ایک دن میں نے نانا ابو کی الماری کھولی تو انکی وہ سنہری ڈائری مل ہی گئی جس میں سونےسے قیمتی ایک ایسا نسخہ لکھا ملا جو میں اب سب لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں

ایک دن میں نے نانا ابو کی الماری کھولی تو انکی وہ سنہری ڈائری مل ہی گئی جس میں ...
ایک دن میں نے نانا ابو کی الماری کھولی تو انکی وہ سنہری ڈائری مل ہی گئی جس میں سونےسے قیمتی ایک ایسا نسخہ لکھا ملا جو میں اب سب لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں

  

لاہور (نظام الدولہ) انسان خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے ۔وہ چاہتا ہے اسکے ہاتھ کوئی ایسا نسخہ لگ جائے جس سے اسکی تقدیر راتوں رات بدل جائے ۔آپ نے اکثر کتابوں میں یہ بات پڑھی ہوگی یا بزرگوں سے بھی سن رکھا ہوگا کہ ” میرے نانا ابو بہت حاذق اور پہنچے ہوئے بزرگ تھے ۔وہ طبیب ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے عامل تھے اور جنات ان کا حقہ بھرتے تھے ۔

انہوں نے اپنے کئی صدری نسخے اورعمل اپنی ڈائری میں لکھ رکھے تھے جو ایک دن الماری کھولنے پر مجھے مل گئی “یہ بات سننے کے بعد اب کسی کو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تم بڑ ماررہے ہو کیونکہ ہر انسان کا تجربہ اسکی اپنی ملکیت ہوتا ہے ۔لیکن اسکو جھٹلایا بھی نہیں جاسکتا ۔ایک ایسی ڈائری برسوں پہلے میں نے بھی دیکھی تھی جس میں میرے ایک دوست کے نانا ابو نے حیات جاودانی کا نسخہ لکھ رکھا تھا ۔وہ کھانا بہت کم کھاتے تھے اور تہجد ادا کرنے کے بعد وہ دودھ پتی کے ساتھ چھوٹی کشمش کے پندرہ دانے کھاتے اور پھر تسبیحات میں مصروف ہوجاتے تھے ۔

انہوں نے لکھا تھا کہ نماز تہجد کے بعد اکیالیس سو بار اللہالصمد پڑھنے کے بعد پانی پر دم کرکے اکیس روز پیا جائے تو باطنی اور جسمانی بیماریوں کے خلاف مستقلاً ایک ڈھال بن جاتی ہے اور انسان دنوں میں اندر باہر سے تبدیل ہوجاتا ہے۔ساتھ دودھ پتی اور کشمش کھالے تو یہ غذا ذاکر کو غیر معمولی توانائی مہیا کرے گی۔یہ نسخہ جس نے استعمال کیا اسکو لگا کہ جس اطمینان اور سکون جیسی دولت کا وہ متلاشی تھااسے مل گئی ہے ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس