وزن کم کرنے کی خواہش رکھتی ہیں توا ن غذاؤں سے فائدہ اٹھائیں۔

مصالحہ جات

وزن کم کرنے کیلئے آپ کو کسی سلمنگ ٹی یاکوئی بھی مضر صحت پروڈکٹ استعمال کرنے کی بالکل ضرورت نہیں بلکہ آپ اپنے کچن میں موجود چیزوں کی مدد سے پیٹ کی چربی کم کرسکتی ہیں۔لہسن، ادرک ہلدی،لال مرچ،دارچینی اور دھنیا یہ تمام مصالحہ جات آپ کے وزن کوکم کرکے آپ کوسلم ودبلابناسکتے ہیں۔

پانی

پانی ایک ایسی نعمت خداوندی ہے جوآپ کے جسم کو ہر قسم کی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔بڑھے ہوئے وزن اور کمرے جیسی کمر کوکم کرنے کی خواہش رکھنے والی خواتین زیادہ سے زیادہ مقدار میں پانی پئیں۔دن میں8-9گلاس پانی پینا اپنا معمول بنالیں۔یہ عادت صرف آپ کے وزن کوکم کرنے میں معاون ثابت ہوگی بلکہ آپ کے جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔

گندم

اس میں کثیر تعداد میں فائبر موجود ہوتا ہے جو آپ کے جسم مین انسولین کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے۔گندم میں موجود وٹامنBکی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جوجسم عضلات میں سوزش کوکم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے اور جسم میں موجود چکنائی جو موٹاپے کا باعث بن رہی ہے اس کوکم کرتی ہے۔

مزید : ایڈیشن 2