فاطمہ انٹر پرائزز کو آمدن چھپانے پر 2 ارب 45کروڑ ٹیکس ادائیگی کا نوٹس

فاطمہ انٹر پرائزز کو آمدن چھپانے پر 2 ارب 45کروڑ ٹیکس ادائیگی کا نوٹس

ملتان( نیوز رپورٹر) ریجنل ٹیکس آفس آر ٹی او ملتان نے معروف فرم فاطمہ انٹرپرائزز کو آمدن چھپانے پر 2 ارب 45 کروڑ روپے کی ادائیگی کیلئے نوٹس جاری کردیا ہے جبکہ عدم ادائیگی پرفرم(بقیہ نمبر34صفحہ12پر )

کے اکاؤنٹ منجمد کر کے مذکورہ رقم وصول کی جائیگی ‘ آر ٹی او ملتان کے کمشنر انکم ٹیکس عابد رضا بودلہ کی ٹیم نے تحقیقات کے دوران صرف ایک سال 2008 کی بینک ٹرانزیکشن چیک کیں تو 91 ارب روپے سے زائد کا انکشاف ہوا ہے جبکہ مذکورہ کمپنی نے انکم ٹیکس نے سیکشن (5)122 کے تحت2 ارب 45 کروڑ روپے فوری ادا کرنے کانوٹس جاری کردیا ہے بعض مصدقہ ذرائع کے مطابق مذکورہ کمپنی کی جانب سے گزشتہ 15 سال سے ہونیوالی ٹیکس چوری کی تحقیقات کی جائیں تو 60 سے 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا ریکارڈ سامنے آنے کا امکان ہے ۔ 2013 میں ڈپٹی کمشنر آڈٹ ڈاکٹر محمد علی ملک نے فاطمہ گروپ آف انڈسٹریز کیخلاف 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف کیا تھا جس پر اس وقت کے چیف کمشنر آر ٹی او ملتان حافظ محمد جمیل اویسی نے مذکورہ آفیسر کو آر ٹی او سے کسٹم آفس ٹرانسفر کردیا تھا اور بعدازاں کمشنر آصف رسول نے چیف کمشنر کے دباؤ میں آکر ٹیکس چوری کو ٹرانزیکشن ظاہر کرکے کیس کو سرد خانے کی نذر کر دیا تھا ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ کمشنر انکم ٹیکس عابدرضا بودلہ کی جانب سے ٹیکس ادائیگی کا نوٹس جاری ہونے کے چند ہی روزبعد کمشنر آصف رسول کا ٹرانسفر ملتان بحیثیت کمشنر اپیلز تعیناتی ہوچکی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ فاطمہ انٹر پرائزز انکم ٹیکس چوری کی مد میں 2 ارب 45 کروڑ کی ادائیگی کیخلاف اپیل میں جا چکے ہیں ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر