سول لائن ڈویژن کے سرکل قلعہ گجر سنگھ اور گڑھی شاہو سنگین جرائم میں ٹاپ کر گئے

سول لائن ڈویژن کے سرکل قلعہ گجر سنگھ اور گڑھی شاہو سنگین جرائم میں ٹاپ کر گئے

لاہور(لیاقت کھرل) سول لائن ڈویژن کے سرکل قلعہ گجر سنگھ میں سیفٹی کیمروں کی تنصیب ،ڈولفن اور پیرو فورسز کے گشت، سنیپ چیکنگ کے باوجود سنگین نوعیت کے جرائم میں دیگر سرکلز کی نسبت اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ’’روزنامہ پاکستان‘‘ کی جانب سے قلعہ گجر سنگھ سرکل کے ماتحت تھانوں قلعہ گجر سنگھ اور تھانہ گڑھی شاہو کی حدود میں سنگین جرائم کی شرح کا جائزہ لیا گیا تو سال 2016کے پہلے سات ماہ کی نسبت سال 2017کے پہلے سات ماہ میں ڈکیتی، راہزنی اور گاڑیاں و موٹر سائیکلیں چھیننے و چوری کی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا۔ علاقوں میں فورسز کے مسلسل گشت ، کیمروں کی تنصیب کے باوجود جرائم میں کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ تھانہ قلعہ گجر سنگھ کی حدود میں گزشتہ سات سے آٹھ ماہ کے دوران 1041شہریوں نے تھانہ میں مقدمات کے اندراج کے لیے رجوع کیا۔ پولیس نے 723مقدمات رجسٹرڈ کیے۔ 19اہلخانہ کو یرغمال بنا کر لوٹا گیا۔ پولیس نے ڈکیتی کی دفعہ 392 کے تحت 11مقدمات رجسٹرڈ کئے لیکن کسی ایک ڈکیتی کا بھی سراغ نہیں لگایا جاسکا ہے۔ اسی طرح سال 2017میں مارکیٹوں اور دکانوں پر لوٹ مار کے 9واقعات پیش آئے۔ پولیس نے شاپ رابری کے صرف چار مقدمات رجسٹرڈ کیے۔ شاہراؤں اور سڑکوں پر 10 فیملیوں سے لاکھوں روپے اسلحہ کے زور پر چھین لئے گئے۔ پولیس نے شاہراہ عام کی 4وارداتوں کے مقدمات رجسٹرڈ کیے۔ اسی طرح تھانہ قلعہ گجر سنگھ کی حدود میں گاڑیاں چھیننے و چوری کے 42واقعات پیش آئے۔ پولیس نے 25واقعات کے مقدمات رجسٹرڈ کیے۔ جس میں موٹرسائیکل چھیننے کے چار واقعات میں سے ایک واقعہ کا مقدمہ درج کیا۔ کار چوری کی سات وارداتیں ہوئیں۔ پولیس نے چار وارداتوں کے مقدمات رجسٹرڈ کیے۔ اسی طرح موٹر سائیکل چوری کی 29وارداتیں اور پولیس نے 23وارداتوں کے مقدمات رجسٹرڈ کیے جبکہ کیری ڈبہ چوری کے دو واقعات پیس ہوئے۔ پولیس نے ایک مقدمہ درج کیا۔ اس کے باوجود پولیس ڈکیتی، راہزنی اور گاڑیاں چوری کے کسی ایک واقعہ کا سراغ نہیں لگا سکی ہے۔ جبکہ دو ارب سے مالیت کے 19شہریوں کے ساتھ نوسربازی، فراڈ کے واقعات پیش آئے۔ پولیس نے فراڈ کی دفعہ 406کے تحت10مقدمات رجسٹرڈ کیے اور صرف 6مقدمات میں تفتیش مکمل کی جاسکی ہے۔اسی طرح تھانہ گڑھی شاہو کی حدود میں دکانوں پر لوٹ مار کے واقعات زیادہ پیش آئے ہیں۔ اور دس روز قبل تھانہ سے چند فرلانگ کے فاصلے پر دو گھنٹے کے اندر تین دکانوں پر ڈاکوؤں نے لوٹ مار کی۔ موٹرسائیکل چوری اور کار چوری کے 21واقعات میں سے پولیس نے 11مقدمات رجسٹرڈ کیے۔ اسی طرح ڈکیتی کے 5واقعات کے مقدمات رجسٹرڈ کیے۔ جبکہ دو شہریوں سے گاڑیاں چھینی گئیں اور ایک واقعہ کا مقدمہ رجسٹرڈ کیا گیا۔ موٹرسائیکل سواروں اور خواتین سے موبائل فون اور پرس چھیننے کے 11 واقعات پیش آئے۔ پولیس نے صرف 3واقعات کے مقدمات رجسٹرڈ کیے ہیں۔ پولیس کی ایک بڑے واقعہ کا سراغ نہیں لگا سکی ہے۔ جبکہ اس حوالے سے ڈی ایس پی قلعہ گجر سنگھ غلام دستگیر خان کا کہنا ہے کہ قلعہ گجر سنگھ سرکل میں گزشتہ سال کی نسبت رواں سال میں سنگین کرائم میں 30سے 35فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ جبکہ ڈولفن فورس، پیروسکواڈ کی گشت اور کیمروں کی تنصیب سے سنگین کرائم روز بروز کم ہورہا ہے۔ دونوں تھانوں کی پولیس نے ڈکیتی، راہزنی اور چوری کے متعدد گینگز گرفتار کیے ہیں۔ جن سے لاکھوں روپے کی ریکوری کی گئی ہے۔ قلعہ گجر جبکہ 100سے زائد اشتہاریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

مزید : علاقائی