ملک کیلئے بہت کچھ کر سکتا تھا لیکن حکمرانوں نے روک دیا:ڈاکٹر عبدالقدیر خان

ملک کیلئے بہت کچھ کر سکتا تھا لیکن حکمرانوں نے روک دیا:ڈاکٹر عبدالقدیر خان

کراچی(اسٹاف رپورٹر)نظریہ پاکستان ٹرسٹ سندھ کے زیر اہتمام پاکستان کی آزادی کے 70سال مکمل ہونے پر ایک تقریب کا اہتمام مقامی ہوٹل میں گزشتہ شب کیا گیا ۔ تقریب کے مہمان خصوصی محسن پاکستان اورنامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدید خان تھے۔اس موقع پرنظریہ پاکستان ٹرسٹ سندھ کے چیرمین میاں عبدالمجید،طارق سعود،ڈاکٹر منصورڈاراورڈاکٹرایم اکرم کھوکھر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے محسن پاکستان اورنامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدید خان نے کہا کہ میں ملک کیلئے بہت کچھ کر سکتا تھا لیکن حکمرانوں نے روک دیا جب کہ ایٹمی قوت کا سہرا ذوالفقار بھٹو کے سر جاتا ہے۔ جنہوں نے مجھ جیسے نوجوان پر بھروسہ کیا۔ ہم نے ایٹم بم پر 1974 میں اور میزائل ٹیکنالوجی پر کام بینظیر بھٹو کے دور میں شروع کیا اور کم وسائل کے باوجود ملک کو ایٹمی اور میزائل قوت بنایا۔ ڈاکٹر عبدالقدید خان نے کہا کہ پاکستان نے ایٹمی صلاحیت 1983ء میں ہی حاصل کرلی تھی اور اس وقت ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا لیکن افغان جنگ کے باعث جنرل ضیاء الحق نے اسے ملتوی کردیا۔ آج تک حکومت سے مراعات حاصل نہیں کی، کرپٹ سیاست دانوں اوربیوروکریٹس نے ملک کو قرضوں کی دلدل میں پھنسایا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مزید کہا کہ جب ہندوستان نے 1973ء میں پہلا ایٹمی دھماکہ کیا تو میں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو خط لکھاکہ میں پاکستان آکر اپنے ملک کے لئے کام کرنا چاہتا ہوں اور ان کے جواب کے بعد ہالینڈ میں پاکستان آیا۔انہوں نے مجھے کہاکہ ہمیں ہر صورت میں ایٹمی بم بنانا ہے جس پر میں نے کہاکہ کوئی بات نہیں ہم ایٹمی بم بنا دیں گے اور ہم نے جگہ منتخب کرکے ایٹمی ٹیکنالوجی کا آغاز کیا ۔ پاکستان کی خاطر اپنی کشتیاں جلا کر اپنے بچوں کے ہمراہ آیا تو دیکھا جو میں کام شروع کیا تھا وہ ا سی طرح کا پڑا ہواہے جس پر مجھے بہت دکھ ہوا۔ انہوں نے کہاکہ جب ضیاء الحق نے مجھے کام سونپا تو چند سالوں میں اسے پایا تکمیل تک پہنچا دیا۔میں نے مکمل کرکے ضیاء الحق کی میز پررپورٹ رکھی اورکہاکہ آپ جب کہیں گے ایٹمی بم کا دھماکہ کردیں گے جس پر جنرل ضیاالحق بہت حیران ہوئے اور افغان وار کے پیش نظر ہمارا منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا لیکن جب بھارت نے1998ء میں دوبارہ ایٹمی دھماکہ کیا تو ہم نے بھی اعلان کردیا کہ ہم بھی اپنے ایٹمی دھماکہ کریں گے۔ پوری دنیا میں ہلچل پیدا ہوگی اورامریکہ یورپ سمیت دنیا بیشتر ممالک ہمیں ایٹمی دھماکہ نہ کرنے پر زور ہی نہیں بلکہ دھمکیاں بھی ملنے لگی اور ڈالر کا لالچ بھی دیا گیا لیکن ہمیں پاکستانی عوام کا بہت پریشر تھا، ہم اسی شش وپنج میں مبتلا تھے سب سر جوڑ کر بیٹھ گئے لیکن سب نے اتفاق کیا پاکستان کو بچانا ہے تو دھماکہ کرنا ہی پڑے گا۔ہم نے اللہ تعالی کے فضل وکرم سے 28مئی 1998ء میں دھماکہ کردیا لیکن مجھے افسوس ہے کہ ہم ایٹمی قوت بننے کے باوجود اس سے استفادہ نہیں کرپائے اگر اس وقت میری تجاویز کو مان لیا ہوتا تو آج ہم لوڈشیڈنگ کے ناسور میں مبتلا نہ ہوتاحکومت نے میری صلاحیتوں کوضائع کردیا حالانکہ میں ایٹمی بم بنانے میں اپنی 15فیصد صلاحیتیں استعمال کرسکا ہو ں۔اگر ملک میں آٹومابائل فیکٹریاں قائم کی جاتی تو آج ہم امریکہ۔جاپان اوردوسرے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہوتے لیکن کرپٹ سیاست دانوں اوربیوروکریٹ ملک کو قرضوں کی دلدل میں پھنسادیا۔اگر بیرون ممالک میں بسنے والے پاکستانی زرمبادلہ نہ بھیجیں تو ملک کا دیوالیہ نکل جائے اوورسیز پاکستانیوں نے پاکستان کی معشیت کو سنبھال رکھا ہے۔ٹیکسٹائل انڈسٹری پاکستان کی واحد انڈسٹری ہے جو ترقی کررہی ہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مزید کہا کہ بہت جلد لاہور میں 700بستروں پر مشتمل ہسپتال مکمل ہو جائیگا جہاں ہر غریب و امیرکا مفت علاج ہو گا۔ ہسپتال میں جدید مشینر ی نصب کی جارہی ہے اور کئی منزلہ عمارت پر محیط ہے۔ ہسپتال میں علاج امیر و غریب کی تقریق کے بغیر ہو گا اور مجھے اللہ پر امید ہے کہ پورا ملک اس سے مستفید ہو گا۔انہوں نے مزید کہاکہ زندگی میں خالق حقیقی اور حقوق العباد کے لیے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے ،جس نے ایک انسان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔نظریہ پاکستان ٹرسٹ سندھ کے چیرمین میاں عبدالمجید نے کہا کہ قومی یکجہتی اور ملکی سلامتی کا تحفظ وقت کا اہم ترین تقاضا اور ہرپاکستانی کی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنے کیلئے بانی پاکستان کے فرمان اتحاد، تنظیم اور یقین محکم پر دل و جان سے عمل کرنا ہوگا اور بیرون ملک آباد ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ ذاتی اور سیاسی مفاد پر ملک وقوم کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے وطن عزیز پاکستان کو اقتصادی اور دفاعی طور پر مضبوط اور ایک اسلامی فلاحی مملکت بنانے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں استعمال میں لائے۔ہم فلاحی کاموں میں بہت کام کررہے ہیں ۔ہم ڈاکٹر صاحب کے ساتھ بھی مکمل تعاون کریں گے۔طارق سعود نے کہا کہ یوم آزادی ہماری اصلاح کا دن بھی ہے اس دن ہمیں یہ عہد کرنا چاہئے کہ پاکستان کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں گے۔ اس کی خوشحالی وتعمیر وترقی کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے تاکہ نوجوان نسل کو آزادانہ اسلامی زندگی بسر کرنے، جدید تعلیم سے آراستہ، مستند روزگار کے حصول کیلئے بلاخوف و خطر مواقع میسر آسکیں، ایسا پاکستان جو فلاحی مملکت ہو، استحصال سے پاک ہو، جہاں تعلیم ہو اور جہالت کا خاتمہ ہو، غربت افلاس کی بجائے خوشحالی ہو، ہمیں ایسی حکمت عملی اپنانا ہوگی جس سے بانیان پاکستان کے افکار و نظریات کی تکمیل ہوسکے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ پاکستان کے طلبہ وطالبات کے لئے بہت سے کام کررہا ہے ۔بچوں کو اسکالرشپ بھی دی جارہی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر