کوک سٹوڈیو میں نتاشا بیگ کا ’’شکوہ جواب شکوہ‘‘ توجہ کا مرکز

کوک سٹوڈیو میں نتاشا بیگ کا ’’شکوہ جواب شکوہ‘‘ توجہ کا مرکز

  

لاہور(فلم رپورٹر)کوک سٹوڈیو کے سیزن 11 میں علامہ اقبال کے شہرہ آفاق کلام ’شکوہ جوابِ شکوہ‘ پر پرفارم کرنے والی نوجوان گلوکارہ نتاشا بیگ ان دنوں سب کی توجہ کا مرکز ہے، یہ سیزن اپنے آغاز سے ہی مقبولیت کے افق کو چھو رہا ہے۔کوک سٹوڈیو کی جانب سے جب نتاشا بیگ ، فرید ایاز اور ابومحمد قوال و ہمنوا گروپ کی آواز میں علامہ اقبال کا شکوہ جواب شکوہ ، ریلیز کیا گیا تو گویا انٹرنیٹ پر تہلکہ مچ گیا۔گانا دو حصوں پر مشتمل ہے، پہلا حصہ جو کہ ’شکوہ‘ پر مبنی ہے، اس میں نتاشا صوفی روک کا جادو جگاتی ہیں تو دوسرے حصے میں جو کہ جواب شکوہ ، عمر خیام اور امجد حیدرآبادی کے کلام پر مشتمل ہے فرید ایاز اور ابومحمد قوال اپنی کلاسیکی قوالی کا جادو جگاتے نظر آتے ہیں۔ 2013 سے موسیقی کی دنیا میں متحرک نتاشا بیگ کو اس گانے نے شہرہ آفاق مقبولیت عطا کی ہے۔

نتاشا بیگ کا خاندان بنیادی طور پر پاکستان کی حسین ترین وادی ہنزہ سے تعلق رکھتا ہے لیکن کراچی میں مقیم ہے، نتاشا 10 جنوری 1992 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنی تمام تر تعلیم یہیں حاصل کی ہے اور ایک نجی یونیوورسٹی سے فلم پروڈکشن کی ڈگری حاصل کی ہے۔نتاشا بیگ نے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی ہے ، ان کا بچپن عابدہ پروین اور مائیکل جیکسن کو سنتے ہوئے گزرا ، ان کی موسیقی میں بھی ہمیں صوفی اور راک میوزک کیرنگ نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ 2013 میں موسیقی کے ایک مقابلے کے چھ فائنل امیدواروں میں نتاشا بیگ بھی شامل تھیں اور وہی سے ان کا موسیقی کا باقاعدہ سفر شروع ہوتا ہے، مقابلے کے بعد وہ ’ساؤنڈز آف کولاچی‘ نامی میوزک بینڈ سے وابستہ ہوگئیں۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے ساؤنڈز آف کولاچی کو چھوڑ کر ’کایہ ‘ نامی بینڈ میں شمولیت اختیار کرلی۔

مزید :

کلچر -