پیمرا نے اے آر وائی کمیونیکیشنز کو انتباہ کیوں جاری کیا؟ ، ادارے نے قابل اعتراض ویڈیو ز جاری کردیں

پیمرا نے اے آر وائی کمیونیکیشنز کو انتباہ کیوں جاری کیا؟ ، ادارے نے قابل ...
پیمرا نے اے آر وائی کمیونیکیشنز کو انتباہ کیوں جاری کیا؟ ، ادارے نے قابل اعتراض ویڈیو ز جاری کردیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) ٹی وی چینلز کی مانیٹرنگ کا کام کرتا ہے ، اس سلسلے میں چینلز پر نشر ہونے والے مواد کے حوالے سے ادارے نے خصوصی ضابطہ اخلاق بنایا ہوا ہے اور جو چینل ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتا ہے اس کے خلاف ایکشن بھی لیا جا تا ہے تاہم پیمرا کو چینلز کے خلاف کارروائی کرنے پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ، تاہم چند روز قبل پیمرا نے اے آر وائی کمیونیکشنز کو انتباہ جاری کیا جس پر پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے پیمرا کو تنقید کا نشانہ بنایا جس پر ادارے نے چینل پر نشر ہونے والی ویڈیوز بھی جاری کردیں جو کہ کسی بھی صورت میں نشر کئے جانے کے قابل نہیں ہیں۔

فوجی سربراہوں کے ساتھ تعلقات ٹھیک ہونے کا تاثر درست نہیں،جرم ثابت ہوا تو جیل جانے کے لئے تیار ہوں: نواز شریف

پیمرا کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق سینیٹر شیری رحمان اور سینئر جرنلسٹ زاہد حسین نے گذشتہ روز سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پیمرا کی طرف سے نجی ٹی وی چینلز اے آر وئی کمیونیکیشنزکو انتباہ جاری کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اب پیمرا اس بات کا تعین کرے گا کہ ڈراموں میں کس طرح کا لباس پہنا جانا چاہیے اور یہ کہ کون سا مواد شائستہ ہے اور کون سا ناشائستہ۔ معزز سینیٹر کے مطابق اس کے طرز عمل سے پیمرا اخلاقیات کا پرچار کرنے والے پولیس مین کا کردار ادا کررہا ہے۔ پیمرا نے اس تنقید کے جواب میں واضح کیا ہے مذکورہ ٹی وی چینلز کو پیمرا قوانین اور الیکٹرانک میڈیا ضابطہ اخلاق کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی پر وارننگ جاری کی گئی ہے تاکہ کپڑوں کے انتخاب پر اور نہ ہی ریگولیٹر کے پاس اخلاقیات کا پولیس مین بننے کا کوئی اختیار ہے۔

شیریں رحمان اور صحافی زاہد حسین کا ٹوئٹ ملاحظہ کریں :

اے آر وائی کمیونیکیشنز کو ضابطہ اخلاق کی شق (e)(1)3 کی خلاف ورزی پر وارننگ جاری کی گئی جس کے مطابق لائسنس دار اس امر کو یقینی بنائے گا کہ کوئی ایسا مواد نشر نہ ہو جو نازیبا، اخلاقباختہ یا فحش ہو۔ اے آر وائی کمیونیکیشنز پر چلنے والے ویڈیو کلپ دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نشر کیا جانے والا مواد اخلاق باختہ تھا یا نہیں۔

پیمرا کی جانب سے جاری ویڈیو کلپ دیکھیں : 

پیمرا نے ریکارڈ کی درستگی کے لئے ان ویڈیو کلپس کو پیمرا کے ٹویٹر اور فیس بک اکاﺅنٹ (رپورٹ پیمرا) ان ویڈیو کلپس کو منسلک کردیا ہے تاکہ سینیٹر شیری رحمان اور دیگر جو اتھارٹی کو Morality Policeکہتے ہیں خود دیکھ سکیں کہ کیا ایسی کلپس اور مکالمہ ٹی وی سکرین پر دکھایا جانا چاہیے جسے خاندان کے تمام افراد اکٹھے بیٹھ کر دیکھتے ہیں؟

مزید : قومی