51غیر معیاری لاکالجز کو بند کرنے اور 38کو وارننگ جاری کرنے کی سفارش

51غیر معیاری لاکالجز کو بند کرنے اور 38کو وارننگ جاری کرنے کی سفارش

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ کے حکم پر قائم لیگل سٹرکچرل ریفارمز کمیٹی نے ملک بھر کے 51غیر معیاری لاء کالجوں کو بند کرنے اور 38لاء کالجوں کو وارننگ جاری کرنے کی سفارش کر دی۔ لیگل سٹرکچرل ریفارمز کمیٹی کے ممبر سینئرقانون دان میاں ظفر اقبال کلانوری نے 86صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہے ۔کمیٹی نے پورٹ میں پنجاب کے 18غیر معیاری لاء کالجوں کو بند کرنے ،14لاء کالجوں کو وارننگ جاری کرنے کی سفارش کی ہے،کمیٹی نے اتفاق رائے سے پنجاب کے 8لاء کالجوں کومعیاری قرار دیا،کمیٹی نے 3نجی یونیورسٹیوں کو ایل ایل بی نہ کرانے کی بناء پر لاء کے ایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلوں سے روکنے کی سفارش کی ہے ، کمیٹی نے سندھ کے 15اور بلوچستان کے 3 غیر معیاری لاء کالجوں کو بند کرنے کی سفارش کی ہے ،رپورٹ میں سندھ کے 3مزید لاء کالجوں کا کسی یونیورسٹی سے الحاق نہ ہونے کے سبب بھی بند کرنے کی سفارش کی گئی ہے،رپورٹ میں سندھ کے 20جبکہ بلوچستان کے 4 لاء کالجوں کو فکیلٹی مکمل کرنے اورسہولیات کی فراہمی کے لئے وارننگ جاری کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے،رپورٹ میں خیبر پختونخواہ کے 21لاء کالجوں کو غیر معیاری اور صرف ایک لاء کالج کو معیاری قرار دیا گیا ہے، رپورٹ میں ایل ایل بی کی 3 سالہ ڈگری ختم کرنے اور 5سالہ ڈگری پروگرام شروع کرنے کی بھی سفارش کر گئی ہے،رپورٹ میں لاء کالجوں میں زیر تعلیم 100طالب علموں کے لئے ایک پرنسپل اور 6مستقل فکیلٹی ممبرز کے تقرر کی سفارش کی گئی ہے، بیرون ممالک سے لاء گریجوایٹس اور بیرون ملک یونیورسٹیوں سے الحاق شدہ تعلیمی اداروں سے ڈگریاں لینے والے قانون کے طالب علموں کے لئے بار کونسلز کی انرولمنٹ سے قبل تربیتی کورسز اور اضافی مضامین کا امتحان پاس کرنے کی سفارش کی گئی ہے،چیف جسٹس پاکستان مسٹرمیاں ثاقب نثار پر مشتمل بنچ 20اگست کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں اس کیس کی سماعت کرے گا۔

مزید : علاقائی