چین میں دنیا کے سب سے بڑے فلوٹنگ سولر فارم نے کام شروع کر دیا

چین میں دنیا کے سب سے بڑے فلوٹنگ سولر فارم نے کام شروع کر دیا
چین میں دنیا کے سب سے بڑے فلوٹنگ سولر فارم نے کام شروع کر دیا

  

بیجنگ (آئی این پی ) چالیس میگاواٹ کے ایک بہت بڑے تیرتے ہوئے شمسی فارم نے مشرقی چین کے صوبہ انہوئی کے کوئلے کی دولت سے مالا مال شہر وائی نان نے بجلی پیدا کرنے شروع کر دی ہے، یہ فارم سالانہ قریباً 15ہزار گھروں کو بجلی فراہم کر سکتا ہے جو کہ کوئلے کی کان کنی کے معتدبہ علاقے کے پانی کی سطح پر 86ہیکٹر کے لگ بھگ فلوٹس پر نصب 120000فٹ وولٹائیک پینلز سے زیادہ ہے ۔

یہ بات سن گرو پاور سپلائی کمپنی لمٹیڈ کی ذیلی کمپنی جو اس پراجیکٹ کو چلا رہی ہے نے بتائی ہے ۔ذیلی کمپنی کے ڈپٹی جنرل منیجر شیاؤ فوچن نے مقامی میڈیا نمائندہ فاطمہ جاوید کو بتایا کہ یہ فلوٹس تہہ نشین علاقے جو کہ 400ہیکٹر ہے پر کنارے سے 200سے 300میٹر دور ہیں تا کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ گرتے ہوئے پانی کی وجہ سے فارم پر اثرات مرتب نہ ہوں ۔

شیاؤ نے کہا کہ سطح پر فلوٹس صرف پانی پر قائم رہتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ تہہ پر ایک ہزار سے زائد مضبوط کنکریٹ کے ستون نصب کئے گئے ہیں ، اس فارم کی عمر 25سال ہے جو اس امر کا متقاضی ہے کہ اس فارم کو اس طریقے سے ڈیزائن کیا جانا چاہئے تا کہ وہ از رفتہ عوامل کو برداشت کر سکے، مثلاً وزنی ، نمکیات اور نمی جو کہ پانی پرہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، فلوٹنگ سولر فارم کا یہ فائدہ ہے کہ وہ روایتی سولر فارم کے مقابلے میں کم ارضیاتی وسائل صرف نہیں کرتا ہے، ماحول کا تحفظ کرتا ہے اور مقامی ترقی کیلئے سود مند ہے ۔شیاؤ نے کہا کہ ڈرونز طیارے فلوٹنگ سولر فارم پر گشت کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈرونز پٹرولرز ہیں اور وہ فوٹو اتارے اور نگرانی کرنے کیلئے پہلے موقع پر پہنچیں گے .

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی