بھارت سے روہنگیا مسلمانوں کی بے دخلی پر تشویش ہے: اقوام متحدہ

بھارت سے روہنگیا مسلمانوں کی بے دخلی پر تشویش ہے: اقوام متحدہ

نیو یا رک(آن لائن)اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے بھارت کی جانب سے روہنگیا مسلمان مہاجرین کو غیرقانونی سکونت کے باعث ڈی پورٹ کرنے کے منصوبے پر تشویش کا اظہار کردیا ہے۔بدھسٹ ملک میانمر سے ہزاروں روہنگیا مسلمان 1990 کی دہائی سے پڑوسی ملک بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کررہے ہیں جبکہ بڑی تعداد ایک غیرمحفوظ سرحد سے بھارت بھی پہنچتی ہے۔نیویارک میں اقوام متحدہ کے مرکز میں انتونیو گوٹریس کے نائب ترجمان فرحان حق نے میڈیا نے معمول کی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بالکل مہاجرین کے ساتھ سلوک کے حوالے سے ہمارے تحفظات ہیں'۔ان کا کہنا تھا کہ جب ایک دفعہ مہاجر کے طور رجسٹر ہوتا ہے تو انھیں اس ملک میں واپس نہیں بھیجا جاسکتا جب تک ان کے لیے وہاں پر ظلم کا خطرہ موجود ہو۔خیال رہے کہ بھارت نے اعلان کیا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کو ڈی پورٹ کر دیا جائے گا چاہے ان کی رجسٹریشن اقوام متحدہ کے مہاجرین کے طور پر ہوئی ہو یا نہیں۔انتونیو گوٹریس اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بننے سے قبل مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے ہائی کمشنر تھے اور وہ مہاجرین کے حقوق کے بڑے حامی ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ یواین ایچ سی آر اس معاملے کو بھارتی حکومت کے ساتھ اٹھائے گا اور بھارت کو مہاجرین کے حوالے سے اقوام متحدہ کی پوزیشن کی یاد دہانی کرادی۔انھوں نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جبری بے دخلی کے خلاف ہمارے اصول سے آگاہ ہیں'۔فرحان حق کا کہنا تھا کہ 'اصولوں کے مطابق مہاجرین کو ایسی جگہ واپس نہیں بھیجا جاسکتا جہاں ان کی زندگی اور آزادی کو مذہبی، قومیت، کسی خاص سماجی گروپ کی رکنیت یا سیاسی نظریات کے معاملات پر خطرات لاحق ہوں'۔دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی بے دخلی غیراخلاقی فعل تصور کیا جائے گا۔

مزید : عالمی منظر