نیم سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی مالی مشکلات کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے :مظفر سید ایڈووکیٹ

نیم سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی مالی مشکلات کیلئے قانون سازی کی ضرورت ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ مستقل اساتذہ کرام کی طرح نیم سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی مالی مشکلات حل کرنے کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ وہ طلباء کے بہتر مستقبل کے لئے احسن طریقے سے کردار اداکر سکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز اپنے دفتر میں صوبائی نیم سرکاری تعلیمی اداروں کے ایک نمائندہ وفد سے ملاقات کے دوران کیا جن میں فضل حق کالج مردان کے ہدایت خٹک اور جمشید اقبال،ایکسیلیشئر کالج سوات کے فیض محمد اور صوابی ماڈل سکول و کالج کے شعیب خان سمیت دیگر اساتذہ کرام اور متعلقہ اہلکار بھی موجود تھے۔اس موقع پر صوبائی نیم سرکاری تعلیمی اداروں کے نمائندہ وفد نے وزیر خزانہ کو اپنے درپیش مسائل سے آگاہ کیا جن میں اکرم خان درانی کالج بنوں اور ایبٹ آباد پبلک سکول ایبٹ آباد کی طرح باقی سیمی گورنمنٹ تعلیمی اداروں کیلئے ریگولر بجٹ کی منظوری کا بھی مطالبہ کیا گیا جس پر وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا کہ صوبے میں قائم نامور تعلیمی اداروں کے اساتذہ کرام کو قانون کے مطابق مراعات دینے کے لئے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا تاکہ مذکورہ تعلیمی اداروں کو رو بہ زوال ہونے سے بچا کر ان کا مستقبل روشن بنایا جاسکے اور وہ عوام کی وابستہ توقعات پر پورا اتر کر معاشرے کی خدمت کے لئے قابل طلباء فراہم کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ نیم سرکاری تعلیمی اداروں کے مالی معاملات میں زیادتی اور نا انصافی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا تاکہ عدل و انصاف کے تقاضوں کوپوراکر کے صوبائی حکومت کے تعلیمی ترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیاجاسکے۔وزیر خزانہ نے وفد کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ متعلقہ فورم پر ان کی حمایت کریں گے تاکہ پورے صوبے کے نیم سرکاری نامور تعلیمی اداروں کے مستقبل کو سنوارا جاسکے۔اس مقصد کے لئے محکمہ خزانہ ہر ممکن تعاون کرے گا۔آخر میں وفد نے وزیر خزانہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے موجودہ صوبائی حکومت کی تعلیمی کاوشوں کو سراہااور امید ظاہر کی کہ موجودہ صوبائی حکومت ان کے مطالبات کے حل کو اولین ترجیح دے گی ۔

 

مزید : کراچی صفحہ اول