سیاسی و عسکری قیادت کا بھارتی اشتعال انگیزی پر اظہار تشویش

سیاسی و عسکری قیادت کا بھارتی اشتعال انگیزی پر اظہار تشویش

اسلام آباد(اے این این) ملک کی سیاسی وعسکری قیادت کا کنٹرول لائن پر بھارت کی مسلسل بلااشتعال فائرنگ پر اظہار تشویش، افغان امن عمل کی ہرسطح پرحمایت جاری رکھنے کااعلان ،ملک میں جاری آپریشن رد الفساد کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار ، دہشت گردی کیخلاف جنگ کوہرصورت پایہ تکمیل تک پہنچانے کے عزم کااعادہ کیا ہے۔بدھ کووزیراعظم شاہدخاقان عباسی کے زیرصدارت وزیراعظم ہاؤس میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر دفاع خرم دستگیر خان ، وزیر خارجہ خواجہ آصف، وزیرخزانہ اسحق ڈار، وزیر داخلہ احسن اقبال ، قومی سلامتی کے مشیرناصرخان جنجوعہ ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ، تینوں مسلح افواج کے سربراہوں ، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی اور ڈی جی آئی بی نے شرکت۔اجلاس میں ملک اورخطے کی سکیورٹی کی صورتحال اور دہشت گردوں کیخلاف جاری آپریشن رد الفساد میں پیشرفت پرغورکیاگیاجبکہ بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن اور ورکنگ بانڈری پر بلااشتعال فائرنگ کے واقعات ۔ افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ ، پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس کے بعد جاری کئے گئے اعلامیہ میں کہا گیا کہ شرکاء نے کنٹرول لائن پر بھارتی بلااشتعال فائرنگ پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی اور مقبوضہ کشمیر میں بڑھتے ہوئے بھارتی مظالم اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے سے متعلق حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا ۔ قومی سلامتی کمیٹی نے کہا کہ خطے کا امن مسئلہ کشمیر کے حل سے منسلک ہے۔ کمیٹی نے انسداد دہشت گردی آپریشنز میں پیش رفت پر اظہار اطمینان کیا اور آپریشن ردالفساد اور خیبر 4کو دہشت گرد عناصر کے خاتمے تک جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمے کیا جائے گا اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو اپنی منزل پر پہنچایا جائے گا۔ اجلاس میں سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے دورہ افغانستان پر بریفنگ دیتے ہوئے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ افغان حکومت کو پاکستان کے دوٹوک موقف سے آگاہ کیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کیلئے ہر قسم کے مصالحتی عمل کیلئے تیار ہے ۔ بدھ کے روز وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیر اعظم ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ سمیت چاروں مسلح افواج کے سربراہوں ‘ وفاقی وزراء اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی ۔ اجلاس میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت اور ورکنگ باؤنڈری پر مسلسل بھارت کی اشتعال انگیزی پر تبادلہ خیال ہوا اس کے علاوہ کشمیر میں بڑھتے ہوئے بھارتی مظالم پر اقوام متحدہ سے رابطوں پر بھی غور کیا گیا جبکہ اجلاس میں تہمینہ جنجوعہ کی جانب سے حالیہ دورہ افغانستان پر بریفنگ بھی پیش کی گئی جس میں تہمینہ جنجوعہ نے بتایا کہ انہون نے افعان صدر سمیت دیگر اعلی قیادت سے بھی ملاقاتیں کیں ۔ تہمینہ جنجوعہ نے بتایا کہ افغانستان کے کچھ تحفظات ہیں جس پر سیکرٹری خارجہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا ۔ اس کے علاوہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ انہوں نے افغان حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان چار افریقی ممالک کے مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کیلئے کردار ادا کرنے کو تیار ہے ۔ کیونکہ پاکستان افغانستان میں ہر ممکنہ استحکام کی کوششوں کیلئے تیار ہے لیکن اس میں افغانستان کو اپنا حصہ ڈالنا ہو گا ۔سیکریٹری خارجہ نے افغان صدر اشرف غنی کو پاکستان کے دوٹوک موقف سے بھی آگاہ کیا ہے کہ افغان حکومت دہشت گرد گروپوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کیلئے اقدامات کرے اور پاکستان بھی افغانستان کے امن و استحکام کیلئے اصولی موقف پر قائم ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جائینگے ۔

سیاسی وعسکری قیادت

مزید : صفحہ اول