اقتصادی اور سماجی سرگرمیوں کیلئے بجلی انتہائی ناگزیر ہے :گورنر سندھ

اقتصادی اور سماجی سرگرمیوں کیلئے بجلی انتہائی ناگزیر ہے :گورنر سندھ

کراچی(اسٹاف رپورٹر)گورنر سندھ محمد زبیر کی زیر صدارت گورنر ہاؤس میں کیچوہدری شجاعت کی غوث علی شاہ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات

الیکٹرک حکام اور سیاسی و مذہبی جماعتوں ، صنعت کاروں و تاجروں، صحافیوں سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورتی اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلا س میں بجلی کی صورتحال ، غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ، اوور بلنگ سمیت دیگر مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی ۔ اجلاس میں کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر طیب ترین نے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی ۔اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی ، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ، پاکستان تحریک انصاف ، جماعت اسلامی ، جمعیت العلماء پاکستان (نورانی )،پاک سرزمین پارٹی ، جمعیت العلماء اسلام ، عوامی نیشنل پارٹی ، مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی)اور سنی تحریک کے نمائندے بھی شریک تھے ۔ اس موقع پر گورنر سندھ نے کہا کہ معاشی ، اقتصادی اور سماجی سرگرمیوں کے لئے بجلی انتہائی ناگزیر ہے ،کراچی الیکٹرک سپلائی کا رپوریشن کی نجکاری کے بعد شہر میں بجلی کا کنٹرول کے الیکٹرک کے پاس ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے وفاقی حکومت کے کئی منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں جن سے بعد پورے ملک سے بجلی بحران کا خاتمہ نہ صرف یقینی ہے بلکہ ہم اپنی ضروریات سے زائد بجلی بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ، مارچ 2018 ء تک نیشنل گرڈ میں 10400 میگا واٹس بجلی شامل ہو جائے گی اور سی پیک منصوبہ میں بھی توانائی کے منصوبوں پر 34 ارب ڈالرز کی لاگت سے منصوبے مکمل کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی بحران کے باوجود کراچی کے صنعتی علاقوں میں تسلسل سے بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا تاکہ معاشی سرگرمیوں میں خلل نہ ہو سکے، معاشی سرگرمیوں میں خلل سے عام آدمی سب سے زیادہ متاثر ہو تا ہے اس لئے حکومت نے ترجیحی بنیادوں پر صنعتی علاقوں میں بجلی کی بحالی برقرار رکھا ،بجلی چوری اور بل کی عدم ادائیگی کرنے والے علاقوں میں شیڈول لوڈ شیڈنگ کا طریقہ کار طے کیا گیا ۔ اجلاس میں شرکاء نے زائد بلنگ ، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بار بار تار ٹوٹنے سے بجلی سے محرومی، کے الیکٹرک عملہ کے ناروا سلوک اور دیگرمسائل کے بارے میں بتایا ۔ گورنر سندھ نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں کے الیکٹرک اور سیاسی و مذہبی جماعتوں ، صنعت کاروں و تاجروں، صحافیوں سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورتی اجلاس منعقد کرنے کی ضروت محسوس کی گئی تاکہ شہریوں کی شکایات کے ازالہ کے ساتھ ساتھ کے الیکٹرک کی کارکردگی کو مزید فعال بنایا جا سکے ۔ انہوں نے کے الیکٹرک حکام کو ہدایت کی کہ عوام سے اپنا رابطہ مزید موئثر بنائیں ،ادارہ ایسا مکینزم تیار کرے جس سے عوام اور کے الیکٹرک کے درمیان فاصلہ ختم کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ شیڈول جاری کرتے وقت نماز کے اوقات ، رمضان المبارک ، تہوار اور اہم مواقعوں کو بھی مدنظر رکھا جائے،کوشش کی جائے کہ لوگوں کو اذیت کا سامنا نہ کرنا پڑے ، بجلی چوری کرنے یا بل جمع نہ کرانے والوں کے خلاف کسی بھی اقدام سے قبل دیگر علاقوں کی شکایات کا ازالہ بہت ضروری ہے ، ادارہ کو اپنی ساخت کی بحالی کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے ہو نگے کیونکہ اچھی ساخت والے اداروں کے ساتھ عوام بھی تعاون کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ کراچی میں لاہور اور اسلام آباد کے مقابلہ میں کہیں کم لوڈشیڈنگ ہوتی ہے ، کے الیکٹرک اپنے اقدامات کے ذریعہ صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لئے کام کرے ۔ اجلاس میں وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت پاکستان ، ایوان صنعت و تجارت کراچی ، کراچی کے صنعتی ایسوسی ایشنز ، آباد ، کراچی انڈسٹریل فورم ، کراچی تاجر اتحاد ،سندھ تاجر اتحاد ، الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے بھی شرکت کی ۔

 

مزید : کراچی صفحہ اول