ملی مسلم لیگ کی منزل اقتدار نہیں ، نفاذ نظام اسلام اور تحفظ نظریہ پاکستان ہے : سیف اللہ خالد

ملی مسلم لیگ کی منزل اقتدار نہیں ، نفاذ نظام اسلام اور تحفظ نظریہ پاکستان ہے ...

لاہور( ایجوکیشن رپورٹر )ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد نے کہا ہے ہم ملک میں اقتدار نہیں اتحاد،یکجہتی اور استحکام پا کستا ن کی سیاست کریں گے۔ قیام پاکستان کے مقاصد کو عام کرنا اور نظریہ پاکستان کا تحفظ ہمارا مشن ہے۔ آنیوالے دنو ں میں پاکستانی سیاست میں مثبت اور فعال کردار ادا کریں گے۔ این اے 120میں کامیابی ملی مسلم لیگ کے قدم چومے گی ۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں، تاجروں، وکلاء، طلباء اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی جانب سے ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار محمد یعقوب شیخ کی حمایت کی جارہی ہے۔ گلشن راوی، لیک روڈ اور دیگر مختلف علاقوں میں کارنر میٹنگوں سے خطاب میں انکا مزید کہنا تھا ہم نے یہ بات طے کرلی ہے قوم کوجوڑنا،اتحادقائم اوروحدت کا ما حول تشکیل دیناہے۔ملک وعوام کی خدمت کرنی ہے اسکی نظریاتی وجغرافیائی سرحدوں کی حفاظت اورنظام ریاست کی ا صلا ح کرنی ہے۔ہم نے لسا نیت ،صوبائیت،علاقائیت اورشخصی مفادات کے ماحول سے قوم کونکالناہے۔ ہماری قوم میں ا تحا د ، ا تفاق، پیار،محبت، روا د ا ر ی،ایثارو قربانی اورباہمی یگانگت کاایک خطرناک خلاپیداہورہاہے،ہم نے اس خلا کو پر کرناہے،قوم کے نوجوانوں،بزرگوں اوربچوں کوپیارومحبت کے رشتوں میں جوڑناہے۔آپ دیکھیں گے کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔ اسلام کانفاذ،نظریہ پا کستا ن کااحیا،ملکی استحکام،نصاب ،نظام اورتعلیمی اداروں کی اصلاح اورمسئلہ کشمیر کاحل ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ہم عد لیہ ، مقننہ ،میڈیاسمیت ہرادارے ا و رہر شعبہ زندگی کی بنیاد نظریہ پاکستان پراستوارکرنااورتمام اداروں پرنظریہ پاکستان کی ترویج وبالادستی چاہتے ہیں ۔ ہما ر ا د و سر اہدف ایسی قیادت کی تیاری ہے جوصحیح معنوں میں مسلمان،محب وطن،صادق وامین ہو اور اس کے تانے بانے دشمن سے جڑے ہوئے نہ ہوں۔1973ء کاآئین پاکستان کی اسلامی بنیادوں پر تشکیل کا واضح لائحہ عمل متعین کرتاہے،اس آئین کوہم نے ملک کی عملی تعبیر بنا نا ہے ۔ پاکستان آل انڈیامسلم لیگ نے بنایاتھااور ملی مسلم لیگ پاکستا ن کواس کے قیام کے مقاصد سے روشناس اور مضبوط ومستحکم کریگی ۔ملی مسلم لیگ کے منشورمیں یہ بات شامل ہے کہ مسئلہ کشمیرہمارے لئے ا ہم تر ین ہے،یہ پاکستان کی شہ رگ اور ہمارے لئے زندگی اورموت کی حیثیت رکھتا ہے۔ہماری سیاسی جدوجہدمیں مسئلہ کشمیر کو مر کزی حیثیت حاصل ہوگی اور کشمیرکی آزادی کیلئے جدوجہدکرنیوالوں کی ہم ہرممکن مددوحمایت کریں گے ۔ مسئلہ کشمیرکے حل کی18قراردادوں پربھارت کے دستخط موجود ہیں ، مسئلہ کشمیرکاعالمی ایجنڈے پر ہو نا ا س بات کا ثبو ت ہے یہ متنازع اورحل طلب مسئلہ ہے۔لہٰذاہم عالمی برادری مسئلہ حل اور کشمیریوں پر مظا لم بندکروائے ۔

سیف اللہ خالد

 

مزید : علاقائی