نواز شریف کو پختونوں کی آہیں لے ڈوبا،عمران کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکتے :میاں افتخار

نواز شریف کو پختونوں کی آہیں لے ڈوبا،عمران کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکتے :میاں ...

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ نوازشریف کو پختونوں کی آہیں لے ڈوبی ہیں ،فیصلے میں ان کے ساتھ زیادتی تو ہوئی تاہم اے این پی نے جمہوریت کی بقاء کیلئے عدالتی فیصلہ تحفظات کے باوجود قبول کیا ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے تپہ اکبر پورہ میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی سے درجنوں افراد نے اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کی ، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اے این پی میں آئے روز جوق در جوق ہونے والی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اب باقی سیاسی جماعتوں سے متنفر ہو چکے ہیں اور اے این پی کو ہی اپنے حقوق کے تحفظ کا ضامن سمجتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ الیکشن میں ہم ہارے نہیں بلکہ ہمیں جان بوجھ کر ہرایا گیا اور پی ٹی آئی الیکشن نہیں جیتی اسے زبر دستی جتایا گیا کیونکہ یہ پلان پہلے سے طے تھا اس لئے ہمارے کارکنوں اور رہنماؤں پر حملے کر کے گھروں میں بند کر دیا گیا ہمارے کارکن لاشیں اٹھاتے رہے ،لیکن اب کوئی امپائر نہیں آئے گا اور اے این پی آئندہ الیکشن میں عوام کے تعاون سے کامیابی حاصل کرے گی، انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو پختونوں کی حق تلفی کرنے کی سزا ملی انہوں نے سی پیک پر اسفندیار ولی خان کے ساتھ مغربی روٹ کے حوالے سے جو وعدہ کیا اس سے مکر گئے ، تاہم عدالتی فیصلے نے انہیں جیتا جاگتا شہید بنا دیا، اور اب وہ عوام میں پہلے سے زیادہ مقبول نظر آتے ہیں،البتہ عمران خان کو ان کی نا اہلی سے کوئی فائدہ نہیں ہوا ، انہوں نے کہا کہ سی پیک پر بھی نواز شریف اور عمران خان کا مک مکا ہو چکا تھا اور ہمارے احتجاج کے باوجود وزیر اعلیٰ نے دورہ چین کے دوران صوبے کے مقدمہ پر سودے بازی کر کے مشرقی روٹ کو فوقیت دی،انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ صوبے کے نہیں عمران کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور پنجاب کی سیاست میں ان کے ساتھ پیش پیش ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم پنجاب کی ترقی کے خلاف نہیں لیکن پختونوں کو بھی ان کا جائز حق ملنا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ صوبے کا سارا نظام بنی گالہ اور امریکہ سے نوشیروان برکی چلا رہے ہیں تاکہ پنجاب کا ووٹ بنک حاصل کیا جا سکے ، پی ٹی آئی کو صوبے سے کوئی سروکار نہیں پختونوں کو انہوں نے بھیڑ بکریاں تصور کررکھا ہے اور پختونوں کا کندھا استعمال کر کے عمران خان وزارت عظمی تک پہنچنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کپتان کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکتے ،صوبے کی معاشی حالت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ہم نے اقتدار چھوڑا تو اس وقت خزانہ بھرا ہوا تھا اور متعدد ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری تھا جبکہ اب ان کے پاس سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کیلئے پیسے نہیں ہیں اور ملازمین کے پیشن اور جی پی فنڈ سے قرضہ لے کر صوبے کا نظام چلایا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبئی حکومت نے ہمارے منصوبوں پر تختیاں لگانے کی سیاست کی ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی پلان نہیں تھا ،اس کے برعکس ہمارے دور میں بنایا گیا اجمل خٹک پولی ٹیکنیک انسٹی تیوت بھی وزیر اعلیٰ اپنے حلقے میں لے گئے ، اگر اے این پی اتنے منصوبے نہ مکمل کرتی تو نجانے یہ حکومت اپنی کارگزاری کیسے بتاتی ، انہوں نے کہا کہ صوبے کو معاشی اور انتظامی طور پر دیوالیہ کر دیا گیا ہے اور حکومت کے وزراء بھی وزیر اعلیٰ پر کرپشن کے الزامات لگاتے نہیں تھکتے ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ میں نے نوشہرہ میں ایک یونیورسٹی کیمپس تعمیر کرایا جبکہ پرویز خٹک اس علاقے کا وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود نوشہرہ میں کوئی دوسری یونیورسٹی نہیں بنا سکے ۔انشاء اللہ الیکشن جیت کر ہم یہاں مکمل یونیورسٹی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے راشد شہید فاؤنڈیشن کے نام پر جلوزو میں 100کنال زمین خرید لی ہے جہاں پر پرائمری سے لے کر یونیوسٹی تک ادارے اور ہسپتال بنائیں گے جس میں شہداء کے بچوں سمیت تمام یتیم اور غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی اور ان میں لڑکوں اور لڑکیوں کے علیحدہ علیحدہ ہاسٹل ہونگے اسی طرح ان کا علاج بھی فری ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آنے والا دور اے این پی کا ہے اور کارکن الیکشن کے حوالے سے اپنی بھرپور تیاری جاری رکھیں۔

 

مزید : کراچی صفحہ اول