دولت مندوں کی اسمبلی

دولت مندوں کی اسمبلی
دولت مندوں کی اسمبلی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نو دولتیوں کی اسمبلی وجود میں آگئی ہے۔ لیکن اس مرتبہ ایسی حکومت قائم ہوگی جس کی قیادت کوئی جاگیردار، سر مایہ دار یا نو دولتیا نہیں کر رہا ہوگا۔ عمران خان متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے ایسے شخص ہیں جنہوں نے شوکت خانم کینسر اسپتال قائم کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان میں حالیہ برسوں میں قومی یا صوبائی اسمبلیوں کے لئے منتخب ہونے والوں سے سرے سے مختلف ہیں۔ لیکن اسمبلی کی اکثریت ایسے آراکین پر مشتمل ہوگی جنہوں نے دولت تو خوب کمائی لیکن عوامی فلاح و بہبود کے لئے اپنی جیب خاص سے ٹکہ بھی خرچ نہیں کیا اور نہ ہی ان کاموں کے لئے وقت نکال کر چندے ہی جمع کئے۔ خیر یہ تو پاکستانیوں کے سیاسی اعمال کی سزا ہے کہ ان کے نمائندے ایسے افراد ہوں گے جو دولت مند ہوں اور عوام کی ترجمانی کے نام پر منتخب ہو کر بھی عوام کی ترجمانی نہ کر سکیں ۔

میری شریک حیات فرحت ، میں اور میری چھوٹی بیٹی حمیرا تفریح کے غرض سے ریگستانی ضلع تھرپارکر گئے ۔ ہم ننگر پارکر تک گئے ، مٹھی واپسی پر ہم ماما وشنو تھری کے مہمان ٹہرے تھے۔ دوران سفر فرحت علاقے کی پس ماندگی اور خواتین کو پانی بھرتا اور سروں پر مٹکے اٹھائے جاتے ، ٹوٹی ہوئی سڑک دیکھ کر تبصرے کر رہی تھیں کہ ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ 71 سالوں میں بھی انہیں پینے اور استعمال کے لئے پانی فراہم نہیں کیا جا سکا۔ عجیب اتفاق تھا کہ یہ گفتگو 14 اگست کو ہو رہی تھی۔ پھر انہوں نے خود ہی کہا کہ منتخب نمائندوں کو احساس نہیں ہوتا یا ان کی بینائی ختم ہو گئی ہے کہ وہ دیکھیں کہ جن علاقوں کی نمائندگی کے وہ دعوی دار ہیں ان علاقوں اور عوام کی کیا حالت ہے۔ پھر انہوں نے مٹھی میں سنا کہ ووٹوں کی خر یداری کے لئے پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے کیا کیا حربے اختیار کئے۔ اس گھریلو خاتون کو کس طرح بتایا جائے کہ حکومت کے کرتا دھرتاؤں اور منصوبوں پر عمل در آمد کرانے کے ذمہ دار افسران کس کس طریقے سے فنڈ کھا جاتے ہیں۔ ننگر پارکر میں قیمتی گرے ناٗئٹ پتھر کے پہاڑ موجود ہیں، ٹنوں کے حساب سے چائنا کلے نکلتی ہے لیکن رقم سرمایہ داروں کی نذر ہوجاتی ہے۔

علاقہ پر خرچ نہیں کیا جاتا ہے۔پورے ملک میں غیر ترقیاتی علاقوں میں رہائش رکھنے والوں کو غیر یکساں اور غیر متوازی ترقی کی شکایت ہی رہتی ہے۔ تھر پارکر میں 2008 سے 2013کے درمیاں ایک کمپنی پاک اوسس نے کڑوے پانی کو میٹھا کرنے کے بڑے منصوبہ پر عمل در آمد کیا۔ بلا شبہ اربوں روپے کے اس منصوبے سے آر او پلانٹ مختلف علاقوں میں لگائے گئے ۔ سب سے بڑے پلانٹ کا افتتاح نواز شریف اور آصف علی زرداری نے کیا تھا ۔ اکثر پلانٹ ناکارہ ہیں اور بڑے پلانٹ نے تو صرف ایک روز ہی کام کیا اس کے بعد تو مٹھی کے لوگ ترستے ہی رہ گئے کہ یہ پلانٹ کام کرتا تو انہیں استعمال کے لئے میٹھا پانی نصیب ہوجاتا۔ مٹھی کے عوام کو پینے کے لئے نہری پانی ایک ماہ میں ایک مرتبہ فراہم کیا جاتا ہے۔ آر او پلانٹوں کی تنصیب کے اس منصوبے پر کیا لاگت آئی، اس کے بارے تو حکومت سندھ بھی آگاہ نہیں ہے کیوں کہ پاک اوسس کمپنی انور مجید کی زیر نگرانی کام کرتی ہے۔ ان کا حکم ہو تو صوبائی حکومت سرکاری خزانہ ان کے حوالے کردے۔ جی ہاں وہ ہی انور مجید جنہیں سپریم کورٹ نے بیرون ملک سے طلب کیا اور بدھ کے روز ہی ایف آئی اے کو اجازت دی کہ انور مجید اور ان کے بیٹے کو گرفتار کر کے متعدد جعلی بنک اکا وئنٹ میں رقمیں جمع کر اکر بیروں ملک منتقل کرنے کے بارے میں تفتیش کرے۔ انور مجید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کا تمام کاروبار بشمول شکر تیار کرنے کے تمام کارخانوں کے معاملات کے نگران ہیں۔

پاکستان کی موجودہ قومی اسمبلی میں صرف پچاس اراکین ایسے ہیں جو پہلی بار منتخب ہوئے لیکن ان کی اکثر یت کا تعلق ایسے گھرانوں سے ہے جن کے افراد منتخب ہوتے رہے ہیں۔ گزشتہ قومی اسمبلی میں انتخابی اصلاحات کے نام پر ڈھکوسلہ کرنے والے کئی افراد بھی اس قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ پاکستان میں اس وباء کی بھر مار کیوں ہے کہ والد، بیٹا، بھائی ، داماد، بہن، اہلیہ، بہو، یا دیگر خونی رشتہ دار یا قریبی رشتہ دار ہی منتخب کرائے جاتے ہیں۔ کیا سیاست کو سمجھنے کی عقل انہی لوگوں پر اتری ہے یا انہیں اس لئے منتخب کرایا جاتا ہے کہ وہ مہروں کی طرح بوقت ضرورت ہاتھ اٹھانے کے کام آتے ہیں۔ نوجوانوں کے تعلیمی اداروں میں داخلوں کے بارے میں تو مختلف ادارے داخلوں کے سلسلے میں ان کی اہلیت اور قابلیت جانچنے کے لئے ٹیسٹ لیتے ہیں، کیا الیکشن کمیشن اتنی ہمت کرنے کے قابل ہے کہ ان معزز اراکین اسمبلی سے مختلف ممالک کے سربراہوں ، ان ممالک میں نافذ نظام حکومت یا ان ممالک کے دارالحکومتوں کے نام ہی معلوم کرسکے۔ یہ عجیب مذاق بن گیا ہے کہ جس کے پاس دولت ہے وہ اس کے بل بوتے پر منتخب ہو جائے۔ یہ جمہوریت ہے یا کارپوریٹ کاروبار جس کے حصص اپنے ہی لوگوں کو دئے جاتے ہیں۔

پاکستان میں کئی دہائیوں سے یہ ہی ہو رہا ہے۔ ان معزز اراکین کی اہلیت، قابلیت یا کارکردگی کے بارے میں پانچ سال بعد یہ خبریں ضرور شائع ہو جاتی ہیں کہ کس نے اسمبلی میں کتنا بولا۔ ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ پانچ سال تن خواہیں، الاؤنس، مراعات، سہولتیں، بیروں ملک علاج معالجے کا خرچہ ضرور وصول کرتے رہے۔ حد تو یہ ہے کہ اسمبلی کیفے سے نہایت ارزاں قیمت پر خوراک بھی کھاتے ہیں۔ حکومت ایسا کیوں نہیں کر سکتی کہ اراکین کو تن خواہوں کے بجائے صرف ان کی حاضری اور کارکردگی پر الاؤنس ادا کیا کرے۔ شور مچاتے ہیں تو بھلے شور مچائیں لیکن قوم کے پیسے تو ضائع ہونے سے بچیں گے۔ الیکشن کمیشن کیوں نہیں یہ پابندی عائد کرسکتا کہ خون کا رشتہ رکھنے والے اور قریبی رشتہ داروں میں سے صرف ایک ہی شخص کسی ایک اسمبلی کا رکن منتخب ہو سکتا ہے۔ اور وہ شخص دو بار سے زائد منتخب ہونے کا اہل نہیں ہوگا۔ کئی ایسے خاندان ہیں جو اسمبلیوں کی رکنیت کے نام پر عملًا حکومت کے خرچے پر ہی پلتے ہیں۔ سرکاری مراعات ہی استعمال کرتے ہیں۔ اپنا ذاتی ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کرتے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب میاں ثاقب نثار نے پانی کے ذخائر کے لئے ڈیموں کی تعمیر کے لئے عوام سے چندے دینے کی اپیل کی ہوئی ہے ۔ چیف جسٹس صاحب کیوں نہیں ان منتخب 342 نمائندوں کے اثاثوں کا جائزہ لے کر انہیں صدقہ جاریہ کے عمل میں شامل کرتے ۔ سینٹ کے اراکین کو بھی اس قومی فریضہ سے محروم نہیں رکھنا چاہئے۔ انہیں موقع دیا جانا چاہئے کہ وہ بھی ثواب کے حق دار بن سکیں ۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ان تمام افراد جنہوں نے انتخابات میں حصہ لیا ہے، ان کے اثاثوں کا جائزہ لیا جائے اور ان سے کہا جائے کہ وہ رضاکارانہ طور پر ان کے پاس موجود نقد رقم میں سے چوتھائی حصہ ڈیموں کی تعمیر کے فنڈ میں جمع کرادیں۔ جس شخص کے پاس ایک کروڑ روپیہ نقد موجود ہو تو پچیس لاکھ روپیہ کا عطیہ دینے سے ان کی صحت یا دولت میں کیا کمی آئے گی؟۔ جنہوں نے پوری زندگی عوامی ٖفلاح پر کوئی رقم خرچ نہیں کی ہے، اس قومی فریضہ میں اپنا حصہ ڈال کر اپنا نام کر سکیں گے۔ جناب چیف جسٹس خاطر جمع رکھیں کہ آپ کی اپیل پر شائد ہی گنتی کے اراکین عمل کریں گے۔

مزید : رائے /کالم