18سالہ دلہن ، 10سالہ دلہا اور دونوں سہاگ رات پر۔۔۔۔ شرمناک ترین ڈرامہ شرو ع ہوگیا

18سالہ دلہن ، 10سالہ دلہا اور دونوں سہاگ رات پر۔۔۔۔ شرمناک ترین ڈرامہ شرو ع ...
18سالہ دلہن ، 10سالہ دلہا اور دونوں سہاگ رات پر۔۔۔۔ شرمناک ترین ڈرامہ شرو ع ہوگیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن)فلم اور ڈرامہ انڈسٹری ایک جانب تیزی سے ترقی کررہی ہے ، نت نئے رجحانات اور کہانیوں کی ذریعے لوگوں کی توجہ سمیٹنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر دوسری جانب اس ترقی کے باوجود اس صنعت کی وجہ سے معاشروں میں بگاڑ کا عنصر بھی غالب ہو رہا ہے، بھارت کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری تو اپنی ترقی کے ساتھ معاشرے میں خرابیوں کا باعث بن رہی ہے اس کی مافوق الفطرت کہانیوں پر بھارت کی سنجیدہ افراد سر جوڑے بیٹھے ہوئے ہیں، ایسا ہی ایک ڈرامہ بھارتی ٹی وی چینل ” سونی ٹی وی“ پر پیش کیا جا رہا ہے ، ڈرامے کا نام ہے ” پہرے دار پیا کی “ مگر اس ڈرامے میں 18سالہ لڑکی کی 10سالہ بچے کے ساتھ شادی اور ان کے سہاگ رات کے مناظر پیش کیے جا رہے ہیں جس پر پورے بھارت میں آگ لگ گئی ہے۔

شریف خاندان کی سیاست اختتام پذیر ، پیپلز پارٹی کی طرف سے مسلم لیگ(ن) کو سیاسی حمایت نہیں مل سکتی: آصف علی زرداری

سونی ٹی وی کے ڈرامہ سیریل ” پہرے دار پیا کی“ کو جب آن ائر کیا گیا تب سے ہی اس پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں مگر دوسرے جانب اس ڈرامے نے ٹی آر پی کے گذشتہ تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں ، ڈرامے میں پانچویں جماعت کے طالب علم رتنا کو اٹھارہ سال کی لڑکی کے ساتھ عشق کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے وہ بچہ چپکے چپکے دیا کے گھر میں گھستا ہے اور اس کی قابل اعتراض تصاویر بناتا ہے اس کے بعد لڑکی کے ساتھ رومانوی مناظر بھی فلمائے گئے ہیں، اب تک اس ڈرامے کی 19اقساط آن ائیر ہو چکی ہیں جبکہ اگلی سب سے اہم قسط لندن میں فلمائی گئی ہے جس میں دونوں میاں بیوی کے ہنی مون اور سہاگ رات کے مناظر عکس بند کئے گئے ہیں ان مناظر پر بھارتی انٹرٹیمنٹ انڈسٹری میں طوفان پربا ہوگیا ہے ، ڈرامے کو سمجھنے والے افراد نے پورے بھارت میں آن لائن مہم شروع کی ہے جس کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد نے آن لائن پٹیشن پر دستخط کردئیے جس میں براڈ کاسٹنگ منسٹر ثمرتی ایرانی سے اس ڈرامے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے، بھارتیوں کا خیال ہے کہ یہ ڈرامہ معاشرتی بگاڑ کا باعث بن رہا ہے جبکہ اس کی وجہ نوجوانوں کی اخلاقیات تباہ ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

مزید : تفریح