مظفرآباد ،اکلاس ملازمین کا احتجاج دوسرے روز میں داخل ہوگیا

مظفرآباد ،اکلاس ملازمین کا احتجاج دوسرے روز میں داخل ہوگیا

مظفرآباد ( بیورورپورٹ) اکلاس ملازمین کا احتجاج دوسرے روز میں داخل اب کسی سے کوئی مزاکرت نہیں ہوں گے ۔نوٹیفکیشن پر من و عن عمل درآمد چاہتے ہیں ۔اکلاس ایمپلائرز پروگرسیو یونین سی بی اے ،آزادکشمیر راجہ محمد شبیر خان نے ہڑتالی ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ 3ماہ سے تنخواؤں کی ادائیگی نہیں ہورہی ریٹائرڈ ملازمین پنشن ،لیو انکیشمنٹ کے لیے سڑکوں پر ذلیل و خوار ہورہے ہیں حکومت اپنی ہی نوٹیفکیشن پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہے جسکی وجہ سے ملازمین اور ان کے اہل خانہ زلت کی زندگی گزارنے پر مجبورہیں اور ملازمین رو رہے ہیں گھروں میں فاقہ کشی شروع ہے بچے سکولوں سے نکال دیے گئے ہیں ملازمین کسم پرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں بیورو کریسی تمام معماملات کی راہ میں رکاوٹ ہے اربوں روپے کے اثاثہ جات بنانے والے ملازمین گلی محلوں میں زلیل و رسوا ہورہے ہیں ۔راجہ شبیر نے کہا ہے کہ ملازمین نے پورے آزادکشمیر سے جس اعتماد کا اظہار عرصہ 5سال سے کہا ہے ہم ملازمین سے وعدہ کرتے ہیں کہ اپنی جانوں کا نذرانہ تو دے سکتے ہیں مگر ملازمین کے حقوق پر سودا بازی نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کو سارے معاملات سنجیدگی سے لینے ہوں گے ہم اب باہر آگئے ہیں ویسے بھی گھروں میں نہیں جاسکتے ۔اب بچوں کو بھی ساتھ لائیں گے کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کریں گے ۔حکومت جنتی جلدی نوٹیفکیشن پر عمل کرے گی اس کے لیے بہتر ہو گا اس پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے تقریباََ 80کروڑ روپے کا خسارہ ہو چکا ہے ۔احتجاجی ملازمین طاہر سلیم کیانی ،عاصم رشید ،سردار نواز ،سردار اسرار،نعیم اعوان ،سید سرور بخاری،چوہدر ی میرمحمد ،محمد اکرم عباسی ،راجہ نادر خان ودیگر نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں گھر والوں کو کیا جواب دیں 3ماہ کی تنخواہ نہیں ملی اب ادھار بھی بند ہو گیا ہے کوئی ہمارے حال پر رحم کرے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر