آسٹریلوی پارلیمنٹ میں یہ خاتون سینیٹر برقع پہن کر آگئی، افراتفری پھیل گئی، لیکن یہ کام کیوں کیا؟ جان کر ہر مسلمان کو غصہ آجائے

آسٹریلوی پارلیمنٹ میں یہ خاتون سینیٹر برقع پہن کر آگئی، افراتفری پھیل گئی، ...
آسٹریلوی پارلیمنٹ میں یہ خاتون سینیٹر برقع پہن کر آگئی، افراتفری پھیل گئی، لیکن یہ کام کیوں کیا؟ جان کر ہر مسلمان کو غصہ آجائے

  

کینبرا (ڈیلی پاکستان آن لائن) مغرب کا سارا زور کسی طرح مسلمانوں کو تنگ نظر، انتہا پسند اور دہشتگرد ثابت کرنے پر لگا ہوا ہے لیکن ان کے اپنے اندر کتنی شدت پسندی اور نفرت موجود ہے ، اس کااندازہ اس ایک واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے جو آسٹریلیا کے سینیٹ میں پیش آیا، جہاں ایک خاتون رکن برقعہ پر پابندی لگانے کیلئے باقاعدہ مہم چلا رہی ہے اور اسی سلسلے میں برقعہ پہن کر اسمبلی میں بھی آن دھمکی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ون نیشن پارٹی کی لیڈر پاﺅلن ہینسن نے اس وقت سینیٹ ارکان کو حیران پریشان کردیا جب وہ اجلاس میں برقع پہن کر آگئیں۔ سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے شدت پسند خاتون رکن نے مطالبہ کیا کہ خواتین کے پورا چہرہ چھپانے پر پابندی عائد کی جائے، انہوں نے سینیٹ کے صدر سے کہا کہ ”ہمارے ملک کی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا آپ آسٹریلیا میں برقعہ کے استعمال پر پابندی لگانے کیلئے کام کریں گے؟، آسٹریلیا میں دہشتگردی کے 13 واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں سے تین کامیاب بھی رہے اور ان میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، دہشتگردی ہمارے ملک کیلئے حقیقی خطرہ ہے اور بہت سے شہری اس سے شدید خوفزدہ ہیں، اس لیے شہریوں کی بڑی تعداد برقعہ کے استعمال پر پابندی کے حق میں ہے“۔

خاتون سینیٹر نے بتایا کہ انہیں برقعہ پہننے کا خیال گزشتہ سال کے سینیٹ کے صدر سٹیفن پیری کے ان ریمارکس کے جواب میں آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ میں کوئی بھی برقعہ پہن سکتا ہے۔

مزید : بین الاقوامی