اٹلی میں اچانک مہاجرین کی آمد کم کیسے ہوئی؟ ماہرین پریشان

اٹلی میں اچانک مہاجرین کی آمد کم کیسے ہوئی؟ ماہرین پریشان

روم(این این آئی)بحیرہ روم کے سمندری راستوں کے ذریعے اٹلی پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اچانک کمی ہوئی ہے۔ مہاجرت کے امور کے ماہرین کو اس اچانک کمی کی وجوہات جاننے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق عام طور پر گرمیوں کے موسم میں بحیرہ روم کے سمندری راستوں کے ذریعے شمالی افریقی ممالک سے اطالوی ساحلوں کا رخ کرنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر رواں برس اس رجحان میں اچانک کمی دیکھی گئی ہے۔اطالوی حکام کے مطابق اس برس یکم جولائی سے لے کر اب تک ساڑھے تیرہ ہزار تارکین وطن نے ان راستوں کا انتخاب کیا۔

یہ تعداد گزشتہ برس کے اسی دورانیے کے دوران ساڑھے تیس ہزار سے زائد رہی تھی۔ان سمندری راستوں کے ذریعے اٹلی کا رخ کرنے والے زیادہ تر تارکین وطن کا تعلق سب صحارا کے افریقی ممالک سے ہے، جو اپنے وطنوں میں جاری پر تشدد واقعات کے باعث ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔تاہم اقوام متحدہ کے مہاجرین سے متعلق ادارے (یو این ایچ سی آر) کی ترجمان باربرا مولیناریو کے مطابق ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ رجحان حقیقی ہے۔کچھ ماہرین کے مطابق مہاجرین کی آمد میں کمی کی بظاہر وجہ لیبیائی ساحلی محافظوں کی جانب سے کی گئی سختی ہے۔ یورپی یونین نے رواں موسم سرما میں لیبیاکے سو سے زائد ساحلی محافظوں کو تربیت فراہم کی تھی۔لیکن بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت اس جواز سے متفق نہیں ہے۔ آئی او ایم کے مطابق جولائی کے مہینے میں ان ساحلی محافظوں نے قریب دو ہزار تارکین وطن کو اٹلی کی جانب سفر کرنے سے روکا تھا۔ جب کہ اس سے پہلے جون کے مہینے میں ان کوسٹ گارڈز نے چار ہزار سے زائد تارکین وطن کو سمندری راستے اختیار کرنے سے روک دیا تھا۔مہاجرت پر نظر رکھنے والے کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں کے دوران بحیرہ روم میں مہاجرین کو ریسکیو کرنے والی سماجی تنظیموں نے اطالوی اور یورپی حکومتوں کے سخت اقدامات کے باعث اپنی سرگرمیاں محدود کر دی ہیں۔ انسانوں کے اسمگلر تارکین وطن کو دانستا? ان امدادی بحری جہازوں کے قریب لے آتے تھے جس کے بعد سماجی ادارے انہیں ریسکیو کر کے اٹلی پہنچا رہے تھے۔لیکن یہ وضاحت بھی اس لیے درست نہیں ہے کیوں کہ سماجی اداروں کی امدادی سرگرمیاں پہلے ہی کافی کم تھیں۔ علاوہ ازیں اب بھی سماجی اداروں کے تین بحری جہاز مہاجرین کو بچانے میں سرگرم ہیں۔اریٹریا سے تعلق رکھنے والے موسیٰ زیرائے مشکل وقتوں میں مہاجرین کی مدد کرتے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ مہاجرین کی کمی کی ایک بڑی وجہ یورپی یونین اور ان ممالک کے مابین طے پانے والے معاہدے ہیں، جن سے گزر کر عموما? مہاجرین یورپ کا رخ کر رہے ہیں۔

مزید : عالمی منظر