فوجی سربراہوں کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہ ہونے کا تاثر درست نہیں،جرم ثابت ہوا تو جیل جانے کے لئے تیار ہوں: نواز شریف

فوجی سربراہوں کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہ ہونے کا تاثر درست نہیں،جرم ثابت ہوا تو ...
فوجی سربراہوں کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہ ہونے کا تاثر درست نہیں،جرم ثابت ہوا تو جیل جانے کے لئے تیار ہوں: نواز شریف

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں کہ پاک فوج کے تمام سربراہوں کے ساتھ میرے تعلقات ٹھیک نہیں ہیں ، اکثر فوجی سربراہوں کے ساتھ میری بنی بھی ہے اور اچھی بنی ہے۔ پاک فوج کے سربراہوں کے ساتھ میرے تعلقات آئین اور قانون کے دائرے میں رہے ہیں،اب ہم نے اس مرض کی تشخیص کر لی ہے کہ جس کی وجہ سے اس ملک میں تمام مشکلیں اور مصیبتیں جھیلنی پڑی ہیں ،میں قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں ، یہی وجہ ہے کہ جے آئی ٹی پر اعتراضات کے باوجود اس کے سامنے پیش ہوا ہوں ، سپریم کورٹ کے فیصلے کو عوام نے مسترد کردیا ہے اس لئے ووٹ کے تقدس کے لئے میں آخری حد تک جاﺅں گا۔اگر مزید تحقیقات کے دوران جرم ثابت ہو جاتا ہے تو میں اور میری فیملی جیل جانے کے لئے تیار ہیں ،ووٹ کے احترام کو پاﺅں تلے روندنے کی روایت کو توڑنا ہوگا ۔ مجھے وزارت عظمیٰ کا کوئی شوق نہیں ہے کیوں کہ وزارت عظمیٰ پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا ایک بستر ہے جہاں پر ہر رات پہلو بدلتے ہوئے گزرتی ہے ۔ اس کے لیے ملک کی ایک سمت کا تعین کرنا ضروری ہے اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب ہم ووٹ کے تقدس کا احترام کریں گے۔

کشمیری خود ریاستی دہشت گردی کا شکارہیں، حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دینے کے امریکی فیصلے پر مایوسی ہوئی: نفیس زکریا

بی بی سی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ میرے سیاسی مخالفین کو میرے وزیر اعظم بننے سے تکلیف ہو رہی ہے۔ جب مشرف نے مارشل لاءلگایا تو وہ اور اس کے کچھ ساتھی میرے خلاف تھے جبکہ باقی فوج کو تو پتا ہی نہیں تھا کہ ملک میں ایمرجنسی لگ گئی ہے، فوج کا ایک بہت بڑا حصہ مشرف کے فیصلے کے ساتھ نہیں تھا۔ گذشتہ ادوار میں بھی چند افراد نے مارشل لگایا جبکہ پاک فوج کے اکثر افراد اس کے مخالف تھے۔مارشل لاءنے قوم کے ووٹ کا تقدس پامال کرتے ہوئے ووٹ کی پرچی ان کے منہ پر مار دی۔ ملک میں آمروں کے دور نے ترقی کے راستوں کو روکا ہے ۔ہم نے آج اس مرض کی تشخیص کر لی ہے اور اس کا علاج تبھی ممکن ہو گا جب پاکستان کی سمت کو درست جانب لے جایا جائے گا،ووٹ کے تقدس کے لئے ہم پوری جدوجہد کریں گے مجھے ان افراد کی کمی نہیں ہے جو ملک کی تقدیر بدلنے کے لئے تیار ہیں۔

اپوزیشن کے اتحاد کے حوالے سے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ جمہوریت کے فروغ کے لئے اقدامات کئے ہیں جبکہ میرا کوئی بھی اقدام ایسا نہیں ہے جو اس نظرئیے کے خلاف ہو ، میں نے آج تک چارٹرڈ آف ڈیموکریسی کی خلاف ورزی نہیں کی،اس وقت کے صدر زرداری کو ہم نے بہت عزت کے ساتھ رخصت کیا، ہم نے کوئی بھی اپوزیشن کے خلاف ایسے اقدامات نہیں اٹھائیے ہم نے دھرنوں میں بھی صبر اور ضبط سے کام لیا، ہم نے ہمیشہ بردباری کا مظاہرہ کیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم ووٹ کے احترام کو یقینی بنائیں یہ میں اکیلا نہیں کر سکتا بلکہ اس کے لئے تمام سیاسی جماعتو ں کو میرا ساتھ دینا ہوگا۔ سابق وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ میں اداروں کے درمیان تصادم کا حامی نہیں ہوں یہ میری اور ہم سب کی اولین ذمہ داری ہے کہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی فضاءکو یقینی بنائیں۔

مزید : قومی /اہم خبریں