نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ نیب افسران کو تفتیشی مہارتوں کی تربیت فراہم کریگی،چیئرمین نیب

نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ نیب افسران کو تفتیشی مہارتوں کی تربیت فراہم ...

اسلام آباد(آن لائن)چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے کہا ہے کہ نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ نیب کے تفتیشی افسران کو جدید انداز میں تفتیشی مہارتوں سے متعلق تربیت فراہم کرے گی، نیب نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ کے ساتھ شراکت داری کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، دونوں ممالک کے انسداد بدعنوانی کے اداروں کے درمیان تعاون سے بدعنوانی کی روک تھام کیلئے کوششوں میں تیزی آئے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ کے کنٹری مینجر عثمان احمد سے نیب ہیڈ کوارٹرز میں ملاقات کے دوران کیا۔ اپنے خیرمقدمی کلمات میں چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے کہا کہ نیب نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ کے ساتھ شراکت داری کو انتہائی اہمیت دیتا ہے کیونکہ بدعنوانی کی روک تھام کے کام میں ملکی سرحدوں کی قید نہیں، دو اداروں کے درمیان تعاون سے بدعنوانی کی روک تھام کی کوششوں میں مدد ملے گی۔ انہوں نے دونوں اداروں کے درمیان قریبی تعاون کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے نیب کے 6 افسران کیلئے دو سٹڈی وزٹس کا اہتمام کیا جس سے نہ صرف نیب کے تفتیشی افسران کی تفتیشی مہارتوں میں اضافہ ہوا بلکہ ان کی سوچ اور بین الاقوامی طریقہ کار کے بارے میں وسعت پیدا ہوئی ہے۔ نیب کے تفتیشی افسران کی استعداد کار میں مزید اضافہ کیلئے نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ نے نیب کے متعلقہ ڈویژن کی مشاورت سے نیب افسران کیلئے تربیت کی بنیاد پر تجزیہ (ٹی این اے) پروگرام شروع کیا ہے۔ نصاب کے مضامین کو جلد حتمی شکل دی جائے گی جبکہ ماہرین کی طرف سے نشاندہی شدہ 6 شعبوں کے پانچ کورسز پاکستان میں ہوں گے جن پر اکتوبر 2017ء سے عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔ کنٹری منیجر نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ عثمان احمد نے بدعنوانی کی روک تھام کیلئے چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کی قیادت میں نیب کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ استعداد کار میں اضافہ کیلئے مذکورہ کورسز کا نصاب اور ٹریننگ ماڈیولز جلد فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جن کورسز کی آفر کی جائے گی ان کیلئے تمام فنڈز نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ فراہم کرے گی تاکہ وائٹ کالر کرائمز سمیت انکوائری اور انویسٹی گیشن کے لئے ان کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔

مزید : صفحہ آخر