بھارت سے مسئلہ کشمیر کے مستقل کے حل کیلئے معنی خیز مذاکرات چاہتے ہیں: فضل الرحمٰن

بھارت سے مسئلہ کشمیر کے مستقل کے حل کیلئے معنی خیز مذاکرات چاہتے ہیں: فضل ...

اسلام آباد(صباح نیوز)چیئرمین خصوصی کمیٹی برائے کشمیر مولانا فضل الرحمن کی طرف سے جاری ایک بیان میں پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے کشمیریوں کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مکمل وابستگی و یکجہتی کا بھرپو رمظاہرہ کرنے پر آل پارٹی حریت کانفرنس کے تمام لیڈروں اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی افواج کے غیر انسانی سلوک اور ظلم و استبداد کے باوجود اپنے بنیادی حق کے خاطر پورے استقلال کے ساتھ جدوجہد آزادی کو جاری رکھتے ہوئے لازوال قربانیاں پیش کی ہیں جن کی تاریخ میں بہت کم نظیر ملتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوم سیاہ کے حوالے سے بھی کشمیری قوم کی طرف سے بھارتی غاصبانہ قبضے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل پر زور دیا۔ چیئرمین نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ کشمیر کے متعلق زمینی حقائق سے نظریں نہ چرائے بلکہ ان کا سامنا کرتے ہوئے تنازعہ کشمیر کے مستقل و پائیدار حل کے لیے پاکستان کے ساتھ معنی خیز مذاکرات کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب پوری دنیا بھارتی چال بازیوں کو مکمل طور پر جان چکی ہے کہ بھارت کی ہمیشہ سے منفی سوچ رہی ہے کہ تنازعہ کشمیر کو طوالت دیکر ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ اول تو پاکستان کشمیر کو بھول جائے یا مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگریفی کو بدل دیا جائے تاکہ اگر حالات موافق ہوجائیں تو استصواب رائے کرواکر اپنے حق میں فیصلہ لے لیا جائے لیکن ہم سلام پیش کرتے ہیں ان جان فروش کشمیری شہیدوں کو جن کی گراں قدر قربانیوں کے باعث جدوجہد کشمیر ایک ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے کہ اگر بھارتی سیاسی قیادت کی طرف سے حقیقت پر مبنی فیصلے نہ کیے گئے تو کشمیری نوجوان مزید غیر یقینی کی کیفیت میں زندگی گزارنے کی بجائے کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہونگے۔ گزشتہ سال شہید برہان وانی کی شہادت کے واقعہ نے وادی میں بسنے والے کشمیریوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ انہیں بھارتی حکومت اور افواج کی طرف سے کوئی خیر کی امید نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں عالمی اور سوشل میڈیا پر بھی کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے نا قابل معافی مظالم کی ایک طویل فہرست موجود ہے مگر حیرانگی کی بات ہے کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کی دعویدار عالمی تنظیمیں اور طاقتور ترین ملک بھی اس ضمن میں بھارتی حکومت کے خلاف کوئی مثر اقدام اٹھانے سے قاصر نظر آتی ہیں جس کی صاف وجہ بھارت سے وابستہ تجارتی اور دیگر مفادات ہیں۔ انہوں نے بھارتی پارلیمنٹ کی رکنی پینل کی جانب سے (جس میں حکمران جماعت کے ارکان بھی شامل ہیں) پیش کی گئی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب بھارتی پارلیمنٹ کے اندر سے بھی حکومت پر دبا بڑھ رہا ہے لہذا وزیر اعظم مودی کو پاکستان کے ساتھ بات چیت سے گریز کی حکمت عملی کو بدلنا ہوگا تاکہ خطے میں امن و سلامتی کو یقینی بنا کر جنوبی ایشیا کی غربت میں پسی عوام کو ترقی کی راہ پر ڈالا جاسکے۔بھارتی قیادت کو اپنے رویے میں تبدیلی لاتے ہوئے پرامن بقائے باہمی جیسے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ماضی کی پرچھائیوں سے دامن چھڑانا ہوگا تبھی وہ اپنے ملک کی عوام کو بھی ترقی یافتہ قوموں میں شمار کرسکتے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر