اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام یوم آزادی پر’’ جشن مشاعرہ‘‘ کا انعقاد

اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام یوم آزادی پر’’ جشن مشاعرہ‘‘ کا انعقاد

کراچی (اسٹاف رپورٹر)اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام 70 ویں یوم آزادی کے حوالے سے ’’جشن مشاعرہ‘‘کا انعقادکیا گیا۔ جس کی صدارت سہیل احمد صدر ادبی کمیٹی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے کی ۔ مہمان خاص سلطان مسعود شیخ مہمان اعزازی سندھی زبان کے نامور شاعر نصیر سومرو، احمد سلیم صدیقی سابق ایم پی اے،گجراتی زبان کے نامور محقق دانشور کھتری عصمت علی پٹیل، مہر جمالی تھیں۔ اس موقع پر سہیل احمد نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح عالمی تاریخ کے ان عظیم رہنماؤں میں سے ہے جن کی ولولہ انگیز یادت بے مثال فراست ان تھک جدوجہد اور خلوص و دیانت کا دنیا اعتراف کرتی ہے جیسے جیسے وقت گذرتا جاتا ہے تاریخ اس حقیقت کی تصدیق کرتی جاتی ہے کہ وہ عالمی سطح کے عظیم رہنما تھے قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیزقیات کو اپنوں ہی نے نہیں غیروں نے بھی سلام پیش کیا ہے عوام ہوں کی خواص پر سطح پر ان کی جدوجہد کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا گیا ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو بانی پاکستان کا احسانمند سمجھتے ہیں اور ہمارے اہل قلم انسے عقیدت کا اظہار کرتے چلے آرہے ہیں اور آج ۰۷ سالہ جشن آزادی مشاعرہ منعقد کرنے پر قادربخش سومرو کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ اس موقع پر آج میں اکادمی ادبیات پاکستان کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹرقادربخش سومرو کو خراج تحسین پیش کرتاہوں ۔ اس موقع پراکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہا کہ تحریک آزادی کے دوراں قائداعظم محمدعلی جناح موہن داس ،کرم چندگاندھی علامہ اقبال ، بھگت سنگھ، مولانا محمد علی جوہر، سوبھاش چندر بوس، جوش ملیح آبادی، ڈاکٹر راجندر پرساد، حسرت موہانی، چندر شیکر آزاد، مولانا ظفر علی خان ، سروجینی نائیڈو بیگم رقیہ اور نہ جانے کتنے تاریخ کے عظیم کردار سامنے آئے جنہوں نے اپنے اپنے انداز میں انگریز سامراج کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔آج سترسالہ آزادی کی سالگرہ مناتے ہوئے ان تمام آزادی کے راہ کے شہیدوں کو سلام پیش کرنا بھی ضروری ہے۔ جنوں نے اپنی جانوں کے نذارانے پیش کئے اور ہمارے لئے آزاد وطن کا حصول ممکن بنایا۔ ہمیں ایسا پاک وطن ملنے پر رب کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اس کی خاطر کسی بھی موقع پر جان دینے سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیئے۔اس موقع پرمشاعرہ میں جن شعراء کرام نے اپنا کلام سنایا ان میں سہیل احمد، صغیر احمد صدیقی، نصیر سومرو، سلطان مسعود شیخ،احمد سلیم صدیقی،ضیاء شہزاد،مہرجمالی، فیروزناطق خسرو، عرفان علی عابدی،سید اوسط علی جعفری، محمد سبگتگین،ریحانہ احسان، زیب النساء زیبی ، ڈاکٹر لبنیٰ عکسی ، شگفتہ شفیق ،نشاط غوری، فرزانہ انجم، حشرت حبیب،حمیدہ کشش،صبیحہ، زارا صنم،قراۃ العین چنا،سجاد احمد سجاد، فہمیدہ مقبول، سید مہتاب شاہ، نواز ڈومکی، صدیق راز ایڈوکیٹ، دلشاد احمد دہلوی، طاہر ہ سلیم سوزؔ ، سلیم حامد خان، محمد عقیل، شاہدہ عروج خاں، تنویر حسین سخن،فرخ جعفری، نظامت قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے کی اور آخر میں اکادمی ادبیات پاکستان کے جانب سے شکریہ ادا کیا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر