وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر45

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر45
وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر45

  

مہاراجہ نے اپنے ایک مصاحب خاص کو بھولو کے پاس بھیجا اور اسے اپنے چیلنج پر برقرار رہنے کا کہا۔

’’بھولوجی! مہاراج کی خواہش ہے کہ آپ میسور کے اکھاڑوں میں اپنے یادگار معرکے چھوڑ کر جائیں کہ لوگ مدتوں انہیں فراموش نہ کر سکیں‘‘۔

بھولو نے گلے میں لٹکے تعویذ کو عقیدت سے چوما اور کہا۔ ’’میرے مولا نے چاہا تو ایسا ہی ہو گا‘‘۔

’’بھولو جی!‘‘ مصاحب خاص نے کہا۔ ’’مہاراج نے کہا ہے آپ خود کسی کو طلب نہ کریں بلکہ ہر روز ان کی راجدھانی کے پہلوانوں کو للکاریں‘‘۔

’’اگر اس طرح کوئی بھی میرے مقابل نہ آیا تو‘‘۔ بھولو نے کہا۔ ’’مجھے لڑے بغیر فتح حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ میں تو چاہتا ہوں آپ لوگ اپنے رستموں کو میرے مقابل لائیں‘‘۔

’’دھیرج بھولو جی دھیرج، ہم آپ کی بے قراریاں جانتے ہیں‘‘۔ مصاحب خاص نے سمجھایا۔ ’’مہاراج نے ایک خاص مقصد کے تحت یہ بات کہی ہے۔ دراصل وہ اپنے درباری پہلوانوں کے دم خم دیکھنا چاہتے ہیں کہ جب کوئی باہر سے آ کر للکارے تو ان کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔ آپ نے دیکھا کہ آپ کی مبارزت عام کا کسی نے جواب نہیں دیا۔ مہاراج حضور کو اس پر بڑا غصہ ہے کہ بھولو کا جواب نہیں دیا۔ اب آپ ایسا کریں کہ دنگل کے روز پھر تمام بڑے پہلوانوں کو للکاریں۔ اگر کوئی غیرت مند ہوا تو ضرور مقابلے پر آئے گا‘‘۔

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر44  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مہاراجہ کا یہ مصاحب خاص بھولو کے بعد اپنے دربار سے وابستہ تمام پہلوانوں کے پاس گیا اور انہیں مہاراج کی طرف سے پابند کر دیا کہ وہ بھولو کے کسی چیلنج کا جواب نہ دیں۔ وہ صرف شیر میسور بھماں چوڑیگر کو بھولو کے مقابل لانے کیلئے اتنا تردد کر رہے تھے۔

بھماں چوڑیگر ان سازشوں سے باخبر تھا۔ وہ چاہتا تو بھولو کو پہلے ہی دن اس کے چیلنج کا جواب دے سکتا تھا مگر بھولو سے اس کی کشتی ایک بہت بڑا امتحان تھی۔بھماں چوڑیگر پندرہ سولہ سال کے بھولو سے کم از کم ستائیس برس بڑا تھا۔ کہنہ مشق ادھیڑ عمر شیر میسور بھماں چوڑیگر کو اگر کوئی چیز مانع کر رہی تھی تو صرف عمروں اور فن کا فرق تھا۔ اس کی بھولو سے کشتی نہیں بنتی تھی مگر جب مہاراج کے پھیلائے ہوئے لوگوں نے اسے بھولو کے خلاف ابھارا اور اسے میسور کے اکھاڑوں کا واسطہ دیا تو وہ بھولو کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہو گیا۔

یہ بھولو کی باقاعدہ کشتیوں سے قبل کا زمانہ تھا۔ حمیدا پہلوان نے گوالیار اور دوسری ریاستوں کے بعد میسور کا انتخاب کر کے بھولو کو بھی آزمائش میں ڈال دیا تھا۔ اسے اپنی تربیت پر اس قدر اعتماد تھا کہ وہ بے دھڑک بھولو کو شیروں کی کچھار میں پھینکنے سے نہیں کترا رہا تھا۔ اس کا پٹھہ بھولو بھی اپنے استاد کو شرمندہ نہیں ہونے دے رہا تھا اور شوریدہ سردریا کی طرح ریاستی اکھاڑوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جا رہا تھا۔ حمیدا ایمان صفت پہلوان تھا۔ وہ ان سازشوں سے بے خبر تھا جو بھماں چوڑیگر اور بھولو کے درمیان مقابلہ کیلئے کی جا رہی تھیں۔ البتہ بھولو نے اپنے ماموں کو اپنے اور مہاراجہ کے مصاحب کے درمیان ہونیوالی گفتگو سے آگاہ کر دیا تھا۔ ان دونوں کو اس میں کسی سازش کا عنصر نظر نہ آیا۔

میسور کا ماہانہ دنگل شروع ہوا تو بھولو اور حمیدا پہلوان بھی کشتیاں دیکھنے پہنچ گئے۔ اس دنگل کی بھی الگ ہی شان ہوا کرتی تھی۔ مہاراجہ میسور اپنی بارہ رانیوں کے ساتھ اپنے درباری پہلوانوں کے مقابلے دیکھنے کیلئے موجود ہوتا تھا۔ دنگل کی رونقیں اپنے عروج پر تھیں جب حمیدا پہلوان نے انتظامیہ کی وساطت سے مہاراجہ کو ملاقات کا پیغام بھجوایا۔ مہاراجہ حمیدا پہلوان کے فنی کشتی کے رتبہ سے آگاہ تھا۔ اس نے حمیدا پہلوان کو بلوایا اور بڑے تپاک سے ملا۔ مہاراجہ کی رانیاں جواں سال اور مردانہ وجاہت کے پیکر حمیدا پہلوان کو دیکھ کر نثار ہو گئیں اور ان کی بے باک نظریں حمیدا پہلوان کا وجود چیرنے لگیں۔ نگاہوں کی تپش جب حد سے بڑھنے لگیں تو حمیدان پہلوان کو بے کلی سی محسوس ہوئی۔ اس نے حد ادب میں رہتے ہوئے کہا۔

’’مہاراج حضور اجازت فرمائیں تو میں پہلوانوں کے درمیان میں جا کر بیٹھ جاؤں‘‘۔

’’کیوں پہلوان جی آپ کو ہمارے پاس بیھٹنا معیوب لگتا ہے‘‘۔ بوڑھے مہاراجہ نے شکوہ آمیز لہجہ میں کہا۔ ’’پہلوان جی آپ کے پرکھوں کے ہم بھی چاہنے والے ہیں یہاں ہمارے پاس بیٹھیں اور ہماری پراجا کو اپنے درشن کرنے دیں‘‘۔

حمیدا پہلوان راجوں مہاراجوں کے مزاج سے خوب آشنا تھا۔اس نے بحث کرنا مناسب خیال نہ کیا اور گفتگو کا رخ تبدیل کر لیا۔

’’مہاراج حضور! یہ ہے میرا بھولو۔‘‘ حمیدا پہلوان نے بھولو کو مہاراجہ کے قریب بلایا۔ بھولو کورنش بجالایا۔ مہاراج نے خلاف عادت بھولو سے ہاتھ ملایا۔ بھولو ایک لمحہ کے لئے جھجکا پھر مہاراجہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر گرمجوشی سے دست ملایا۔ بھولو نے شرارتاً مہاراجہ کا نرم و ملائم ہاتھ اپنے کھردرے اور سخت ہاتھوں میں دبا دیا۔ مہاراج کے لبوں سے بے اختیار آہ نکل گئی اور اس نے خشمگیں نظروں سے بھولو کو دیکھا۔ بھولو نے بے باکی سے مسکرا دیا۔ مہاراج اس کی اس ادا پر بے اختیار مسکرا دیا۔ بھولو کو مزید شہ مل گئی اور وہ بولا۔

’’مہاراج حضور! آپ نے اپنے دربار میں پہلوانوں کے بجائے بلبلیں پال رکھی ہیں جو میرے مقابلہ پر آنے سے کترا رہی ہیں‘‘۔

بھولو کی یہ جسارت مہاراجہ کو طیش پا کر گئی۔ اس نے اپنے وزیر کو طلب کیا اور گرج کر بولا۔ ’’آج ہماری راجدھانی پر ایسا بھی وقت آنا تھا کہ تمام پہلوان زنخے بن کر ہماری پگڑی پلید کریں۔ انہیں تو ہماری آبرو پر اپنی گردنیں کٹوا دینی چاہئیں کہ یہی حق نمک کی ادائیگی کا موقع ہوتا ہے۔ آج دیکھو ایک سولہ برس کا لڑکا ہمارے پہلوانوں کو للکار رہا ہے اور کوئی اس کا جواب نہیں دے رہا۔ جاؤ میسور کے رستم کو بلا کر لاؤ۔ اس نے بھی آج چوڑیاں پہن لی ہیں جو اتنے دن گزرنے کے باوجود اس بچے کو کوئی جواب نہیں دے رہا‘‘۔

حمیدا پہلوان نے مہاراجہ کے یہ تیور دیکھے تو بھولو کی سرزنش کی۔ ’’احمق لڑکے! آداب گفتگو سیکھنے کے باوجود یہ حماقت کر بیٹھا ہے‘‘۔

’’ماما جی، آپ ذرا تماشا دیکھیں‘‘۔ بھولو نے سرگوشی کی۔

’’اوئے تماشے کے بچے تیرا مذاق کوئی اور ہی رنگ نہ دکھا دے‘‘۔

رستم میسور بھماں چوڑیگر مہاراجہ کا پیغام ملتے ہی حاضر ہو گیا۔ مہاراجہ اسے دیکھتے ہی بولا۔ ’’پہلوان جی! آج آپ نے ہمیں خوب شرمندہ کیا ہے۔ آپ کی خاموشی نے بھولو کی بے باکی اتنی بڑھا دی ہے کہ ہماری گردن مارے شرم کے جھک گئی ہے‘‘۔

’’گردنیں مہاراج کے دشمنوں کی جھکیں‘‘۔ بھماں چوڑیگر بے ساختہ بولا۔ ’’مجھے حکم کریں میں اپنی گردن اتار کر آپ کے قدموں میں رکھ دوں‘‘۔

’’ہمیں آپ کی گردن سے کوئی سروکار نہیں پہلوان جی!‘‘ مہاراجہ نے کہا۔ ’’اگر آپ اتنے ہی جانثار ہوتے تو بھولو کو نتھ ڈال دیتے۔۔۔ دیکھیں تو ذرا کس بے اعتنائی اور بے نیازی سے ہماری طرف دیکھ رہا ہے‘‘۔

بھماں چوڑیگر نے قہر آلود نظروں سے بھولو کو دیکھا۔شاہین صفت بھولو شیر میسور کی خوں آشام نظروں سے نظریں ملا کر مسکرا دیا۔ بھماں چوڑیگر اس نوخیز پہلوان کی اس دلیرانہ حرکت پر پیچ و تاب کھا گیا۔

’’مہاراج حضور! میں اس چھچھورے لڑکے کا ابھی گھونٹ بھرتا ہوں‘‘۔ بھماں چوڑیگر اپنے خم ٹھونک کر بولا۔

’’پہلوان جی گھونٹ کی تلخیوں سے تم ناآشنا ہو‘‘۔ مہاراج نے چوٹ کی۔ ’’میرا خیال ہے لڑکا دیسی شراب سے بھی زیادہ کڑوا اور گرمیلا ہو گا۔ تم سے یہ تلخ گھونٹ بھرا نہ جائیگا‘‘۔

’’مہاراج حضور!‘‘ بھماں چوڑیگر ذرا تلخی سے بولا۔ ’’آپ میری کشتی کے نظارے دیکھنا چاہتے ہیں یا ذلت و رسوائی کے تماشے کا اہتمام کر رہے ہیں۔ میں آپ کے ارادوں سے بے خبر نہیں ہوں۔ آپ کی برابر چوٹیں آپ کے من کی چغلی کھا رہی ہیں لیکن میں پھر بھی آپ کی خواہش ضرور پوری کروں گا اور اس چھوکرے کا بھرکس نکال کر رکھ دوں گا‘‘۔

مہاراجہ نے چند لمحے تک اپنے رستم میسور کو نظروں کے ترازو میں تولا پھر بھولو کو بلایا۔

’’بھولو، یہ تیرے سوال کا جواب کھڑا ہے‘‘۔ مہاراجہ نے بھولو کو بھماں چوڑیگر کے مقابل کھڑے کرتے ہوئے کہا۔ ’’یہ میسور کے اکھاڑوں کے راجہ ہیں۔ ہماری پرجا تم دونوں کے مقابلے کا اعلان سننے کو بے چین ہے‘‘۔

بھولو کی ابھی مسیں بھی نہ بھگی تھیں۔ اس کے مقابل عمر کی سیڑھیاں اترنے والا ایک ادھیڑ عمر جہاندیدہ پہلوان آہنی ستون کی مانند کھڑا تھا جس کی سفید مونچھیں بھولو کو دیکھ کر مارے غضب کے پھڑک رہی تھیں۔(جاری ہے )

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر46 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : طاقت کے طوفاں