”شیر شیر نہ رہا“دہشت اور بہادری کی علامت بننے والا یہ درندہ ’’ بندر ‘‘ کی طرح ناچنے پر کیوں مجبور ہوجاتا ہے ؟ ایسی تفصیلات کہ آپ بھی مسکرانے پر مجبور ہو جائیں گے

”شیر شیر نہ رہا“دہشت اور بہادری کی علامت بننے والا یہ درندہ ’’ بندر ‘‘ کی ...
”شیر شیر نہ رہا“دہشت اور بہادری کی علامت بننے والا یہ درندہ ’’ بندر ‘‘ کی طرح ناچنے پر کیوں مجبور ہوجاتا ہے ؟ ایسی تفصیلات کہ آپ بھی مسکرانے پر مجبور ہو جائیں گے

  

لاہور (نظام الدولہ)آج کل ملک بھر میں ایک بار پھر”شیر شیر“ کی بہت زیادہ گونج سنائی دے رہی ہے، اس لئے کہ سیاست اور اقتدار میں شیرکو بہادری اور دہشت کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ شیر واقعی ایک بہادر جانور ہے جس کی وجہ سے وہ جنگل کا بادشاہ کہلاتا ہے ، اسکی خونخواری مسلمہ ہے ،ہر دلیر اور جی دار آدمی کو شیر کہا جاتا ہے لیکن یہی شیر جب سرکس میں پہنچا دیا جاتا ہے تومسخروں اور بندروں کے ساتھ سرکس ماسٹر اسکو بھی ناچنے اور کرتب دکھانے پر مجبور کردیتا ہے حتٰی کہ وہ اس پر سواری ڈال کر اسکو گھوڑے کی طرح دوڑاتا بھی ہے تو شیر چو ں تک نہیں کرتا ،  اسکی خونخواری ایک چھڑی کے اشارے سے مفقود ہوجاتی ہے البتہ اسکی دہشت اور طاقت کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا لیکن ماسٹر نے اس کا علاج کیا ہوتا ہے۔ایک گن مین اس تاک میں بیٹھا ہوتا ہے  کہ جو نہی شیر جنگلی بننے کی کوشش کرے گا  تو اسکو گولی ماردی جائے گی۔ ایسا کئی بار ہوچکا ہے کہ جب بھی شیر نے ماسٹر پر حملہ کیا اسکو گولی ماردی گئی ۔( اہل سیاست اسکا اپنے انداز میں مطلب نکال سکتے ہیں)۔

سرکس میں شیر کو کیسے اسکی فطرت کے برعکس ناچنے اور کودنے پر مجبور کیا جاتا ہے ؟ آئیے  ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ جنگل کے شیر کو سرکس کا تابعدارشیر بنانے میں اسکا ماسٹر کیا کچھ کرتا ہے؟ ۔

سرکس میں سب سے پہلے شیر کو سدھانے کا کام ہینری مارٹن نے انجام دیا تھا ،اسکے لئے اسکو سالہا سال لگے،اس نے شیر کو ایک پنجرے میں بند کیا اور  بھوکا رکھ کر اسکے دانت کمزور اور ناخن کتر کر اسکو تربیت دی گئی۔جنگلی شیر  کو ’’ سرکس کا شیر ‘‘ بنانے کے دوران  مارٹن کئی بار زخمی  بھی ہوا لیکن وہ ایک دن شیر کو سرکس میں کرسی پر بیٹھانے،آگ کے گولے میں سے کودنے اور اس پر سواری ڈالنے میں کامیاب ہوگیا اور اسکے ساتھ ہی دنیا میں یہ تصور راسخ ہوگیا کہ انسان چاہے تو جنگل کے بادشاہ کو بھی بندر کی طرح ناچنے پر مجبور کرسکتا ہے تاہم اس کا انحصار تربیت پر ہے۔

کئی ٹرینیز  تو شیر کو انسانوں کا بوسہ لینے کی عادت بھی ڈال دیتے ہیں اور ایک وقت وہ آن پہنچتا ہے کہ شیر انکے خاندان کا حصہ بن کر  باورچی خانے اور بیڈ روم میں گھومتا پھرتا ہے اور کوئی اس سے  خوف نہیں کھاتا۔

شیروں کو تربیت دینے والے سرکس ماسٹروں کا کہنا ہے کہ شیر کو سب سے پہلے قطار میں اٹھنے بیٹھنے کی تربیت دی جاتی ہے، گویا اسکو ’’ اٹھک بیٹھک‘‘  کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ نظم وضبط سیکھ لے، جب ماسٹر اور شیر میں موانست پیداہوجاتی ہے توماسٹر خود ایسے تمام انداز اسکے سامنے اختیار کرتااور باربار دھراتا ہے جس سے شیر میں بھی نقل کی رغبت پیدا ہونے لگتی ہے۔

شیر کو آگ کے اوپر سے چھلانگ لگانے کی تربیت کا انداز انتہائی عجیب ہے، اس تربیت کا لمحہ اس وقت ہوتا ہے جب شیر کو پیشاب کرنے کی حاجت ہوتی ہے تو اسکے پاس آگ جلا دی جاتی ہے ،  وہ پیشاب کرنے کی تگ و دو میں چھلانگ لگا دیتا ہے ، اس مرحلہ پرٹرینر اپنے ہاتھ میں دو چھڑیاں تھامے رکھتا ہے ، ایک میں لچک دار سلاخ اور دوسری میں گوشت کا لمبا سا ٹکڑا لگاہوتا ہے ۔

شیرگوشت والی چھڑی پر لپکتا ہے تو ٹرینر اسکو دوسری چھڑی سے اپنے زاویہ پر حرکت دینے کی کوشش کرتا ہے اور یہ مشقیں بالاخر شیر کو اپنے ماسٹر کی تابعداری پر مجبور کردیتی ہیں اور وہ اپنی فطرت کے برعکس ناچنے والا شیر بن جاتا ہے ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس