پارلیمنٹ الیکشن بل 17کے نقائص دور کرکے الیکشن کمیشن کی خودمختاری بڑھائے: فافن

پارلیمنٹ الیکشن بل 17کے نقائص دور کرکے الیکشن کمیشن کی خودمختاری بڑھائے: فافن

اسلام آباد(صباح نیوز) فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک(فافن) نے پارلیمان پر زور دیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی آزادی و خود مختاری کو بڑھا نے ، انتخابی شفافیت کو یقینی بنانے کی راہ میں حائل رکاوٹیں ہٹانے، نگران حکومتوں کے تقرر کا عمل بہتر بنانے اور سیاسی جماعتوں پر مخصوص خا ند ا نو ں کے تسلط کو ختم کر نے کیلئے مجوزہ الیکشن بل17ء میں پائی جانیوالی اہم خامیوں کو دور کیا جائے۔ ایک ایسی قانون سازی جو ملک کے تمام سیاسی عناصر کی خواہشات کی عکاس ہو کو ممکن بنانے کیلئے پارلیمان میں مجوزہ قانون پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے۔ واضح رہے انتخابی بل 17ء 7اگست 17ء کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا، ایوان اس پر بحث کریگا۔ اگرچہ فافن پارلیمان کی کثیر الجماعتی انتخابی اصلاحات کمیٹی کی طر ف سے اس بل کو پارلیمانی انداز میں حتمی بنانے کو سراہتا ہے تاہم پچاس سے زیادہ سول سوسائٹی تنظیموں کے اس اتحاد کو پختہ یقین ہے کہ ملکی انتخابی عمل کو مزید شفاف، انتخابی اہلکاروں کو قابل احتساب اور انتخابی نتائج کو نمائندہ بنانے کیلئے ابھی بھی اس قانون میں مزید بہتری کی گنجا ئش ہے۔خاص طور پر یہ مجوزہ قانون الیکشن کمیشن آف پاکستان کو انتخابی ڈیوٹی کے دوران بے ایمانی یا کسی کوتاہی کے مرتکب سرکاری اہلکار یا کسی بھی دوسرے شخص کو سزا دینے کا طریقہ کار فراہم نہیں کرتا۔ کمیشن کو صرف ایسے اہلکاروں کوہٹانے یا معطل کرنیکا اختیار تو دیا گیا ہے تاہم اس کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ وہ انہیں باضابطہ طور پر سزا دے سکے۔مزید یہ کہ مجوزہ قانون سازی نے الیکشن کمیشن کا حکومت پر انحصار مز ید بڑھا دیا ہے اور الیکشن بل17ء کی کسی بھی دفعہ پر اثر انداز ہونے میں حکومت کو کوئی دشواری نہیں،جو شق دفعہ 4 ذیلی دفعہ تین کے متصا دم ہے جس میں الیکشن کمیشن کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ قانون کے نفاذ کیلئے جو عمل ضروری سمجھے اسے اٹھائے۔ یہ بل الیکشن کمیشن کو منتخب رکن کی نا اہلیت کے متضاد اختیارات عطا کرتا ہے۔کمیشن سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے ضابطہ اخلاق کی دوبارہ خلاف ورزی کے مرتکب رکن یا ایسے رکن کو جو خواتین کو ووٹ کے عمل سے باہر رکھنے کے کسی معاہدے کا حصہ ہو نا اہل کرنیکا تو اختیار دیتا ہے تاہم لیکن کسی ایسے رکن کو نا اہل کرنیکا اختیار نہیں دیتا جس نے انتخابی اخراجات یا اثاثوں کا جعلی گوشوارہ جمع کرایا ہو۔ رزلٹ مینجمنٹ سسٹم کے متعارف کرانے سے انتخابی جعلسازی اور بے ضابطگی پر قابو پانے میں مدد ملے گی تاہم مجوزہ قانون حتمی کامیاب امیدوار کے گزٹ نوٹیفیکیشن سے قبل حتمی نتیجے کی کمیشن کی طرف سے جانچ پڑتال کو یقینی نہیں بناتا۔اسی طرح الیکشن بل 17ء میں خواتین کی انتخابی عمل میں شمولیت کو یقینی بنانے کیلئے چند مثبت اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاہم دیگر پسماندہ طبقات جیسا کہ مذہبی اقلیتوں، معذور افراد اور خواجہ سراؤں کے انتخابی حقوق اور سیاسی شرکت کے حوالے سے تشنگی باقی ہے۔ یہ بل آئین کی شق 19 اے میں عطا کئے گئے معلومات کے رسائی کے حق کے حوالے سے بھی مبہم ہے اور اس بل کی شق 195 (سی) ضروری انتخابی معلومات کے حصول سے منع کرتی ہے ، ایسی شقیں معلومات تک رسائی کے حق کو متاثر کرتی ہیں اور ناقابل قبول ہیں، فافن نے ان شقون کو حذف کرنے کی سفارش کی ہے ، مزید یہ بل الیکشن کمیشن کو پابند نہیں کرتا کہ وہ ضروری انتخابی دستا و یز ات بشمول کاغذات نامزدگی، امیدواروں کے انتخابی اخراجات کے گوشوارے، امیدواروں کے اثاثے اور سیاسی جماعتوں کے اثاثوں کے گوشوارے عوام کیلئے عام کرے۔

مزید : صفحہ آخر