نوازشریف کو پارٹی سر بر اہ رکھنے کیلئے قانون میں ترمیم کا فیصلہ

نوازشریف کو پارٹی سر بر اہ رکھنے کیلئے قانون میں ترمیم کا فیصلہ
نوازشریف کو پارٹی سر بر اہ رکھنے کیلئے قانون میں ترمیم کا فیصلہ

  

لاہور (ویب ڈیسک)مسلم لیگ ن نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو بدستور مسلم لیگ ن کا صدر برقرار رکھنے کیلئے پولیٹیکل پارٹی ایکٹ 2002ءمیں ترمیم کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت کسی بھی شخص کو پارٹی کا سربراہ بنانے یا رکھنے کیلئے ایم این اے کی بنیادی شرط کو ختم کر دیا جائے گا۔

روزنامہ دنیا کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ ترمیم مشرف کے آمرانہ دور میں کی گئی تھی جس کے تحت نوازشریف، بے نظیر بھٹو اور ملک میں دیگر سینئر قیادت کو باہر رکھنے کیلئے پولیٹیکل پارٹی ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے لازم قرار دیا گیا تھا کہ پارٹی کی سربراہی صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو پارلیمنٹ کا رکن بننے کی اہلیت رکھتا ہو، تب پیپلز پارٹی نے پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے نام سے مخدوم امین فہیم کو پارٹی صدر اور مسلم لیگ ن نے مخدوم جاوید ہاشمی کو قائم مقام صدر نامزد کیا تھا ، درحقیقت فوجی آمر کے اس فیصلے سے ملک بے نظیر بھٹو اور نوازشریف جیسی قیادت سے محروم ہو گیا تھا۔ اس لئے مسلم لیگ ن نے سردار یعقوب ناصر کو قائم مقام پارٹی صدر بناتے ہوئے اگلے مرحلہ میں اس قانون میں ترمیم کی پلاننگ کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں محاذ گرم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آج اسلام آباد میں مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ترمیم کی منظوری دی جائے گی ، مذکورہ ترمیم کے بعد سابق وزیراعظم نوازشریف ہی پارٹی کے سربراہ رہیں گے دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی عدالت عظمیٰ سے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کے بعد وہ قانونی طور پر اس کی اہلیت نہیں رکھتے کہ وہ ایک سیاسی جماعت کی قیادت کر سکیں۔

مزید : لاہور