سعودی عرب میں جو کام پہلے پاکستانی کرتے تھے اب سعودی خواتین کرنے لگیں، دھڑا دھڑ ریال کمانے لگیں

سعودی عرب میں جو کام پہلے پاکستانی کرتے تھے اب سعودی خواتین کرنے لگیں، دھڑا ...
سعودی عرب میں جو کام پہلے پاکستانی کرتے تھے اب سعودی خواتین کرنے لگیں، دھڑا دھڑ ریال کمانے لگیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد کا روزگار موبائل فون ریپئیرنگ سے وابستہ ہوا کرتا تھا۔ جب غیر ملکیوں کو اس شعبے سے نکالا جا رہا تھا تو ہر کوئی پوچھ رہا تھا کہ اب اس کام کو کون سنبھالے گا، اور اب اس سوال کا جواب بھی سامنے آ گیا ہے۔ یہ خلاءکسی اور نے نہیں بلکہ خود سعودی خواتین نے ہی پر کر دیا ہے، جس کی ایک بڑی مثال نوجوان خاتون الجواہرہ القحطانی ہیں، جو موبائل فون رئیپیرنگ کی ایک بڑی کمپنی کی مالک بن چکی ہیں۔

سعودی عرب میں نوجوان بھارتی ڈرائیور اور ادھیڑ عمر سعودی خاتون کی گاڑی میں بنائی گئی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ برپا کردیا، اس میں دونوں کیا گفتگو کررہے ہیں؟ جان کر آپ بھی داد دیں گے

سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق الجواہرہ نے اپنی کامیابی کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پرنسس نورا بنت عبدالرحمن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہی تھیں جب انہوں نے ایک دن موبائل رپیئر نگ کے شعبے میں خواتین کے لئے مواقع کے بارے میں ایک اشتہار دیکھا۔ الجواہرہ نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک اکاﺅنٹ قائم کیا اور اس کے ذریعے وہ خواتین کے لئے لیپ ٹاپ اور موبائل رپیئرنگ کی سروس فراہم کرنے لگیں۔ ایک سال بعد انہوں نے ایک دکان بھی کھول لی جہاں خواتین کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ رپیئر کی جاتے تھے۔ پھر 2015ءتک ان کی کمپنی ’ٹویٹر فکس‘ اور موبائل رپیئرنگ شاپس نے ایک بڑے کاروبار کی شکل اختیار کرلی جو ’فکس ٹیگ‘ کے نام سے اپنی منفرد جگہ بنا چکا ہے۔ اب ان کا کاروبار ایک آن لائن سٹور اور دو بڑی دکانوں پر مشتمل ہے۔ وہ اب تک 18ہزار کسٹمرز کے موبائل فون رپیئر کرچکی ہیں اور ان کی کمپنی میں 13 خواتین اور دو مرد ملازم ہیں۔ وہ جلد ہی دو مزید رپیئرنگ شاپس جدہ اور کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، جبکہ کنگ سعود یونیورسٹی ریاض میں بھی ایک نئی شاخ کھولنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

مزید : عرب دنیا