بنی اسرائیل کا عبادت گزار شخص شیطان کے جال میں کس طرح جا پھنسا؟وہ واقعہ جو ہر کسی کو توبہ پر مجبور کر دے

بنی اسرائیل کا عبادت گزار شخص شیطان کے جال میں کس طرح جا پھنسا؟وہ واقعہ جو ہر ...
بنی اسرائیل کا عبادت گزار شخص شیطان کے جال میں کس طرح جا پھنسا؟وہ واقعہ جو ہر کسی کو توبہ پر مجبور کر دے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کراچی (ویب ڈیسک) حضرت وہب بن منبہؒ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کا ایک آدمی اپنے دور کا بہت ہی بڑا ولی اور عبادت گزار انسان تھا۔ اسی علاقے میں ایک گھر میں تین بھائی اور ایک بہن رہتے تھے۔ تینوں بھائیوں کو اچانک کہیں جانا پڑ گیا۔ وہ بہن کے بارے میں پریشان ہو گئے کہ اسے کس کے پاس چھوڑ کر جائیں، جو اس کی حفاظت کر سکے۔کیونکہ وہ اسے اپنے ساتھ سفر پر نہیں لے جاسکتے تھے۔ انہیں اس عابد سے سب سے زیادہ یقین کامل تھا، اس لئے تینوں اس کے پاس گئے اور انہوں نے اپنی بہن کی نگرانی کی درخواست کی، مگر اس کی پناہ مانگی اور انکار کر دیا۔

مگر ان تینوں نے بے حد اصرار کیا، اپنی مجبوری ظاہر کی تو وہ بمشکل مان گیااور اسے اپنی خانقاہ کے ساتھ ایک کمرے میں رہائش دے دی۔ کافی عرسے تک لڑکی کا کھانا یہ عابد خانقاہ کے دروازے پر چھوڑ کر واپس چلا جاتا۔ عورت دروازے سے کھانا اٹھا کر اپنے کمرے میں لے جاتی تھی۔

روزنامہ امت کے مطابق اب شیطان عابد کے پاس آیا اور اسے اس نیک کام پر شاباش دینے لگا اور پھر کہا کہ ابھی بھی اس عورت کیلئے خطرات ہیں، کیونکہ روزانہ اسے کھانا لینے کیلئے اپنے کمرے سے نکل کر خانقاہ کے دروازے تک آنا پڑتا ہے ، اس دوران اس پر دوسرے لوگوں کی نظریں پڑ سکتی ہیں اور کوئی اسے تکلیف اور اذیت بھی پہنچا سکتا ہے یا پھر کوئی اس سے زیادہ بھی کر سکتا ہے لہٰذا اگر تم تھوڑی سی تکلیف کر کے یہ کھانا اس کے دروازے پر پہنچایا کرو تو تمہیں بہت ہی زیادہ ثواب اور اجر حاصل ہو گا۔

اس عابد کو جب کئی بار شیطان نے اس عظیم اورنیک کام میں مزید ثواب کا لالچ دیا تو عابد مان گیا اور اب وہ کھانا خانقاہ کے دروازے کے بجائے اس لڑکی کے کمرے کے دروازے پر چھوڑنے لگ گیا۔

کچھ عرصے بعد شیطان اس عابد کے پاس پھر آنے لگا اور اس کے اس عظیم ثواب کے کام کی تعریف کی ، جس سے عابد نے اسے اپنا مخلص دوست سمجھا، شیطان نے اب اسے مشورہ دیا کہ کسی بھی پریشان حال مصیبت زدہ اور دکھی انسان کو خوش کرنے کا بہت بڑا اجرو ثواب ہے اور اس عورت سے بڑا پریشان کون ہو گا، جو دن رات اپنے ایک کمرے میں بندرہتی ہے ، کوئی بھی اس سے ہفتوں نہیں، بلکہ مہینوں بات نہیں کرتا ۔ آخر وہ بھی تو انسان ہے وہ گھبرا جاتی ہو گی، اس لئے کبھی کبھی خدا کی رضا کیلئے اور اس عورت کا غم ، دکھ، پریشانی اور صدمہ کم کرنے کیلئے بات کر لیا کرو تو اس میں بھی بہت ثواب ہو گا۔ عابد کے دل میں شیطان کی بات اُتر گئی کہ واقعی ایک عورت تنہا مہینوں کسی سے بات نہ کرے، ضرور پریشان ہوتی ہو گی، اب وہ تقریباًروزانہ خانقاہ کی کھڑکی ہی سے لڑکی کا حال احوال پوچھ لیتا اور کچھ بات کر لیا کرتا تھا۔

کچھ عرصہ بعد شیطان پھر ایک خیرخواہ کے روپ میں آگیا اور عابد سے کہنے لگا : ظاہر بات ہے ، تم یہ سب کچھ ثواب کے لئے کر رہے ہو تو پھر کھڑکی سے تھوڑی دیر کے لئے بات کرنے کی بجائے خانقاہ کے دروازے پر اس عورت کے قریب بیٹھ کر بات کر لیا کرو، کیونکہ کھڑکی سے بات کرنے میں اونچی آواز میں بولنا پڑتا ہے اور گرجا میں اتنا بلند آواز سے بولنا اچھا بھی نہیں۔

عابد کو یہ ”دینی مسئلہ “ بھی سمجھ آگیا۔ اب اس عورت سے اپنے گرجا کے دروازے پر کچھ دیر کے لئے باتیں کر لیا کرتا تھا۔ پھر کچھ ہی دنوں بعد شیطان اپنے شیطانی مشن کی تکمیل کیلئے عابد سے کہنے لگا کہ اس عورت کو گرجا تک آنے اور جانے میں بھی تکلیف ہوتی ہو گی اور ویسے بھی اسے دوسرے غیر متعلقہ لوگوں کی نظر اس پر پڑتی ہو گی۔ یہ شرعی اعتبار سے غلط ہے ۔ عورت کو گھر سے باہر نہیں نکلتا چاہئے، اس لئے اس کے کمرے کے دروازے پر بات کرنا زیادہ بہتر ہو گا۔

اس میں بے پردگی کے خطرات بھی کم ہو جائیں گے ۔ چونکہ یہ بات بھی دینی جذبے کی حامل تھی ، لہٰذا عابد نے بلاچوں و چراشیطان کے اس مشورے پر عمل شروع کر دیا، اب عابد روزانہ کچھ وقت کیلئے گرجا سے نکل کر عورت کے کمرے کے دروازے پر کچھ دیر حال احوال پوچھ کر واپس آکر عبادت میں مصروف ہو جاتاتھا۔

کچھ ہی عرصے بعد شیطان نے پھر عابد کو اکسایا کہ یوں دروازے پر بیٹھنا غیر مناسب ہے ۔ اگر آپ اندر کمرے میں بیٹھ جائیں تو یہ آپ کی شخصیت کیلئے مناسب ہے، کیونکہ دروازے پر تو بھکاری بیٹھا کرتے ہیں۔ عابد کو یہ بات بھی حقیقت کے قریب اور مناسب نظر آئی اور اس پر بھی عمل شروع کر دیا۔

مگر ابھی تک وہ عورت پردہ میں رہ کر بات کرتی تھی اور یہ عابد بھی بس تھوڑی دیر تک حال احوال اور اس کی کوئی ضرورت یا کام معلوم کر کے واپس آجایا کرتا تھا۔ ایک بار پھر شیطان نے عابد کو سمجھایا کہ تم جتنی دیر بھی اس عورت سے باتیں کرتے ہو، چونکہ یہ سب ایک نیک نیت، اچھے جذبے اور ثواب کی خاطر کرتے ہو، تو پھر تھوڑا سا ثواب کیوں، جتنی دیر تک ایک دکھی اور پریشان حال آدمی اور وہ بھی صف نازک یعنی ایک عورت کو تسلی دیتے رہو گے، اتنا زیادہ ثواب ملے گا۔

اب عابد کا اس عورت کے کمرے میں سارا دن گزرنے لگا، جبکہ رات گرجا گھر میں اس عابد نے شیطان ہی کے مشورے پر عورت کو پردے اور نقاب کی مسلسل پابندی میں مناسب حد تک نرمی کی بھی اجازت دے دی اور پھر نقاب سرکتے سرکتے مکمل سرک گیا۔

اب شیطان کا کام تقریباً ختم ہو چکا تھا، کیونکہ عابد کے نیک جذبے پر نفس نے غلبہ پانا شروع کر دیا تھا اور نفسیانی خواہش نے رفتہ رفتہ تمام حدیں پار کر لیں اور وہ عورت حاملہ ہو گئی اور بچے کی ماں بن گئی۔

اب شیطان ایک بار پھر آگیا اور کہنے لگا یہ تم نے کیا کر دیا؟ اب اگر عورت کے بھائی آگئے تو تمہاری خیر نہیں، پھر شیطان ہی کے مشورے پر اس نے نوزائیدا بچے کو قتل کر کے گرجا کے قریب ہی ایک گھڑے میں دفن کر دیا۔ مگر پھر شیطان باز نہ آیا اور عابد سے کہنے لگا تم نے تو اس عورت کے بچے کو مارڈالا ہے، اگر کبھی اس نے اس بارے میں اپنے بھائیوں کو بتا دیا تو وہ تجھے ضرور قتل کر دیں گے۔ اب تمہاری جان صرف اسی صورت میں بچ سکتی ہے کہ تم اس عورت کو بھی مار کر دفن کر دو اور اس کے بھائیوں سے کہہ دینا وہ خدا کی مرضی اور حکم سے فوت ہو گئی۔ کسی کو کیا پتہ چلے گا اور کون انہیں اس بارے میں بتائے گا ، کیونکہ اس کی کسی کو خبر نہیں ۔

شیطان کی بات سن کر عابد گھر گیا کہ واقعی عورت کبھی بھی اس کا راز فاش کر سکتی ہے، کیوں نہ بانس ہی کو ختم کر دیا جائے تاکہ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری اور پھر عابد نے اس عورت کو بھی قتل کر کے اس بچے کے گڑھے میں اسی کے ساتھ دفن کر کے اوپر پتھر رکھ دیئے اور معمولات زندگی میں مصروف ہوگیا۔

کچھ عرصہ بعد اس عورت کے بھائی واپس آگئے اور وہ اس عابد کے پاس اپنی بہن لینے گئے تو عابد نے روتے ہوئے انتہائی غمزدہ ہو کر بتایا کہ وہ عورت بڑی نیک صالح دیندار اور عبادت گزار تھی ، مگر بیماری کی وجہ سے وہ فوت ہو گئی ۔ یہ اس کی قبر ہے۔

بھائیوں نے قبر دیکھی، کچھ دیر ٹھہرے اور عابد سے رخصت ہو کر اپنے گھر چلے گئے ۔ رات کو جب سوئے تو شیطان ہر ایک کے خواب میں آیا اور ان سے ان کی بہن کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جیسا عابد سے سنا تھا ، وہ بتایا ، مگر شیطان نے کہا: ” یہ سب جھوٹ ہے ، اس عابد نے تمہاری بہن سے بدکاری کی، اس سے بیٹا پیدا ہوا، بدنامی کے ڈر سے اس نے اس بیٹے اور تمہاری بہن کو قتل کر کے گرجا کے دروازے کی دائیں جانب قریب ہی گڑھا کھود کر دفن کر دیا ہے۔ تمہیں اگر یقین نہ آئے تو جا کر دیکھ لو۔ “

صبح جب تینوں بھائی اٹھے اور اپنا اپنا خواب سنانے لگے تو تینوں بھائی یہ دیکھ کرحیران ہو گئے کہ ان کا خواب بالکل ایک جیسا ہے۔ بڑا بھائی بولا یہ سب شیطانی خیالات ہیں، چھوڑو یہ سب فضول ہے ، مگر چھوٹا بھائی بولا نہیں میں تو ضرور تحقیق کروں گا اور پھر تینوں نے جب خواب میں بتائی گئی جگہ کھودی تو وہاں دونوں ماں بیٹے کی لاش سرتن سے جدا موجود تھی اور پھر عابد کو بھی اپنے گناہ کا اقرار کرنا پڑا اور اس جرم پر لوگوں نے اسے سولی پر لٹکا نے کا فیصلہ کر لیا ۔

جب اس عابد کو سولی پر لٹکا یا جانے لگا تو شیطان ایک بار پھر اس کے پاس آیا ور اس سے پوچھنے لگا کہ کیا تم مجھے جانتے ہو تو عابد نے نفی میں جوابدیا۔ شیطان بولا میں وہی ہوں، جس نے تجھے یہاں تک پہنچایا اور آج تو تو خود بھی ذلیل اور رسوا ہو گیا ہے اور تمام دوسرے عابدوں اور راہبوں کو ذلیل کر دیا ہے ۔ کوئی بھی اب ان پر اعتبار نہیں کرے گا، مگر میرے پاس ایک نسخہ ہے ، اگر تو میری بات مان لے تو میں ان آنکھوں میں دھول جھونک کر تجھے بچا بھی سکتا ہوں۔عابد نے پوچھا ضرور ضرور، میں تیری بات مانتا ہوں ، بس مجھے بچالو، میں کیا کام کروں؟ شیطان بولا”بس ابھی ابھی اسی حالت میں تم مجھے ایک سجدہ کر دو۔ میں ابھی اور فوراً تمہیں بچا لیتا ہوں “ اور پھر عابد شیطان کو سجدہ کر کے مذہب سے خارج اور کافر ہو گیا۔شیطان یہ دیکھتے ہی بھاگ نکلا اور کہنے لگا مجھے خدا تعالیٰ سے ڈر لگتا ہے۔

اس واقعہ کے بارے میں قرآن کریم میں آیات نازل ہوئیں۔ترجمہ: ”جیسے شیطان جب انسان سے کفر کر والیتا ہے تو کہتا ہے کہ میں تجھ سے بیزار اور الگ ہوں، کیونکہ میں خدا رب العالمین سے ڈرتا ہوں پھر ان دونوں کا انجام ہمیشہ کی آگ ہے اور یہی ظالموں کا بلدلہ ہے ۔ “ (سورہ حشر 16,17 )

بشکریہ روزنامہ امت

مزید : ڈیلی بائیٹس