آج وزیر اعظم کا انتخاب، کل سے امتحان شروع

آج وزیر اعظم کا انتخاب، کل سے امتحان شروع

  

قومی اسمبلی میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب سے واضح ہوگیا ہے کہ اب عمران خان قائدِ ایوان کا انتخاب آسانی سے جیت جائیں گے، سپیکر کے لئے اسد قیصر کو 176 ووٹ ملے جبکہ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری اُن سے بھی سات ووٹ زیادہ لے گئے، یہ دونوں انتخابات خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہورہے تھے، اپوزیشن کے مدِ مقابل امیدواروں سید خورشید شاہ اور اسعد محمود کو بھی توقع کے مطابق ووٹ ملے، اپوزیشن اس موقع پر تو متحد نظر آئی لیکن اب پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ (ن) کے وزارت عظمیٰ کے نامزد امیدوار شہباز شریف پراعتراض ہے، حالانکہ اس منصب پر مسلم لیگ (ن) کا امیدوار نامزد کرنے کا حق تسلیم کیا گیا تھا، بعد میں اس پر جو اعتراض ہوا مسلم لیگ (ن) نے وہ مسترد کردیا ہے اس لئے عین ممکن ہے کہ پیپلز پارٹی شہباز شریف کو ووٹ نہ دے۔ ایسی صورت میں اُن کے ووٹ کم ہوسکتے ہیں تاہم متحدہ اپوزیشن قائد ایوان کا انتخاب جیت کی امید پر تو نہیں لڑ رہی نہ وہ حکومت سازی کی دوڑ میں شریک ہے اور اس کا امکان بھی نہیں تاہم اگر پیپلز پارٹی ’’غیر جانبدار‘‘ رہی جس طرح اس نے پنجاب اسمبلی میں سپیکر کے انتخاب کے موقع پر کیا ہے تو یہ ضرور واضح ہوجائیگا کہ اپوزیشن اتحاد کا جوتاثر دیا جارہا تھا وہ مضبوط بنیادوں پر نہیں کھڑا۔

آج وزیر اعظم کے انتخاب میں عمران خان کی کامیابی یقینی ہے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد وہ کہاں رہنا پسند کریں گے یہ اُن کا اپنا فیصلہ ہوگا اِس سے پہلے وہ منسٹرز کالونی، سپیکر ہاؤس، پنجاب ہاؤس، پنجاب ہاؤس میں وزیر اعلیٰ انیکسی اور اب ملٹری سیکرٹری والی رہائش میں رہنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے خیال میں اگر وہ وزیر اعظم ہاؤس ہی میں رہیں تو کوئی مضائقہ نہیں یہ عمارت اِسی مقصد کے لئے بنی ہوئی ہے اور اس پر جو خرچ ہونا تھا ہوچکا ہے، معمول کی دیکھ بھال کے اخراجات تو اس عمارت پر ہوتے ہوں گے لیکن اب اس پر کوئی زیادہ بڑا خرچہ نہیں ہونے والا، البتہ اس ایوان کے جو دوسرے اخراجات ہورہے ہیں انہیں ضرور کم کیا جاسکتا ہے اور بہتر یہ ہے کہ یہ اخراجات کم کئے جائیں، کیونکہ یہ عمارت اگر کسی دوسرے مصرف میں لائی جاتی ہے تو اس پر مزید اخراجات اُٹھ جائیں گے یہ علاقہ ہائی سیکیورٹی زون ہے ایوان صدر، ایوانِ وزیر اعظم، پارلیمنٹ ہاؤس اور سپریم کورٹ بلڈنگ ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئی ہیں اور ان کی سیکیورٹی بھی باہم منسلک ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس میں اگر وزیر اعظم نہیں رہتے تو پھر دیکھنا ہوگا کہ یہ عمارت کس کام آئیگی، اسے یونہی خالی چھوڑ کر کھنڈر تو نہیں بنایا جاسکتا، اسے اگر کسی تعلیمی ادارے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تو یہ علاقہ اس کے لئے مناسب نہیں، وزیر اعظم ہاؤس تک جانے والی سڑک ایوانِ صدرکے راستے سے ہو کر گزرتی ہے اور یہ شاہراہ عام نہیں ہے، یہاں سے گزرنے کے لئے بہت سے سیکیورٹی مراحل طے کرنے پڑتے ہیں تب کہیں جاکر ایوان صدر کے بیرونی گیٹ تک پہنچا جاسکتا ہے ایسے میں اس عمارت میں جانے والے طالب علم اور اساتذہ کس طرح اس ہائی سیکیورٹی زون سے گزریں گے؟ اور ہزاروں طلباء اگر روزانہ اس عمارت میں آئیں جائیں گے تو کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہوگا؟ عمارت کو کسی دوسرے استعمال میں لانے سے پہلے تمام پہلوؤں پر اچھی طرح غور کرلینا چاہئے، محض اس لئے اس عمارت کا کوئی دوسرااستعمال مناسب نہیں کہ وزیر اعظم یہاں نہیں رہنا چاہتے اور وہ کبھی ایک عمارت کو پسند کرتے ہیں اور کبھی دوسری کو، انہیں ایک ہی بار جو فیصلہ کرنا ہے کرلینا چاہئے۔ البتہ اگر وہ سادگی اختیار کرنا چاہتے ہیں تو اس کے دوسرے بہت سے طریقے ہیں جو اختیار کئے جاسکتے ہیں گاڑیوں اور پروٹوکول کے قافلے کم کئے جاسکتے ہیں ہمیں معلوم نہیں ان میں کمی کا سوچا گیا ہے یا نہیں لیکن یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں بچت کی خاصی گنجائش ہے۔

وزیر اعظم کے لئے یہ بات اہم نہیں ہے کہ وہ کہاں رہتا ہے اور کتنی سادگی اختیار کرتا ہے، اہم تربات یہ ہے کہ بطور وزیر اعظم وہ ملک و قوم کی کیا خدمت کرتا ہے اور کیا ڈلیور کرتا ہے، جو وعدے قوم کے ساتھ کئے گئے ہیں اُن کو کس طرح پورا کیا جاتا ہے، ملک کو جو معاشی بحران درپیش ہے اس پر کیسے قابو پایا جاتا ہے، اس بحران سے نکلنے کے لئے جو 12۔ ارب ڈالر درکار ہیں وہ کہاں سے آئیں گے؟ دوست ممالک کی منت کرنا پڑے گی؟ یا آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دینا پڑے گی، اگر اس طرح کے سارے کام سلیقے سے ہوتے ہیں تو قوم اس بحث سے ماورا ہو جائیگی کہ وزیر اعظم کہاں رہتا ہے اور کیسے رہتا ہے، اس لئے ہماری درخواست تو یہی ہوگی کہ عمران خان نمائشی اقدامات کی جانب توجہ دینے کی بجائے حقیقی مسائل پر غور فرمائیں اور اُن کا حل تلاش کریں۔

اپوزیشن جماعتیں اگرچہ انہیں وقت دینے کے لئے تیار ہیں تاہم یہ سمجھ لینا خوش فہمی ہوگی کہ اپوزیشن اُن کی غلطیوں سے صرفِ نظر کرے گی اور ان کے لئے سہولت کار کا کردار ادا کرے گی سیاست میں ایسا کبھی ہوا ہے نہ ہوگا، ان کی اپوزیشن ایک مضبوط اپوزیشن ہے اس کے بارے میں کسی کو یہ خوش فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ یہ متحد نہیں رہے گی یا اس میں فارورڈ بلاک بن جائیگا اور اپوزیشن جماعتیں آپس میں اختلافات کا شکار ہوں گی یہ جہاں بھی ہوں گی اور جیسے بھی ہوں گی اپوزیشن کا کردار ہی ادا کریں گی اس بارے میں کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے اور عمران خان جو وعدے کرتے رہے ہیں اُن کے ایفا پر توجہ دیں، ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کے جو وعدے انہوں نے کئے ہوئے ہیں انہیں یہ یاد دلانے والے بہت ہوں گے کہ ان میں سے کس پر عمل ہوا اور کس پر نہیں، اگلے سو دنوں میں انہیں جنوبی پنجاب کا صوبہ بھی بنانا ہے جس کے لئے ایک قرار دادپہلے دن ہی اسمبلی میں جمع ہوچکی ہے اس لئے فروعی باتوں سے ہٹ کر حقیقی اہداف پر نظر رکھیں گے تو کامیابی ہوگی یہ سارے کام باتوں سے نہیں عمل سے ہوں گے، امتحان حلف اٹھاتے ہی شروع ہو جائیگا اللہ کرے وہ اس میں سرخرو ہوں ناکامی کا آپشن ان کے پاس نہیں ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -