نواز شریف پارٹی کی صدارت کیوں نہیں کر سکتے؟ ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن اور وزارت قانون سے استفسار

نواز شریف پارٹی کی صدارت کیوں نہیں کر سکتے؟ ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن اور ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمشن پاکستان اور وفاقی وزارت قانون سے جواب طلب کرلیا ہے کہ سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد میاں محمد نوازشریف مسلم لیگ (ن) کی صدارت کیوں نہیں کرسکتے ؟ کیاپولیٹیکل پارٹیز آرڈر کی دفعہ 5آئین سے متصادم نہیں ہے ؟چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے اس سلسلے میں میاں محمدنوازشریف کومسلم لیگ (ن)کے سربراہ کے عہدے پر برقرار رکھنے کے لئے دائر درخواست پر الیکشن کمیشن اور وفاقی وزارت قانون کو 21ستمبرکے لئے نوٹس جاری کئے ہیں ۔یہ درخواست محمد امین نامی شہری نے دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن پاکستان نے پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کی دفعہ 5 کے تحت حکم جاری کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت نااہل نواز شریف کو پارٹی کی صدارت کے بھی اہل نہیں رہے ۔پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کی اس دفعہ میں کہا گیا ہے کہ جو شخص پارلیمنٹ کی رکنیت کے لئے نااہل ہوگا وہ کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار نہیں ہوسکتا جبکہ آئین کا آرٹیکل 17ہر شہری کو انجمن سازی اورسیاسی جماعت بنانے کی آزادی کا حق تفویض کرتا ہے ۔پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کی دفعہ 5آئین کے آرٹیکل 17سے متصادم ہے، آئین کے تحت ہر شہری کو سیاسی جماعت بنانے اور چلانے کا حق حاصل ہے ،آئین میں اس حوالے سے اہلیت اور نااہلیت کی کوئی قدغن نہیں لگائی گئی ہے لہذا پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کی دفعہ پانچ کو غیرآئینی قرار دیکر کالعدم کیا جائے تاکہ میاں محمد نوازشریف کو مسلم لیگ (ن) کی صدارت پر برقراررہ سکیں۔عدالت نے الیکشن کمیشن اور وزارت قانون سے 21ستمبر تک جواب طلب کیا ہے ۔

مزید : صفحہ آخر