ملک میں ٹیکنو کریٹس حکومت کی گنجائش نہیں ، تبدیلی ووٹ سے آنی چاہیے : خواجہ سعد رفیق

ملک میں ٹیکنو کریٹس حکومت کی گنجائش نہیں ، تبدیلی ووٹ سے آنی چاہیے : خواجہ ...

لاہور( این این آئی)وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ملک میں ٹیکنو کریٹس حکومت کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں اور اگر کسی کے ذہن میں یہ بات ہے تو وہ اسے نکال دے ،یہاں مارشل لاء ز پٹ چکے ہیں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایگزیکٹو آڈر ، عدالتی احکامات سے سیاستدان کو سیاست سے بیدخل کیا جا سکتا ہے تو وہ غلطی پر ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں کسی اور کے ساتھ ایسا نہ ہو ،نواز شریف اب اپنے لئے کسی عہدے کے طلبگار نہیں بلکہ وہ ملک کی سمت کو سیدھا کرنا چاہتے ہیں ،تبدیلی ووٹ کے ذریعے آنی چاہیے ،اب فیصلے کوئی اور نہیں کرے گا اگر ایسا ہو اتو اسے تسلیم نہیں کریں گے ،(ن) لیگ کی ریلی کا کوئی ٹارگٹ نہیں تھاہم نے کسی سے لڑنا جھگڑنا ہے نہ محاذ آرائی کرنی ہے کیونکہ پاکستان کسی انتشار اور افراتفری کا متحمل نہیں ہو سکتا،ہم نے پاکستان کو مصر ، شام ، یمن ، افغانستان نہیں بننے دینا ، عالمی طاقتوں کی گریٹ گیم کو کامیاب نہیں ہونے دینا ، آج اگر ایک سیاستدان مائنس ہوا تو اس پر خوش نہیں ہونا چاہیے کیونکہ کل اگلے کی باری بھی آسکتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریلوے سٹیشن پر یوم آزادی کی مناسبت سے چلائی گئی آزادی ٹرین کی لاہور آمد کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ریلوے کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آزادی ٹرین کی تعمیر اور تشکیل کرنے والوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ یہ ٹرین شہر شہر نگر نگر جاتی ہے اور پاکستان سے محبت اور پاکستانیت کا درس پھیلاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریلوے پر غیر ملکی قرضے کا ایک پیسہ نہیں لگا بلکہ ہم جو خود کماتے ہیں یا وفاقی حکومت سے مختلف مدوں میں ملتے ہیں ان سے کام چلایا ہے ۔ دو کروڑ مسافروں کا اضافہ ہوا ہے ،مال گاڑی جو ختم ہو چکی چکی تھی اس کی تعداد اور استعداد کار میں اضافہ کیا گیا ہے اور یہ شعبہ ہماری معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی چھ سے سات ماہ باقی ہیں اور انشا اللہ ان مہینوں میں دو سے ڈھائی سال کا کام کر کے دکھائیں گے اور بہت سے نا مکمل منصوبے مکمل کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی ووٹ کے ذریعے آنی چاہیے اور لوگوں کے فیصلے کو تسلیم کیا جانا چاہیے ، فیصلے کوئی اور نہیں کرے گا اور اگر ایسا ہو گا تو تسلیم نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کسی کو ٹارگٹ کیا او رنہ کوئی ٹارگٹ ہے ، ہم نے لڑنا ہے اور نہ محاذ آرائی کرنی ہے ۔ ہم ابھی تک جہالت ، غربت کو شکست نہیں دے سکے ، دہشتگردی کے بیج اکھاڑ نہیں سکے ابھی ہم نے بہت آگے جانا ہے ، لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان ہیں جنہیں روزگار فراہم کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بہتری کا سفر جاری رہے گا ، نواز شریف سرکار چلا رہے تھے لیکن ہمارے مہربانوں نے مہربانی کی اب سیاست چلانے کی ذمہ داری بھی ساتھ ساتھ نبھائیں گے ، نواز شریف کے ساتھی ،کارکن حکومت چلائیں گے اور سیاست نواز شریف کے ہاتھ میں رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جی ٹی روڈ سفر میں سب کے اندازے غلط ثابت ہوئے بلکہ ہمارے اپنے انداز بھی غلط نکلے ۔عام ، غریب ،مڈل کلاس ،لوئر مڈل کلاس طبقے کو سیاست کی زیادہ سمجھ ہے ۔ جو شخص دس کنال کے گھر میں رہتا ہے اور جو دو مرلے کے مکان میں رہتا ہے دونوں کاووٹ برابر ہے اور اسے ماننا پڑے گا ، ون مین ون ووٹ کو ماننا پڑے گا،یہاں اشرافیہ کی نہیں چلے گی بلکہ عام آدمی کا فیصلہ بھی ماننا پڑے گا ۔ ہم نے پاکستان کو مصر ، شام ، یمن ، افغانستان نہیں بننے دینا ، عالمی طاقتوں کی گریٹ گیم کو کامیاب نہیں ہونے دینا ۔ جب سیاستدان ایک دوسرے کا منہ کالا کریں گے ایک دوسرے کو عدالتوں میں گھسیٹیں گے تو بات دور تک جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ آج کل ایک کھلاڑی سیاست میں ہے لیکن ہم بتانا چاہتے ہیں کہ سیاستدان کبھی بھی عدالتی فیصلے سے نا اہل نہیں ہوتے بشرطیکہ سیاستدان زرداری صاحب والا راستہ استعمال نہ کرے ۔ پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے ، اگر ملک کی حفاظت کرنی ہے تو ووٹ کی حفاظت کرنی پڑے گی اور سب کو ووٹ کے فیصلے کو ماننا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنو کریٹس حکومت کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں اور اگر کسی کے ذہن میں ایسی کوئی بات ہے تو اسے نکال دے ۔

سعد رفیق

مزید : علاقائی