تحریک آزادی میں سندھ کے صوفیاء کا کردار

تحریک آزادی میں سندھ کے صوفیاء کا کردار

پاکستان کی سوہنی دھرتی کے چپے چپے پر ایسے بڑے بڑے فقیروں، پیروں، درویشوں اور قلندروں کے جھنڈے گڑے ہوئے ہیں جو مرحوم محمد حنیف رامے کے مطابق ’’سونے والوں کی نظر میں سوئے ہوئے اور جاگنے والوں کی نظر میں جاگ رہے ہیں‘‘۔

ایک پنجاب کی سرزمین ہی نہیں ادھر سندھ کی دھرتی بھی ایسے موتیوں سے بھری پڑی ہے، جنھوں نے اسلام اور پاکستان کی ترویج میں اپنی زندگیاں تیاگ دی تھیں۔ اسی لئے تحریک پاکستان کو ایک روحانی تحریک بھی کہا اور مانا جاتا ہے جس میں علماء ومشائخ نے بھرپور حصہ لیا تھا۔ بھرچونڈہ شریف کے پیر عبدالرحمن ؒ ایک ایسی ہی شخصیت تھے جنھوں نے سندھ میں تحریک پاکستان کا دیا جلایا تھا۔ قائداعظمؒ پیر عبدالرحمن بھرچونڈیؒ پر نہایت درجہ اعتماد اور سندھ کے سیاسی احوال پر ہمیشہ ان سے مشاورت کرتے تھے۔یاد رہے کہ صوبہ سندھ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس صوبہ کی اسمبلی نے سب سے پہلے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور کی تھی۔

نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری جنرل شاہد رشید نے بتایا کہ حصول پاکستان کی جدوجہد میں خانقاہ عالیہ بھرچونڈی شریف کے کردار کو کسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ پیر عبدالرحمن بھرچونڈیؒ نے اپنے شب وروز پاکستان کے لئے وقف کر رکھے تھے اور آپ نے اس دوران چلنے والی تمام اہم تحریکوں میں نمایاں حصہ لیا۔ صوبہ سندھ میں کانگریس کا زور توڑنے اور مسلم لیگ کو مضبوط بنانے میں آپ کا کردار کلیدی تھا۔

اس سے مجھے بھارتی سیاستدان ایل کے ایڈوانی کی انگریزی زبان میں تحریر کردہ سوانح حیات My Country My Lifeیاد آگئی، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ سندھ میں نہ صرف کانگریس بلکہ آر ایس ایس بھی بھرپور طریقے سے سرگرم تھی اور یہ کہ ہندوؤں نے آج بھی سندھ کی تقسیم کو دل سے تسلیم نہیں کیا ہے، کیونکہ دریائے سندھ کو گنگا اور جمنا کی طرح ہندو بہت مقدس مانتے ہیں، بلکہ وہ تو یہاں تک بیان کرتے ہیں کہ سندھ میں بہت سے مسلمانوں کے لئے دریائے سندھ کی تقدیس بھی زم زم کے پانی سے کم نہیں ہے ۔

پھر مجھے پنڈت جواہر لال نہرو کی کتاب The Discovery of Indiaیاد آئی جس میں لکھا ہے کہ لفظ ہندو دراصل سندھو سے ماخوذ ہے جو کہ Indus Riverکا پرانا نام تھا۔ ان کے بقول Indiaکا لفظ Indusاور Hindustanکا لفظ Hinduسے ماخوذ ہیں۔

سندھ میں ہندو اثرونفوذ کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ مہاتما گاندھی نے تقسیم سے قبل سات مرتبہ سندھ کا دورہ کیا تھا۔ وہ پہلی مرتبہ 1916 ء پھر 1917ء اس کے بعد 1920ء، 1921ء، 1929ء، 1931ء اور آخر میں 1934ء میں آئے۔ اسی طرح 1947ء تک بھی آر ایس ایس کے سرکردہ لیڈر سندھ یاترا کرتے رہے اور اس کوشش میں رہے کہ کسی طرح سندھ پاکستان سے نہ ملنے پائے۔ 1947ء میں جب سندھ کا پاکستان سے الحاق کا فیصلہ ہوگیا تو ایڈوانی اس وقت لگ بھگ بیس برس کے تھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ آر ایس ایس کے ایک لیڈر جب کراچی ریلوے اسٹیشن پر پہنچے تو انہوں نے اس لیڈر کو بتایا کہ ان سے قبل اچاریہ کرپلانی بھی کراچی آئے ہیں تو اس پر اس لیڈر نے ناگواری سے کہا:’سندھ گنوا کے اب سندھ آئے ہیں؟‘

ایڈوانی کی سوانح حیات اس پیراگراف سے شروع ہوتی ہے کہ کراچی کے ایک سکول کے بچوں نے پاکستان تقسیم ہونے کی مٹھائی کھانے سے انکار کردیا تھا، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ سندھ کو پاٹا نہیں جا سکتا ہے۔

یہ تھا وہ ماحول جس میں سندھ کے مسلمانوں نے قائد اعظم کی آواز پرلبیک کہتے ہوئے ایک خودمختار پاکستان کی بنیا درکھی تھی ۔1946ء میں بنارس میں منعقدہ آل انڈیا سنی کانفرنس نے تحریک پاکستان کو مہمیز دی۔ بھرچونڈہ شریف کے پیر عبدالرحمن بھرچونڈیؒ نے اس کانفرنس میں صوبہ سندھ کی بھرپور نمائندگی کی۔ آپ کو قائداعظمؒ کا بھرپور اعتماد حاصل تھا، آپ نے صوبہ سندھ میں مسلم لیگ کو مضبوط و منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔

گزشتہ دنوں خانقاہ عالیہ قادریہ بھرچونڈی شریف ،ڈھرکی (سندھ) میں تحریک پاکستان میں علماء مشائخ کے مجاہدانہ کردار اور شہدائے تحریک پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے منعقدہ ’’پاکستان پائندہ باد کانفرنس ‘‘کے دوران یہ باتیں سامنے آئیں۔ کانفرنس کا اہتمام نظریۂ پاکستان فورم گھوٹکی نے کیا تھا۔اخبارات میں اس کی تفصیل پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی جڑیں اس قدر گہری ہو چکی ہیں کہ ایک طرف بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کو پاکستان کی لڑی میں پرورہا ہے تو دوسری جانب سندھ میں ان گمشدہ ہیروں کو تلاش کر رہا ہے جن کا تحریک پاکستان میں کردار ابھی تک پاکستانیوں کی نظر سے اوجھل ہے۔شا باش نظریہ پاکستان ٹرسٹ شاباش!

مزید : کالم