سرحد پر بھارتی اور چینی فوجیوں کے درمیان جنگ شروع لیکن میزائل یا گولی کی بجائے فوجیوں نے ایسا ہتھیار میدان میں اتار دیا کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی، کسی کو ذرا بھی توقع نہ تھی کہ۔۔

سرحد پر بھارتی اور چینی فوجیوں کے درمیان جنگ شروع لیکن میزائل یا گولی کی ...
سرحد پر بھارتی اور چینی فوجیوں کے درمیان جنگ شروع لیکن میزائل یا گولی کی بجائے فوجیوں نے ایسا ہتھیار میدان میں اتار دیا کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی، کسی کو ذرا بھی توقع نہ تھی کہ۔۔

  

نئی دلی(نیوز ڈیسک) کئی ماہ سے ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے چینی اور بھارتی فوجیوں کے درمیان بالآخر جنگ ہوہی گئی، لیکن اس انوکھی جنگ میں گولا بارود استعمال نہیں ہوا بلکہ دونوں فوجوں نے ایک دوسرے پر دل کھول کر پتھر برسائے۔

بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز لداخ کے پہاڑی علاقے میں پانگگونگ جھیل کے قریب دونوں افواج کے درمیان پتھروں سے لڑائی ہوئی۔ چینی فوج کے پتھروں کے جواب میں بھارتی فوجیوں نے بھی جواب دینے کی کوشش کی لیکن ان کی زیادہ تر جوابی کارروائی پتھر کھانے تک ہی محدود رہی۔ دونوں اطراف کے فوجی بالآخر اپنی پوزیشنوں پر واپس چلے گئے جس کے بعد سنگ باری کا اختتام ہوگیا۔ بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ ہر موسم گرما میں اس طرح کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں لیکن اس بار یہ لڑائی ذرا طویل ہوگئی تھی۔

وہ ملک جس نے امریکا سے لڑائی کے لئے 35 لاکھ جوانوں کی فوج تیار کر لی، تیاریاں مکمل کر لیں

پانگگونگ جھیل سطح مرتفع تبت پر چار ہزار میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں سے سینکڑوں کلومیٹر کی دوری پر ڈوکلام کے علاقے میں بھی چینی اور بھارتی افواج آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ چین نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ یہ اپنی فوج کو متنازع علاقے سے واپس بلائے ورنہ نتائج بھگتنے کیلئے تیار ہوجائے۔ اس علاقے میں زمین کی تنگ پٹی بھارت کی شمالی ریاستوں کو ملک کے دیگر حصے سے ملاتی ہیں۔ یہ علاقہ دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے متنازع ہے اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہہ اگر چین نے اس علاقے پر قبضہ کرلیا تو بھارت کی شمالی ریاستیں باقی ملک سے کٹ جائیں گی۔

مزید : بین الاقوامی