شیخوپورہ: بچوں سے زیادتی کے 111 واقعات کا انکشاف

شیخوپورہ: بچوں سے زیادتی کے 111 واقعات کا انکشاف
شیخوپورہ: بچوں سے زیادتی کے 111 واقعات کا انکشاف

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(ویب ڈیسک) صوبہ پنجاب کے شیخوپورہ ریجن میں رواں سال کمسن بچوں اور بچیوں سے جنسی زیادتی، ہراساں اور قتل کرنے کے100 سے زائد واقعات رونما ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈی آئی جی شہزاد سلطان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بتایا رواں سال ضلع قصور، شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب میں کم سن بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی، ہراساں اور قتل کرنے کے 111واقعات رجسٹرڈ ہوئے۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ رواں سال قصور میں دو بچے اور 5بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ ننکانہ صاحب میں دو جبکہ شیخوپورہ میں 11 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ قصور میں پیش آنے والے واقعات کے دو کیسز کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں، بچوں کے ساتھ زیادتی کے چار واقعات میں مماثلت ہے جس میں ایک ہی شخص کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ بچوں کو ہراساں اور زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعات عصر سے مغرب کے دوران پیش آتے ہیں۔ قصور میں اس وقت میں پولیس کی اضافی نفری گشت کرتی ہے، علاقے میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرکے مانیٹرنگ سخت کردی گئی ہے۔

دوسری شادی کیوں کی؟ بیٹے نے اپنی ماں کو قتل کردیا

انہوں نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی، ہراساں اور قتل کے 111 کیسز میں نامزد 135 ملزمان میں سے 115 کو گرفتار کرلیاگیا ہے۔ کمیٹی نے بچوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ سینیٹر ثمینہ عابد نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے سب سے زیادہ واقعات پنجاب میں جنم لے رہے ہیں جبکہ قصور کو اب کم سن بچوں کے ساتھ زیادتی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ارکان کا کہنا تھا کہ بچوں سے زیادتی اور قتل کی سزا کم ہے تو قانون کو تبدیل کریں گے۔ کمیٹی نے پنجاب میں ”چائلڈ پروٹیکشن کمیشن“ نہ بننے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب کا دورہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

مزید : لاہور