آزادکشمیر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس،برقیات کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال

آزادکشمیر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس،برقیات کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال

مظفرآباد ( بیورورپورٹ) آزاد جموں و کشمیر پبلک اکاؤنٹس کے بروز بُدھ شروع ہونے والے اجلاس میں محکمہ برقیات (نارتھ) کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی گئی۔ کمیٹی کا اجلاس چوہدری محمد اسحاق چےئر مین کمیٹی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں ممبران کمیٹی کرنل (ر) وقار احمد نُور ایم ایل اے،ڈاکٹر مصطفےٰ بشیر عباسی ایم ایل اے ، احمد رضا قادری ایم ایل اے سمیت متعلقہ محکمہ جات کے حکام نے شرکت کی۔ چوہدری بشارت حسین سیکرٹری اسمبلی نے سیکرٹری کمیٹی کے فرائض سر انجام دےئے۔محکمہ برقیات (نارتھ) کے ذمہ 125ڈرافٹ پیراجات میں سے محکمہ صرف 8 کو یکسو کر سکا۔ محکمہ برقیات (نارتھ) کی کارکردگی پر کمیٹی نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ پراگریس کو بہتر کیا جائے اور اس کے علاوہ ورکنگ پیپرز کی مکمل تیاری کے ساتھ اجلاس میں آئیں۔ اس ضمن میں کوئی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اسکے علاوہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کہا کہ کسی بھی آفیسر کا یہ موقف قابل قبول نہیں ہو گا کہ وہ یہ کہے کہ میں اس پوسٹ پر نیا آیا ہوں۔ کمیٹی نے موقف دیا کہ ہم جو آرڈر لکھوائیں گے اُس کے بارہ میں باز پرس بھی کریں گے کی کیا پراگریس ہوئی اور آپ ہمیں اپنے موقف پر قائل تو کریں۔ محکمہ کی جانب سے اس بات کے اظہار پر کہ اخراجات بہت زیادہ ہیں اس لےئے بعض اوقات چاہتے ہوئے بھی معاملات سے نمٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کر دی کہ اپنے محکمہ میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلز وغیرہ کی مکمل تفصیل فراہم کی جائے کہ کس کس کے زیر استعمال ہیں۔ محکمہ آج اس کی مکمل تفصیل فراہم کرے گا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ میٹر ریڈنگ پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ بنیادی خرابی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ کمیٹی کے استفسار پر محکمہ برقیات کے پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں میٹر ریڈرز کے لےئے 1500میٹرز کی یارڈ سٹک قائم ہے جبکہ پاکستان میں800یارڈ سٹک ہے۔ کمیٹی نے محکمہ برقیات سے پچھلے 2سال کی کونٹیجنسی کے اخراجات کی مکمل تفصیل طلب کر لی۔ کمیٹی نے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا کہ آئندہ جس محکمہ کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال ہو گی، اجلاس کے شروع میں آدھ گھنٹہ وہ محکمہ ملٹی میڈیا بریفنگ دینے کا پابند ہو گا۔ کمیٹی کے اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کہوٹہ /حویلی میں وولٹیج(30) انتہائی کم ہونے کی بناء پر یہ بھی ممکن نہیں ہوتا کہ میٹر چل سکے جس کی وجہ سے میٹر ریڈنگ بھی درست طرح سے نہیں کی جا سکتی۔کمیٹی کے علم میں یہ بات بھی آئی کہ آزاد کشمیر کے سرکاری محکمہ جات کے ذمہ بجلی کے 5 ارب 20کروڑ روپے کے لگ بھگ بقایا جات ہیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ ریکوری کو تیز سے تیز تر کیا جائے، کوئی بھی اس ضمن میں مبرا نہیں۔ کمیٹی نے محکمہ برقیات کو یہ بھی ہدایت کہ 22سکیل تک کے آفیسران کے بجلی بلات کے ضمن میں مکمل تفصیل کمیٹی کو پیش کی جائے۔ کمیٹی نے پراگریس کو تیز کرنے کے سلسلہ میں ہدایت کی کہ لائن لاسز اور ریونیو کے پیرا جات کو الگ کر کے ان کے الگ ورکنگ پیپرز تیار کےئے جائیں اس ضمن میں ایک ماہ کے اندر الگ سے اجلاس ہو گا۔ کمیٹی نے بگ سٹی الاؤنس کے حصول کے سلسلہ میں واضح کیا کہ بگ سٹی الاؤنس کے حصول کے لےئے ضروری ہے کہ پوسٹ اور پوسٹنگ دونوں بگ سٹی میں ہوں۔ کمیٹی آج بھی محکمہ برقیات (نارتھ) کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرے گی اور اجلاس کے شروع میں محکمہ ملٹی میڈیا بریفنگ بھی دے گا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر