گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔ تیسری قسط

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔ تیسری قسط

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دلیپ سنگھ کی دو بیٹیاں تھیں۔ ان میں سے ایک نے کرنل سدرلینڈ سے شادی کی تھی۔ کرنل سدرلینڈ، لاہور میڈیکل کالج میں ادویہ کے پروفیسر تھے۔ 1920ء اور اس کے بعد کے برسوں میں وہ میرے طبی مشیر بھی رہے۔ مسز سدرلینڈ سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔

ملک فتح خاں ٹوانہ اورملک فتح خان نون کے ناموں کو آپس میں گڈ مڈ نہیں کرنا چاہیے۔ ملک فتح خان نون میرے دادا تھے۔ انگریزوں نے جب پنجاب فتح کیا تو میرے دادا، ان دنوں میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل میں کاردار کے گورنر تھے۔ 1920ء کے بعد کے برس میں جب مجھے بطور وزیرعیسیٰ خیل کے دورہ کا اتفاق ہوا تو نواب عبدالکریم خاں کے صاحبزادے عبدالغفور خاں نے وہ خنجر مجھے بھی دکھایا جسے میرے دادا نے نواب کے خاندان کو تحفتاً نذر کیا تھا۔ اس خنجر پر ان کا نام کندہ تھا۔ انہوں نے مجھے وہ دستاویز بھی دکھائی جو میرے دادا کے نام لاہور کے کسی مسٹر ٹیلر کا خط تھا۔ خط میں ان سے یہ فرمائش کی گئی تھی کہ عیسیٰ خیل سے پانچ ہزار پٹھانوں کو بھرتی کرکے سکھوں کے گورنر ملک راج کے خلاف صف آرائی کے لئے ملتان روانہ کریں۔ انگریزی فوج اس وقت ملتان میں میجر ایڈورڈز کے ماتحت لڑرہی تھی۔ عیسیٰ خیل سے پٹھانوں کی بھرتی کا مقصد ملتان میں متعین انگریزی فوجوں کو محض کمک پہنچانا نہ تھا بلکہ عیسیٰ خیل کے ان شوریدہ سرلوگوں سے نجات حاصل کرنا بھی مقصود تھی تاکہ تحصیل کا امن و سکون بحال ہوجائے۔

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔ دوسری قسط  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میرے والد نے ایک بار مجھے بتایا تھا کہ ضلع شاہ پور میں کلراکے قریب موضع جھاوریاں میں میرے دادا کے پاس سکھوں کے ماتحت چار ہزار روپیہ سالانہ کی جاگیر تھی لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہ تھا۔ اصل قصہ یہ تھا کہ انگریزوں نے ملک کے اس حصہ پر جب قبضہ کیا تو وہ سارے لوگ جو سکھوں کے ماتحت جاگیرون کے مالک تھے، ملکیت کے حقوق اپنے نام منتقل کرانے کے لئے لاہور گئے۔ جاگیر ایک طرح کی معافی ہے جو بادشاہ کسی شخص کے نام اس کی ماضی یا حال کی خدمات کے عوض منظور کرتا تھا یا اس کا مقصد کسی سکول یا دینی ادارہ کی امداد ہوتا تھا۔ سرکار کا یہ حکم تھا کہ ایک خاص علاقہ کا لگان چونکہ حکومت کا حصہ ہے، اس لئے متعلقہ شخص کو جس کے نام معافی کی منظوری دی گئی ہے، اس کی زندگی تک یا اس کے بعد بھی مستقلاً وہ ر قم پہنچتی رہنی چاہیے۔ اسی کو ہم جاگیر کہتے ہیں۔ یہ بات میرے حافظہ میں محفوظ تھی۔

جب میں ہائی کمشنر کے طور پر لندن (1936-1941ء) پہنچا تو انڈیا آفس میں ریاستی امور کے سیکرٹری کی لائبریری سے اس بارے میں کتابیں حاصل کرکے ان کا بغور مطالعہ کرتا رہا۔ ایک بار مجھے کسی میجر ایڈورڈز کی ڈائری مل گئی۔ یہ میجر صاحب، اس علاقہ میں کم و بیش 1849ء میں تعینات تھے۔ ایک جگہ انہوں نے بنوں سے لاہور تک گھوڑے پر سفرکا حال لکھا تھا۔ وہ روزانہ 10 میل چلتے تھے اور اسی سفر میں انہیں جھاوریاں کے مقام پر ٹھہرنے کا اتفاق ہوا تھا۔ میجر نے لکھا تھا کہ یہ گاؤں ملک فتح خاں نون کی جاگیر ہے۔

1849-50ء کے دوران ہر شخص اپنی اپنی جاگیر کے حقوق منتقل کرانے کے لئے لاہور پہنچا مگر میرے دادا اپنی جگہ جم کر بیٹھ رہے۔ وہ لاہور نہیں گئے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ تلاوت کلام پاک کے بڑے شیدائی تھے اور جب دوستوں نے بہ اصرار کہا کہ جاگیر کی منتقلی کے لئے آپ کو بھی لاہور جانا چاہیے تو وہ بولے ’’اگر اللہ کو مجھے کچھ دینا منظور ہو تو وہ یہیں دے دے گا‘‘ لیکن ان کے نام جاگیر کا قبضہ اللہ کو منظور نہ تھا۔ اس لئے جاگیر انہیں نہیں ملی۔ اس جاگیر کا قبضہ لینے کی کوشش ایک اور ملک نے کی۔ ان کا نام بھی فتح خان تھا لیکن کسی شخص نے جو پاس ہی کھڑا تھا فوراً ٹوک دیا کہ یہ وہ فتح خان نہیں جو جاگیر کے مالک ہیں۔ لہٰذا جاگیر اسے نہیں مل سکی۔

1860ء کے قریب، جب کہ انگریز پنجاب میں اچھی طرح جم کر بیٹھ چکے تھے، میرے دادا نے چار ہزار ایکڑ زمین پٹہ پر حاصل کی اور دریائے جہلم سے نور پور نون تک جو جنوب میں 10 میل پر واقع ہے، ایک سیلابی نہر تیار کرائی۔ بعد میں انہوں نے حکومت سے اس ساری زمین کی ملکیتی حقوق خرید لئے۔ 1861ء میں وہ یہاں آئے اور موضع نور پور نون کی بنیاد رکھی۔ ان دنوں یہاں دان کا ایک درخت تھا، جو آج بھی موجود ہے ۔ یہ درخت ہمارے ا ناج گھر کے سامنے ہے اور ہم اس کی حفاظت جی جان سے کرتے ہیں، باقی سارا جنگل کٹوا کر صاف کردیا گیاتھا۔ میرے دادا گندم کے آٹے کی بوریوں کو دان کے اسی درخت کی شاخوں میں لٹکا دیا کرتے تھے کیونکہ بوریاں زمین پر پڑی رہ جاتیں تو سارا آٹا گیدڑ کھا جاتے تھے۔ مٹھا ٹوانہ سے وہ اپنے مزارعوں کو ساتھ لے کر آئے تھے۔ وہ لوگ غالباً دادا کے ذاتی ملازموں اور ان کے لگے بندھے لوگوں میں سے تھے اور وہ مستقل طور پر جم کر بیٹھنے کے ارادہ سے وہاں آئے تھے۔

موضع نور پور نون سے مجھے بے پناہ لگاؤ ہے اور جب بھی مجھے ذہنی سکون اور آرام کی طلب ہوتی ہے، میں بھاگم بھاگ وہاں پہنچتا ہوں۔ یہ گاؤں اب بھی ویسا کا ویسا ہی ہے اور 1860ء میں جس نہج پر آباد ہوا تھا۔ اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ ایک لق و دق کمرہ ہے، جس کی دیواروں میں باہر کی طرف بھٹہ کی پکی ہوئی اور اندر کچی اینٹیں چنی گئی ہیں، اس میں چار چوبی ستون ہیں، لکڑی کی چھت ہے، لکڑی کی دو کھڑکیاں ہیں اور ایک چوبی دروازہ ہے اور ان تمام (دروازہ، کھڑکیوں) پر چوبکاری کی گئی ہے۔ دروازہ کے اوپر جو چھجا بنا ہے اس پر بھی چوبکاری کی گئی ہے۔

بچپن میں ہمیں بتایاگیا تھا کہ میرے دادا یا ان کے بھتیجے حکم خان لکڑی کے باریک کام میں ہاتھ بٹانے کے لئے ترکھانوں کے ساتھ خود بھی بیٹھتے تھے۔ میرے دادا نے ایک مسجد بنائی تھی، جو اب بھی موجود ہے۔گندم اور کپاس کے گودام بھی انہوں نے تعمیر کرائے تھے۔ جنہیں اب ازسرنوتعمیر کیا گیا ہے۔ ان کے بہت بڑے بڑے گھڑسال تھے اور وہ گھوڑے بہت اہتمام سے پالتے تھے، وہ گھڑسال کب کے ختم ہوگئے اور اب تو ہم لوگ چند گھوڑے اور ٹٹو محض سواری کے لئے پالتے ہیں۔ گھڑسوار دستوں کا رواج اب ختم ہوگیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ گھوڑوں کی نسل کشی اور ان کی پرورش کو ہماری سرگرمیوں میں بہت کم دخل رہ گیا ہے۔ ہمارے دادا نے نور پور نون کی بنیاد اراضی کے شمالی قطعات میں رکھی اور اس کے جنوب کے سرے پر ایک اور گاؤں آباد کیا جسے فتح پور نون کا نام دیا۔ اس طرح دونوں گاؤں کا درمیانی علاقہ محفوظ ہوگیا۔ وہ ر ات میں کسی بھی شخص کو گاؤں کے اندر داخل ہونے اور قطعات پر قدم رکھنے کی اجازت نہیں دیتے تھے کیونکہ لوگ ہمارے مویشی اور کھیتوں میں مزارعوں کے پڑے ہوئے ہل چوری کرلے جاتے تھے، آدھی فصل زمین کے مالک کے حصہ میں جاتی ا ور آدھی مزارع کے حصہ میں۔ یہ طریقہ چار سال قبل تک نافذ رہا۔ اس کے بعد مزارع اور مالک کے حصوں کا تناسب 60 فیصد اور 40 فیصد مقرر ہوا۔

گاؤں کے دوسرے تمام مکان مٹی کے بنے ہوتے تھے، بالکل لکڑی کے صندوق کی مانند کیونکہ چوروں کے ڈر سے ان میں روشن دان نہیں بنائے جاتے تھے۔

جب میں لڑکا تھا تو گاؤں میں بہت سی دکانیں تھیں لیکن وہ ساری دکانیں ہندو بنیوں کی تھیں۔ مسلمان قرآن مجید کی تعلیمات کے مطابق سود وصول نہیں کرسکتے۔ اگرچہ سود کی ادائیگی کے سلسلہ میں کوئی امر مانع نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان دنوں نہایت خوشحال دکاندار وہ لوگ ہوتے جو سود پر روپیہ دیتے تھے۔ جب کسی کسان کا بیل مرجاتا یا اس کے بیٹے یا بیٹی کی شادی درپیش ہوتی یا اس کے یہاں اناج یا کپڑے کی کمی ہوتی تو بھاگا بھاگا اپنے بنیے کے پاس پہنچتا اور اس سے روپیہ قرض لیتا۔ ہندو بنیے جو سہولت اپنے گاہکوں کو مہیا کرتے تھے اس کا مقابلہ کوئی مسلمان دکاندار کر ہی نہیں سکتا تھا۔ پورا گاؤں دکانداروں کے درمیان تقسیم ہوگیا تھا اور کوئی بنیا دوسرے بنیے کے گاہک کو ورغلا کر اپنی دکان پر کھینچنے کا ہرگز روادار نہ تھا، ہر مقروض اسامی کہلاتا تھا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ فصل کی تیاری کے موقع پر بنیا آتا اور سارا غلہ اپنے سود کے عوض اٹھا کر لے جاتا اور دوسری صبح وہی کسان قرض لینے کے لئے اسی بنیے کے پاس پھر پہنچ جاتا۔ رفتہ رفتہ اس خطہ میں زمینوں کے ملکیتی حقوق، کسانوں کے ہاتھوں سے نکل کر بنیوں کو منتقل ہونے لگے۔ یہاں تک کہ ایک انگریز افسر مسٹر تھوربرن کو ایک قانون منظور کرانا پڑا۔ جو 1902ء کا لینڈایلی نیشن ایکٹ کہلاتا ہے۔ اس قانون کی رو سے طے پایا کہ سود پر قرض دینے والے افراد کسی کاشت کار کی اراضی خریدنے کے مجاز نہ ہوں گے تاوقتیکہ قرض ناگزیر ہو ، ضلع کے ڈپٹی کمشنر نے زمین کی فروخت کی منظوری دے دی ہو۔ کسانوں کے طبقہ کو اس قانون نے بچالیا، کیونکہ برطانوی حکومت کے زمانہ میں 1926ء تک سود کی شرح کی کوئی حد نہ تھی۔ البتہ اس سال منی لنڈرزبل منظور ہوا جس کے تحت زیادہ سے زیادہ سود کی شرح سالانہ ساڑھے 18 فیصد طے ہوئی۔ ورنہ اس سے پہلے ایسی بھی مثالیں موجود تھیں کہ خود عدالتوں نے 75 فیصد شرح کو جائز قرار دے کر ان کے حق میں فیصلہ کیا۔ (جاری ہے )

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔  چوتھی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فادرآف گوادر