پیسوں کی چمک نے صوبائی دارالحکومت کے پٹواریوں کو استثنا دیدیا: رپورٹ پاکستان

پیسوں کی چمک نے صوبائی دارالحکومت کے پٹواریوں کو استثنا دیدیا: رپورٹ پاکستان

لاہور(عامر بٹ سے) پیسوں کی چمک نے صوبائی دارلحکومت کے پٹواریوں کو استثناء دے دی،تھانوں کی شہادتیں ،جلسہ ،جلوسوں کی جانچ پڑتال ،علاقائی عوام کی حکمرانوں سے متعلق رائے ،منشیات فروشی کی روک تھام و دیگر قانونی اور پچیدہ نوعیت کے معاملات ،لینڈ ریونیو ایکٹ ،آرٹیکل شقوں میں شامل ہونے کے باوجود عمل نہیں کیا جارہا ، تفصیلات کے مطابق اختیارات کا نشہ اور پیسوں کی چمک اور ریل پیل نے صوبائی دارلحکومت دارلحکومت کے 300سے زائد موضع جات میں تعینات پٹواریوں کو اپنے بنیادی فرائض استثناء دے دی ہے لینڈ ریونیو ایکٹ میں شامل شقوں کے مطابق پٹواری کا فرض ہے کہ اپنے حلقہ میں ہونے والے جائیداد سے متعلق رپورٹ ، موضع جات کی حدود میں بڑے جرائم میں شہادتوں کی وصولی ،ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے کہنے پراپنے حلقہ میں جلسہ ،جلوسوں میں کی جانے والی رپورٹ لکھیں اور ان کی جانچ پڑتال کریں ،اس کے علاوہ علاقائی عوام کی ملکی حکمرانوں سے متعلق ذاتی رائے،منشیات فروشی کی روک تھام میں پٹواری پر لازم ہے کہ اگر اس کے حلقہ میں کسی بھی مقام منشیات فروشی یا شراب کی کشید یا فروخت کی کی اطلاع یا مصدقہ معلومات ہوں تو وہ اس کی اطلاع کی باقاعدہ روزنامچہ واقعاتی میں رپٹ کا اندراج کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ کو بھجوائے جانے کا پابند ہے۔دوسری جانب یہ بھی لازم ہے کہ وہ نزدیک ترین مجسٹریٹ یا تھانہ کے افسرکو اس مشکوک یا یقینی جرم کے بارے میں اطلاع مہیا کرے۔وہ یہ اطلاع زبانی یا تحریری شکل میں دے سکتا ہے تاہم ایسا محسوس نہ ہو کہ پٹواری چوکیداروں اورنمبرداروں کام بھی کررہے ہیں ۔ مندرجہ بالا حقائق اور بیان کی گئی پٹواریوں کی ذمہ داریوں دیگر قانونی اور پچیدہ نوعیت کے دوسرے معاملات ،لینڈ ریونیو ایکٹ1967 کی شقوں میں شامل ہونے کے باوجود ان دفعات پر عمل نہیں کیا جارہا ہے ۔لاہور کے علاوہ پنجاب کے بیشتر دیہی اضلاع کے پٹواری اپنے اپنے علاقوں اور موضع جات میں رولز آف بزنس کے مطابق مندرجہ بالا تمام معاملات کی رپورٹ متعلقہ محکمو ں میں فراہم کرتے ہیں ، لیکن افسران بالاجن میں ، ایڈیشنل ڈپٹی کلکٹر ،کلکٹر،تحصیلدار،نائب تحصیلدار اور سیٹلمنٹ آفیسر کی جانب سے عمل درآمد کروانے میں ناکام ہو چکے ہیں ریونیو ماہرین کا کہنا ہے کہ روزنامہ پاکستان کی اس نشاندہی پر ناصرف محکمہ ریونیو کے انتظامی افسران کی کارکردگی اور مانیٹرنگ کی پراگرس رپورٹ کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے بلکہ یہ محکمہ ریونیو کے افسران کے لئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بھی ہے دوسری جانب محکمہ ریونیو کے ترجمان کا کہناہے کہ روزنامہ پاکستان کی اس نشاندہی کا نوٹس لیا جائے گا اور غفلت میں ملوث ریونیو سٹاف سے اس ضمن میں تحریری جوابات وصول کئے جائیں گے۔

مزید : صفحہ آخر